23

پنجاب: تنخواہ، پنشن میں 10 فیصد اضافہ، 560ارب کا ترقیاتی پروگرام

9 / 100

لاہور(کامرس رپورٹر، وقائع نگار، سٹاف رپورٹر، نمائندہ خصوصی سے )پنجاب کا آئندہ مالی سال 2021-22 کا 2653 ارب کا ٹیکس فری بجٹ پنجاب اسمبلی میں پیش کردیا گیا جبکہ صوبائی محصولات کے لئے 405ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا،تنخواہ، پنشن میں10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے ۔صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت نے تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب کے ترقیاتی پروگرام کے لئے 560 ارب کے ریکارڈ فنڈز مختص کئے جا رہے ہیں،سپیشل پروگرامزکے لئے 91ارب، پیداوری شعبوں جن میں صنعت ، زراعت، لائیوسٹاک،ٹوورازم،جنگلات وغیرہ شامل ہیں کیلئے 57ارب 90 کروڑ روپے مختص کئے گئے ۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 295ارب روپے کا ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پروگرام اگلے دو سال میں بلا تخصیص پنجاب کے 36اضلاع میں ضرورت کے مطابق خدمات کی فراہمی کو بہتر بنائے گا، منصوبے کے تحت پسماندہ علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت ، فراہمیِ و نکاسیِ آب، بنیادی تعلیم و صحت سے متعلقہ ترقیاتی کام کئے جائیں گے جس کے لئے 99ارب روپے مختص کئے گئے ۔ بجٹ میں لاہور کی مرکزی اور تجارتی اہمیت کے پیش نظر ترقیاتی منصوبوں کے لئے 28.3ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی جا رہی ہے ۔لاہور میں بی آربی کینال پر سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے منصوبہ پر 2 ارب 75 کروڑ روپے ، لاریکس کالونی سے گلشن راوی تک سیوریج سسٹم پر 1 ارب 94کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے ۔ ایل ڈی اے کی 16 جاری سکیموں کے لئے 3 ارب 56 کروڑ 25 لاکھ روپے اور 9 جاری سکیموں کے لئے 63 کروڑ 50 لاکھ روپے رکھنے کی تجویز ہے ۔ ایل ڈی اے کی جانب سے جن نئے منصوبوں پر کام شروع ہو گا ان میں کریم بلاک علامہ اقبال ٹاؤن میں فلائی اوور اور انڈر پاس کی تعمیر، بابو صابو چوک کی بحالی، سگیاں روڈ کی بحالی و دیگر شامل ہیں۔ واسا لاہور کی 28 جاری سکیموں کے لئے 1 ارب 29 کروڑ اور 8 جاری سکیموں کے لئے 22 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز۔ واسا کی نئی سکیموں میں قذافی سٹیڈیم کے اطراف میں نشیبی مقامات سے نکاسی کا انتظام، چونگی امرسدھو، گرین ٹاؤن ، قینچی، جمیل ٹاؤن، سوڈیوال، سبزہ زار، شاہ جموں و دیگر علاقوں میں سیوریج سسٹم کی بہتری کے منصوبے شامل ہیں۔ پی ایچ اے لاہور کی 1 جاری سکیم کے لئے 20 لاکھ روپے اور 1 نئی سکیم ڈویلپمنٹ آف باغ جناح کے لئے 2 کروڑ 32 لاکھ 50 ہزار روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ۔ جاری اہم منصوبوں میں شاہ کام چوک ، گلاب دیوی ہسپتال انڈرپاس اور شیراں والاگیٹ اوورہیڈ شامل ہیں۔ حکومت لاہور میں اس سال ایک ہزار بستروں پر مشتمل جدید ترین ہسپتا ل کی تعمیر کا آغاز کرنے جا رہی ۔کاروباری طبقے کے مسائل کے حل پر خصوصی توجہ دی جا رہی ۔ آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں معاشی ترقی کے لئے 10ارب روپے کا خصوصی پیکج اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔ پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال میں بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ، اس مقصد کے لئے آئندہ بجٹ میں 51ارب روپے کا جامع پیکج مختص کیا گیا جس کے تحت بورڈ آف ریوینو کی جانب سے ٹیکسوں کی مد میں اسٹامپ ڈیوٹی کی شرح کو1فیصد پر برقرار رکھا جائے گا،40 ارب روپے کی اس رعایت کا مقصد کنسٹرکشن کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو گا۔ آئندہ مالی سال میں 10 مزید سروسز پر سیلز ٹیکس کو16فیصدسے کم کرکے 5فیصد کرنے کی تجاویز بھی پیش کی جارہی ہیں، ان نئی سروسز میں بیوٹی پارلرز، فیشن ڈیزائنزز، ہوم شیفس ، آرکیٹیکٹ، لانڈریز اور ڈرائی کلینرز، سپلا ئی آف مشینری، وئیر ہاوس، ڈریس ڈیزائنرز اور رینٹل بلڈوزر وغیرہ شامل ہیں، کال سنٹرز پر ٹیکس کی شرح کو ساڑھے 19فیصد سے کم کر کے 16فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ۔ رواں مالی سال میں ریسٹورانٹس کے لئے کیش ادائیگی پر ٹیکس کی شرح 16فیصد جبکہ بذریعہ کریڈ ٹ یا ڈیبٹ کارڈ ادائیگی پر5فیصد کیا گیا تھا، اگلے مالی سال کے لئے موبائل والٹ اور QRکوڈ کے ذریعے ادائیگی پر بھی ٹیکس کی شرح5فیصد کرنے کی تجویز دی گئی۔ محکمہ ایکسائزاینڈ ٹیکسیشن کے تحت رواں مالی سال کی طرح آئندہ مالی سال میں بھی پراپرٹی ٹیکس دو اقساط میں ادا کیا جاسکے گا۔ پراپرٹی ٹیکس اور موٹر وہیکل ٹیکس پر نافذ شدہ سر چارج پینلٹی کوآئندہ مالی سال کی صرف آخری دو سہ ماہیوں تک محدود کرنے کی تجویز دی گئی۔ ماحولیاتی آلودگی پر کنٹرول کے لئے برقی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی خریدو فروخت پر حوصلہ افزائی کے لئے الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس اور ٹوکن فیس کی مد میں 50فیصد اور 75فیصد تک چھوٹ دی جائے گی۔ 10 ارب روپے کی مجموعی لاگت سے پنجاب روزگار پروگرام کے تحت آسان شرائط پر قرضے فراہم کئے جارہے ہیں۔ پنجاب کے تما م بڑے شہروں میں ماڈل بازار تعمیر کئے جائیں گے جس کے لئے اگلے سال میں ایک ارب 50کروڑ روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے ۔نوجوانوں کو ملکی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنے کے لئے آئندہ مالی سال میں ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے تعاون سے “Improving work force Readiness in Punjab”کے نام سے شروع کیا جا رہا ہے جس کے تحت 40ہزار طلبہ کی فنی تربیت کی جائے گی، اس منصوبے کے لئے ایشین ڈویلپمنٹ بینک 100ملین ڈالر اور پنجاب حکومت 10ملین ڈالر خرچ کرے گی ۔ہم آئندہ مالی سال سے سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور توسیع کا ایک جامع منصوبہ شروع کر رہے ہیں، اس منصوبے کے تحت صوبے کے طول و عرض میں 380ارب روپے مالیت کی 1769 ترقیاتی سکیمیں شروع کی جائیں گی،اس مقصد کے لئے 58ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی جا رہی،مجموعی طور پر آئندہ سال صوبے میں سڑکوں کی تعمیر و توسیع اور بحالی کے منصوبوں پر 105ارب روپے کی ریکارڈ رقم خرچ کی جائے گی۔ پنجاب حکومت آئندہ مالی سال میں Peri Urban Housing Scheme متعارف کروا رہی ہے جس کے تحت اوسطاًایک گھر 14لاکھ روپے کی قیمت پر میسر ہوگا،اِس منصوبے کے تحت انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کیلئے 3ارب روپے کے فنڈز مختص کئے گئے ، نیا پاکستان ہائوسنگ پروگرام کے تحت ہم HUD&PHE کے محکمے کو ایک ارب روپے کے فنڈز فراہم کئے جا رہے ہیں۔ حکومت ورلڈ بینک کی معاونت سے 86ارب روپے کی لاگت سے 16پسماندہ ترین تحصیلوں میں ایک جامع منصوبے کا آغاز کر رہی ہے ، آئندہ مالی سال میں اِس پروگرام کیلئے 4ارب روپے مختص کئے جا رہے ۔ محکمہ زراعت کے ترقیاتی بجٹ کو بڑھا کر31ارب50 کروڑ روپے کرنے کی تجویز ہے ۔لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ کے لئے مجموعی طور پر5 ارب روپے کی رقم مختص کرنے کی تجویز دی ۔ صوبہ بھر میں گھریلو مرغ بانی کے فروغ کیلئے اس سال 11 کروڑ کی رقم رکھنے کی تجویز ہے ۔حکومت پنجاب نے شجرکاری کے فروغ کے لئے مجموعی طور پر 4ارب روپے کی رقم مختص کرنے کی تجویز کی ہے ۔جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے 1ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ۔محکمہ ماہی پروری کیلئے تقریباً 1 ارب روپے کی رقم مختص کرنے کی تجویز ہے ۔ پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے لئے 4 ارب 50 کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ۔ شہدا اور اُن کے پسماندگان کی مالی معاونت کیلئے 14 کروڑ 10 لاکھ روپے کی رقوم مہیا کی جائیں گی۔ پنجاب احساس پروگرام کیلئے 12 ارب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی۔لوگوں کو خطِ غربت کی لکیر سے نکالنے کیلئے 5 ارب 60 کروڑ روپے کی خطیر رقم سے معیاری سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ مذہبی سیاحت کے فروغ کیلئے 2 ارب سے زائدکی رقوم مختص کی جا رہی ہے ۔ محکمہ انسانی حقوق واقلیتی امور کے لئے 2ارب50کروڑ روپے کے فنڈز مختص کئے ہیں۔تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد اضافہ کیا جائے گا ، تاہم گریڈ 1 سے گریڈ19 کے وہ 7لاکھ 21 ہزارسے زائد سرکاری ملازمین جنہیں پہلے کسی قسم کا کوئی اضافی الائونس پیکج نہیں دیا گیا، ان کی تنخواہوں میں Special Allowanceکی مد میں مزید 25فیصد کا اضافہ کیا جا رہا،اِسی طرح ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی 10فیصداضافہ کرنے کی تجویز ہے ۔مزدوروں کی کم ازکم اجرت 17,500ماہانہ سے بڑھا کر 20,000 ماہانہ مقرر کی جا رہی ہے ۔ ہائی وے اور موٹر وے کے دونوں اطراف پر واقع کمرشل جائیدادیں رکھنے والے مالکان سے پراپرٹی ٹیکس وصول کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔زرعی انکم ٹیکس کی شرح میں 3 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی ہے ، نہری پانی کے استعمال پر چارجز میں اضافے کی بھی تجویز ہے ۔ لاہور سمیت صوبے بھر کے شہریوں پر انٹرٹینمنٹ کی مد میں جنرل سیلز ٹیکس زیرو رکھنے کی تجویز پیش کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں