47

پنجاب: بلدیاتی نظام کی منظوری

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے صوبائی کابینہ سے منظور شدہ لوکل باڈیز آرڈی ننس 2021پر دستخط کر دیے ہیں جس کی رو سے اب میئر کا انتخاب براہِ راست ہوگا۔ خیبرپختونخوا میں یہ قانون پہلے ہی منظور ہو چکا ہے جبکہ سندھ حکومت نے حال ہی میں پنجاب اور خیبر پختونخوا سے مختلف نظام متعارف کرایا ہے جس کی منظوری صوبائی اسمبلی چند روز پہلے دے چکی ہے لیکن تاحال اسے گورنر سے منظوری نہیں مل سکی۔ پنجاب میں گورنر سرور کی منظوری کے بعد نئے بلدیاتی نظام کے نفاذ کا عمل مکمل ہو گیا ہے کے پی اور پنجاب کے نظام میں تبدیلی پی ٹی آئی حکومت کے ایجنڈے کا اہم حصہ ہے جس کا اعلان وزیراعظم عمران خان نے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد ابتدائی نشری تقریروں میں کیا تھا۔ 2019میں پنجاب حکومت نے حزب اختلاف کی شدید مخالفت کے باوجود ایوان سے نئے نظام کا بل منظور کرا لیا تھا تاہم حال ہی میں اس کے مسودہ قانون میں تبدیلی کر کے اسے کابینہ سے منظوری کے بعد گورنر کو بھیجا گیا تھا جس کے مطابق اب نچلی سطح پر بھی بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے جنہیں 2019کے قانون میں غیرجماعتی کر دیا گیا تھا۔ کسی بھی ملک میں شہری سہولتوں کی اطمینان بخش فراہمی کے ضامن بلدیاتی ادارے ہوا کرتے ہیں لیکن قیام پاکستان کے 74برسوں میں ان پر اب تک تجربات ہی ہوتے آ رہے ہیں جس کے باعث بلدیاتی نظام میں استحکام نہ آ سکا۔ یہ ادارے برسوں معطل بھی رہے جبکہ بحالی کے زمانے میں سیاسی مداخلت نے انہیں کامیابی سے چلنے نہ دیا۔ اب ملکی تاریخ میں کم و بیش یہ پانچواں موقع ہے کہ بلدیاتی نظام میں تبدیلی لائی گئی ہے تاہم یہ بات اٹل ہے کہ جب تک رشوت، بدعنوانی اور اقربا پروری جیسی خامیاں موجود ہیں مطلوبہ نتائج کا حصول خواب ہی رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں