54

پیغمبر اسلام کی توہین پر مودی کے خلاف عرب ممالک میں غصہ

پیغمبر اسلام کی توہین پر مودی کے خلاف عرب ممالک میں غصہ
بھارت میں برسرِ اقتدار ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے دو ترجمانوں کی جانب سے پیغمبر اسلام سے متعلق توہین آمیز بیانات دینے پر بھارت سمیت دنیا بھر کے مسلمان برہمی کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر ’بائیکاٹ انڈیا‘ کی مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔
یہ سب چند روز قبل ایک ٹی وی مباحثے کے دوران بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما اور پھر انوین کمار جندال کے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر پیغمبر اسلام سے متعلق توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے کے بعد شروع ہوا۔
نوپور شرما کے توہین آمیز بیان پر بھارت سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں میں زبردست غم و غصہ ہے۔ سنیچر کو عمان کے مفتی اعظم شیخ احمد بن حد الخلیلی نے ٹوئٹر پر بی جے پی ترجمان کے بیان کی مذمت کی ہے۔
عمان کے مفتی اعظم شیخ احمد بن حمد الخلیلی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہندوستان میں حکمران انتہا پسند جماعت کے سرکاری ترجمان کی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی پاکیزہ بیوی ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف گستاخانہ اور فحش گالی ہر ایک کے خلاف جنگ ہے۔ زمین کے مشرق اور مغرب میں مسلمان، اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو تمام مسلمانوں کو ایک قوم کے طور پر اٹھنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
اس کے علاوہ عمان کے مفتی اعظم نے بھارتی مصنوعات سے بائئکاٹ کی اپیل بھی کی ہے۔
کویت اور قطر میں وازارت خارجہ نے بھارت کے سفیروں کو طلب کر کے احتجاجی نوٹس تھمائے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ایک بی جے پی کے رہنماؤں کے جانب سے توہین آمیز بیانات کی مذمت کی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’میں ہمارے پیارے پیغمبر کے بارے میں بیان کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔‘
انہوں نے کہا ہے کہ ’ہم یہ بار بار کہہ چکے ہیں کہ مودی کے اقتدار میں بھارت مذہبی آزادی کو ختم کر رہے اور مسلمانوں سے برا رویہ رکھ رہا ہے۔‘
جمعے کو شمالی ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور میں اس کے خلاف ہونے والے پُرتشدد مظاہروں کے دوران کم از کم 40 افراد زخمی ہو گئے۔
پولیس نے مظاہرین کے خلاف تین مقدمات درج کر کے کم از کم 36 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
گو کہ پیغمبر اسلام سے متعلق توہین آمیز بیان دینے پر نوپور شرما کے خلاف بھارت کے کئی پولیس تھانوں میں لوگوں کی شکایت پر مقدمات درج کیے گئے ہیں لیکن ان کے خلاف اب تک کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔
جب بی جے پی کے قومی جنرل سیکرٹری ارون سنگھ نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کی جماعت ’تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے‘ تو بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’بی جے پی کو بھارت کے لاکھوں مسلمانوں کے جذبات سے کوئی لینا دینا نہیں اور یہ بیان بین الاقوامی سامعین کے لیے ہے۔‘
انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا: ’عرب دنیا میں ہونے والے ردعمل نے یقیناً ڈنگ مارا۔‘
معاملہ کیا ہے؟
بھارتی ٹی وی چینل ’ٹائمز ناؤ‘ نے چند روز قبل بنارس کی گیان واپی مسجد کے وضو خانے سے ملنے والی مبینہ شیو لنگ پر ایک مباحثہ منعقد کیا تھا۔
اس مباحثے کے دوران جب بی جے پی کی قومی ترجمان نوپور شرما اور مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا نامی تنظیم کے صدر ڈاکٹر تسلیم رحمانی کے درمیان سخت لفظوں کا تبادلہ ہوا تو نوپور شرما نے پیغمبر اسلام اور ان کی اہلیہ حضرت عائشہ کے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کیے۔
نوپور شرما کے توہین آمیز الفاظ سن کر ڈاکٹر تسلیم رحمانی بطور احتجاج یہ مباحثہ چھوڑ کر چلے گئے۔
ڈاکٹر تسلیم رحمانی نے بعد ازاں بی جے پی، نوپور شرما، ٹائمز ناؤ اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ایک قانونی نوٹس بھیجا، جس کا ابھی کسی نے بھی جواب نہیں دیا ہے۔
دوسری طرف نوپور شرما اپنے بیان پر ڈٹی نظر آئیں اور دعویٰ کرتی رہیں کہ انہیں ریپ اور سر کو تن سے جدا کرنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔
انہوں نے ایک ٹی وی چینل کو بتایا کہ ’ٹی وی مباحثے کے دوران میں نے جو کچھ کہا وہ میں نے ایک مذہب کی کتابوں کے حوالے سے کہا ہے۔ اگر میں نے کچھ غلط کہا ہے تو کوئی عالم سامنے آ کر مجھے غلط ثابت کریں۔‘
کیا اسلامی ممالک بھارت کا بائیکاٹ کریں گے؟
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے سوانح نگار اور معروف سیاسی تجزیہ نگار نیلانجن مکھوپادھیائے نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے میں کہا کہ انہیں کوئی امید نہیں کہ کوئی اسلامی ملک بھارت کا حکومتی سطح پر بائیکاٹ کرے گا۔
’اسلامی یا عرب ممالک سے جو بھی دباؤ بن رہا ہے وہ سول سوسائٹی اور مقامی لوگوں کی طرف سے ہے، جبکہ وہاں کی حکومتیں بھارت کے ساتھ اپنے رشتے کو مذہب کی نہیں بلکہ اپنے مفادات کی دوربین سے دیکھتی ہیں۔‘
نیلانجن مکھوپادھیائے کہتے ہیں کہ مذہبی شخصیات پر توہین آمیز تبصروں کی پبلک ڈسکورس میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
’ایسے بیانات کی پُر زور مذمت کی جانی چاہیے۔ ایسے بیانات یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کبھی کبھی پیار محبت کی باتیں کرتی ہے لیکن اپنے کارکنوں کو مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے کھلا چھوڑ دیا ہے۔‘
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے کشمیری رہنما محمد یوسف تاریگامی نے بتایا کہ بی جے پی رہنماؤں کے اس طرح کے بیانات آئین، روایات اور انسانیت کے خلاف ہیں۔
’اس طرح کے بیانات کا مقصد ملکی عوام کو تقسیم کرنا ہے۔ ہمارے ملک کے آئین میں ایک دوسرے کی تعظیم کرنے اور ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کرنے پر زور دیا گیا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’دراصل بی جے پی حکومت کے پاس لوگوں کو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ صرف یہی چاہتی ہے کہ لوگوں میں غصہ پیدا ہو اور وہ آپس میں لڑ پڑیں۔
بھارتی مسلمانوں کی ایک معروف تنظیم آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے جنرل سکریٹری مولانا عبد الحمید نعمانی نےبتایا کہ بی جے پی کا بنیادی مقصد فرقہ وارانہ نفرت پھیلا کر دوری پیدا کرنا ہے۔
’ان لوگوں کا تحریک آزادی میں کوئی حصہ نہیں ہے، ملک کی ترقی، اس کا آئین بنانے میں بھی کوئی کردار نہیں ہے۔ یہ لوگ آئین کو اپنے حساب سے توڑ مروڑ کر پیش کر کے فرقہ وارانہ دوری پیدا کر رہے ہیں۔‘
مولانا عبدالحمید نعمانی کہتے ہیں کہ ’بدقسمتی سے مسلمانوں میں بھی بیشتر وہی لوگ ٹی وی مباحثوں میں جاتے ہیں جن کو شریعت، تاریخ و تہذیب کی کوئی جانکاری نہیں ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’پیغمبر اسلام کی ’توہین‘ ہندومت اور اس کے اصول و ضوابط کے بھی خلاف ہے۔‘
’ان کے ہاں جو اوتار واد کا سلسلہ چلا ہے اس میں دسویں نمبر پر تو پیغمبر اسلام کا ہی مقام ہے۔ ان میں جتنے بھی لوگ اسلام مخالف بیان دے رہے ہیں وہ ہندو نہیں بلکہ ہندوتوا وادی ہیں۔‘
بی جے پی کے دونوں ترجمان معطل
بھارت میں برسرِ اقتدار ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اتوار کو پیغمبر اسلام سے متعلق توہین آمیز بیانات دینے پر پارٹی رہنماؤں نوپور شرما اور نوین کمار جندال کو جماعت کی بنیادی رکنیت سے معطل کر دیا ہے۔
بی جے پی نے ایک تحریری بیان بھی جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’ہماری جماعت ہر ایک مذہب کا احترام کرتی ہے۔‘
پارٹی رہنماؤں کی معطلی اور بیان جاری کرنے کی اچانک کارروائیوں کو بعض اسلامی ممالک میں سوشل میڈیا پر چلنے والی ’بائیکاٹ انڈین پروڈکٹس‘ مہم کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا ہے۔
نوپور شرما بی جے پی کی قومی ترجمان تھیں جبکہ نوین کمار جندال پارٹی کی دہلی ونگ کے ترجمان تھے۔
جہاں نوپور شرما نے چند روز قبل ایک ٹی وی مباحثے کے دوران وہیں انوین کمار جندال نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر پیغمبر اسلام سے متعلق توہین آمیز الفاظ استعمال کیے تھے۔
بی جے پی کی مرکزی تادیبی کمیٹی کی طرف سے نوپور شرما کو بھیجے گئے ایک خط میں کمیٹی کے سکریٹری اوم پاٹھک نے لکھا ہے کہ ’آپ نے مختلف معاملات پر پارٹی موقف کے برعکس اپنی رائے کا اظہار کیا ہے جو کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے آئین کے قاعدے نمبر 10 (اے) کی صریح خلاف ورزی ہے۔‘
’مجھے آپ کو یہ بتانے کی ہدایت کی گئی ہے کہ مزید انکوائری تک، آپ کو پارٹی سے اور ذمہ داریوں (اگر آپ کے پاس ہیں) سے فوری اثر کے ساتھ معطل کیا گیا ہے۔‘
اوم پاٹھک نے ایک ایسا ہی خط نوین کمار جندال کے نام بھی لکھا ہے۔
نوپور شرما اور نوین کمار کے نام معطلی کے احکامات جاری کیے جانے سے محض ایک گھنٹہ قبل بی جے پی کے قومی جنرل سیکرٹری ارون سنگھ نے ایک بیان میں کہا کہ ان کی جماعت ’تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے‘ اور ’کسی بھی ایسے نظریے کے سخت خلاف ہے جو کسی بھی فرقے یا مذہب کی توہین کرتا ہو۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہندوستان کی ہزاروں سال کی تاریخ کے دوران یہاں ہر مذہب پھلا پھولا۔ بی جے پی تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے۔ نیز کسی بھی مذہب کی مذہبی شخصیات کی توہین کی سختی سے مذمت کرتی ہے۔‘
’بی جے پی کسی ایسے نظریے کے بھی خلاف ہے جو کسی فرقے یا مذہب کی توہین یا تذلیل کرے۔ بی جے پی ایسے لوگوں یا فلسفے کو فروغ نہیں دیتی۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’بھارت کا آئین ہر شہری کو اپنی پسند کے کسی بھی مذہب پر عمل کرنے اور ہر مذہب کی عزت اور احترام کا حق دیتا ہے۔‘
’بھارت اپنی آزادی کا 75 واں سال منا رہا ہے۔ ہم اسے ایک عظیم ملک بنانے کے لیے پرعزم ہیں جہاں سب برابر ہوں اور سب عزت کے ساتھ زندگی بسر کریں، جہاں سبھی ملک کے اتحاد اور سالمیت کے لیے پرعزم ہوں، جہاں سبھی ترقی اور ترقی کے ثمرات سے لطف اندوز ہوں۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں