21

پٹرولیم سبسڈی، ایمنسٹی اسکیم ختم، بجلی مہنگی، اخراجات کم، ٹیکس میں اضافہ، آئی ایم ایف کے مطالبات

اسلام آباد ( نیوز )آئی ایم ایف نے پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ اور ٹیکس کا نفاذ ، صنعتی ایمنسٹی سکیم کا خاتمہ ، بجلی کے گردشی قرضے کا خاتمہ اور ٹیرف میں اضافہ ، مالیاتی بچت اور ٹیکسوں میں اضافہ کے اقدامات کرنے کےپانچ مطالبات کردیئے ، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اپنی معاشی ٹیم کے ہمراہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کےلیے آج واشنگٹن روانہ ہو نگے ، وزیر خزانہ نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کہ آئی ایم ایف نے بات چیت ہوئی ہے جس میں آئی ایم ایف نے کہا ہےکہ یہ مطالبات پورے کیے جائیں آئی ایم ایف کو قرضہ پروگرام کی بحالی اورآئندہ قسط کے اجراء کےلیے قائل کرنے کی پوری کوشش کروں گا ، تمام مطالبات پر ایک دم سے عملدرآمد نہیں کیا جا سکتا اس پر بتدریج ہی آیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف سے کہا جائے گا کہ رواں مالی سال کو دو ماہ رہ گئے ہیں اس عرصے میں ٹیکس میں اضافہ اور دیگر اقدامات فائدہ مند نہیں ہونگے انہوں نے کہا کہ صنعتی ایمنسٹی سکیم کی کوئی افادیت نہیں ہے اس کو ختم کر دیا جائے گا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوںمیں اضافہ ناگزیر ہے لیکن کوشش کی جائے گی کہ عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے، پہلے آئی ایم ایف سے سنیں گے کہ وہ کیاچاہتےہے، اخراجات میں کمی اور مالیاتی بچت کےلیے پی ایس ڈی پی سے 100ارب روپے کی کٹوتی کی جاسکتی ہے ، مفتاح اسماعیل نے کہا پی ٹی آئی حکومت نے اپنے آخری دنوں میں ریلیف پیکچ دے کر معاشی سٹیک کو خطرے میں ڈال دیا ہے، یہ عمران خان کیا کر گئے ہیں اگر یہ بارودی سرنگ نہیں تو ایٹم بم ہے،انہوں نے کہا کہ عوام پر مہنگائی کے اثرات کم کرنےکے لیے صوبوں کے ساتھ مل کر اقدامات کر رہے ہیں، میری پوری کوشش ہے کہ پہلے آئی ایم ایف سے قسط مل جائے پھر وفاقی بجٹ پیش کیا جائے ، ٹیکس کی ریٹ کم ہونا چاہئے کیونکہ اس سے ریونیو پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، آئی ایم ایف نے بجلی کے ریٹ بڑھانے کی بات کی ہے، تاہم ان کا زیادہ زور پیٹرولیم پر دی گئی سبسڈی کا خاتمہ ہے، چین ہمارا بہت دیرینہ دوست ملک ہے اس سے چند روز میں دو ارب 40کروڑ ڈالر کے قرضے کی واپسی میں توسیع مل جائے گی جبکہ دو ارب ڈالر کےسیف ڈیپازٹ پر بھی توسیع مل جائے گی جو جولائی تک واپس کرنا ہے، اپریل سے جون 2022تک ہمیں چار ارب ڈالر قرضہ کی ضرورت ہوگی جس سے کرنٹ اکائونٹ خسارہ بہتر ہو جائے گا، آئی ایم ایف کے ساتھ فی الحال ساتویں جائزہ کے ہی مذاکرات ہونگے ،گزشتہ حکومت کے اقدامات سے غربت بڑھ گئی ، جی ڈی پی کم ہوا ، کرنٹ اکائونٹ خسارہ 18ارب ڈالر سے 20ارب ڈالر تک بڑھ جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں