0

پنجاب پولیس کا استحصال؟آصف بٹ

7 / 100

پاکستان کے ہر شہری اور خاص طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سجدۂ شکر بجا لانا چاہئے کہ کالعدم ٹی ایل پی کا حالیہ احتجاج ختم ہوا اور دو اطراف کی سمجھداری اور معاملہ فہمی کی وجہ سے ہمارا ملک کسی بڑے بحران اور مصیبت سے بچ گیا۔ پنجاب پولیس جو احتجاج کے دوران فرنٹ لائن پر نظر آئی، میں معاہدے کی وجہ سے اضطراب نظر آیا جو کہ کم از کم میرے لئے کچھ حیران کن تھا۔ نہ جانے کس پولیس افسر کو کیا سوجھا کہ اس نے راکھ ٹھنڈی ہونے سے پہلے ہی کالعدم ٹی ایل پی اور حکومت کے درمیان معاہدے کو حالات معمول پر لانے کی بجائے اسے پنجاب پولیس کے حوصلے پست کرنے سے تشبیہ دی۔ پنجاب پولیس کی سینئر کمانڈ نے نہ صرف اس معاہدے پر ناخوشی کا اظہار کیا بلکہ اسے قبل از وقت اور غیرضروری قرار دینے کے علاوہ پولیس فورس کی حوصلہ شکنی بھی قرار دیا۔ حکومتی فیصلے پر پولیس کی سینئر کمانڈ نے کہا ہے کہ ایسے گروپس کو پیغام دیا گیا ہے کہ ریاست کسی بھی وقت، کسی دبائو کے آگے، اپنے کسی بھی اقدام سے دستبردار ہو سکتی ہے۔ پولیس افسروں نے خبردار کیا ہے کہ کالعدم تحریک لبیک کے سینکڑوں کارکنان کی سزا کے بغیر رہائی ان افسروں کے لئے تباہ کن ہوگی جنہوں نے آپریشن میں حصہ لیا۔ یہ معاہدہ پولیس افسروں کی قربانیوں کی توہین ہے جنہیں ہمیشہ ایک قربانی کے بکرے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ پہلے پولیس فورس کو لانچ کیا جاتا ہے پھر اُنہیں گالیاں دی جاتی ہیں۔ پولیس افسروں نے کالعدم تحریک لبیک کے کارکنوں کی رہائی پر شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پنجاب میں کالعدم تحریک لبیک نے 115مقامات بلاک کئے جن میں 22مقامات لاہور میں تھے اور ان میں سے ماسوائے ایک کے، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بنا خون بہائے تمام مقامات کو کلیئر کروا لیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اتنے بڑے پیمانے پر مظاہروں کے نتیجے میں سینکڑوں ہلاکتیں ہو سکتی تھیں لیکن 4پولیس اہلکاروں نے اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے اپنی زندگیاں قربان کردیں۔ پولیس افسروں کے مطابق پولیس کی کئی گاڑیاں جلائی گئیں، افسروں کو اغوا اور اُن پر تشدد کیا گیا جس پر سنگین جرائم کے جارجز لگا کر مقدمات درج کئے گئے لیکن حکومت پولیس کی حالت زار پر لاتعلق نظر آئی اور ریاست نے ایک غیرمنطقی معاہدے کے بعد پولیس فورس کو کالعدم جماعت کے انتہا پسندوں کے سامنے دھکیل دیا۔ پولیس افسر کا یہ کہنا تھا کہ کیا اس سے زیادہ ظالمانہ اور استحصالی چیز کوئی ہو سکتی ہے۔ معاہدہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ یہ ایک ناکام ریاست کی طرف ایک قدم تھا۔

یہ تو ہو گئی پولیس افسر کی باتیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس سینئر پولیس افسر نے سروس جوائن کرتے وقت کیا سنگا پور پولیس فورس جوائن کی تھی کہ اسے پتہ نہیں تھا کہ پاکستانی ریاست کی کیا پوزیشن ہے؟ جہاں تک کالعدم ٹی ایل پی کا سوال ہے اور ان کے پولیٹیکل پاور بننے میں DEEP STATEکا کیا کردار ہے، وہ ایک علیحدہ ایشو ہے۔ یہ سینئر افسر پولیس کے استحصال کا رونا رو رہے ہیں تو ان کو پتہ ہونا چاہئے کہ تھرورلڈ کے ملکوں میں پولیس مرنے اور مارنے کے لئے ہائر کی جاتی ہے۔ ان ملکوں میں پولیس کو بس حکم دیا جاتا ہے اور پھر سیاسی مصلحتوں کے تحت فیصلے کرکے پیچھے ہٹنے کا حکم دے دیا جاتا ہے۔ پولیس گزشتہ 70برسوں سے یہی کام کرتی آرہی ہے اور اس کا فنکشن اور رول یہی رہا ہے۔ پاکستان میں اسٹیٹ کی رٹ کا ہونا یا نہ ہونا بےمعنی باتیں ہیں۔ یہاں صرف اسٹیٹ کےSURVIVAL کا ایشو ہے۔ یہاں کبھی نیچے لگنا ہے اور کبھی تھپڑ مارنا ہے۔ سیاسی کمپرومائز کرکے بات کو ختم کرنے کی حقیقت کو پولیس بھی تسلیم کرے کیونکہ یہی پاکستان کی حقیقت ہے۔ کسی سے معاہدے کرنا یانہ کرنا یہ چیزیں پولیٹیکل ڈومین میں آتی ہیں۔ معاہدے پر تنقید کرنے والے اس سینئر پولیس افسر سے چیئرمین فیڈرل پبلک سروس کمیشن یا پھر کمیشن کے انٹرویو لینے والے کسی سینئر ممبر نے یہ ضرور سوچھا ہوگا کہ آپ پولیس سروس کیوں جوائن کرنا چاہتے ہیں؟ اس افسر کے پاس چوائس تھی اگر اس کو مذکورہ بالا حقائق کا علم تھا اور تھرڈ ورلڈ کے ملکوں کے حالات کا ادراک تھا اور ان کا سامنا کرنے کا مزاج نہیں تھا تو مارنے مرنے والی پولیس سروس کی بجائے ڈی ایم جی ، کسٹمز اور فارن سروس کا آپشن استعمال کرکے ان سروسز میں چلے جاتے۔ اتنے سینئر لیول کےافسر کے منہ سے یہ جذباتی اور غیر حقیقت پسندانہ باتیں اچھی نہیں لگتیں۔ سی سی پی او لاہور شہر میں فلیگ مارچ کرتے رہے اور خود مظاہرین کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوئے۔ ان کو خراج تحسین پیش کرکے فورس کے چھوٹے سے بڑے افسر کا مورال بلند ہونے کی باتیں کرنے کی بجائے پولیس کے استحصال کی باتیں کرنا انتہائی غیر مناسب، غیر دانشمندانہ اور غیر ذمہ دارانہ سوچ کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہاں یہ بات کہنا بھی مناسب ہوگا کہ حکومت نے معاہدے کے باوجود آئی جی پنجاب پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تحفظات کے پیش نظر لاہور، گوجرانوالہ اور راولپنڈی جہاں پولیس ملازمین کےساتھ زیادہ ناروا سلوک اور زیادتیاں ہوئیں وہاں سے کالعدم ٹی ایل پی کے 3ایم پی او کے تحت گرفتار کارکنان کو نہیں چھوڑا۔ سینئر پولیس افسر کو اس حقیقت کا ادراک بھی ہونا چاہئےتھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں