50

پاک چین معاشی اور دفاعی شعبوں میں تعاون. ڈاکٹرمرزاختر بیگ

62 / 100

گزشتہ دنوں پاک چین تعلقات کی 70ویں سالگرہ منائی گئی۔ چین سے ہمارے سفارتی تعلقات 21مئی 1951ء میں قائم ہوئے جس کے بعد دوستی کا نہ رکنے والا یہ سفر جاری ہے۔ اِن 70 برس میں ہمارے تعلقات زیادہ تر سفارتی نوعیت کے رہے اور دونوں ممالک نے سفارتی سطح پر ہر فورم پر ایک دوسرے کی کھل کر حمایت کی لیکن ہم اِن تعلقات کو معاشی تعلقات میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے۔چین جب دنیا کے نقشے پر ایک مضبوط معاشی طاقت بن کر ابھرا تو ہمیں احساس ہوا کہ ہم چین سے اپنے معاشی تعلقات بہتر کرکے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ آج میں پاک چین تعلقات کی 70ویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان اور چین کے معاشی اور دفاعی شعبوں میں تعاون کا ذکر کرنا چاہوں گا۔

فروری 2009ء میں پاکستان اور چین نے آزاد تجارتی معاہدہ کیا جس کے بعد دونوں ممالک کی تجارت جو 2002ء میں صرف 1.3 ارب ڈالر تھی، 2020ء میں بڑھ کر 20ارب ڈالر تک پہنچ گئی جس میں چین سے پاکستان ایکسپورٹ 18ارب ڈالر اور پاکستان سے چین کو ایکسپورٹ 2 ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور اس طرح پاکستان اور چین کی تجارت میں 16ارب ڈالر کا تجارتی سرپلس چین کے حق میں ہے یعنی چین پاکستان کے مقابلے میں 16ارب ڈالر زیادہ ایکسپورٹس کررہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس تجارتی عدم توازن کو کم کیا گیا اور چین نے پاکستان سے اپنے آزاد تجارتی معاہدے کے دوسرے مرحلے میں پاکستان سے 363مصنوعات جس میں ٹیکسٹائل مصنوعات بھی شامل ہیں، ڈیوٹی فری ایکسپورٹ کی سہولت دی جس سے اس سال پاکستان سے چین کی ایکسپورٹ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 31فیصد اضافہ ہوا ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تجارت میں توازن پیدا ہوگا۔ پاک چین دوستی کا اہم مرحلہ پاک چین اکنامک کوریڈور ہے۔ 20 اپریل 2015ء کو چین کے صدر زی جنگ پنگ نے پاک چین اکنامک کوریڈورکا تاریخی معاہدہ کیا جس کے تحت چین نے پاکستان میں 65ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جس میں 34ارب ڈالر کےتوانائی کے منصوبے شامل ہیں جن سے پاکستان میں 10 ہزار میگاواٹ اضافی بجلی پیدا کی گئی اور 11ارب ڈالر کے انفرااسٹرکچر اور گوادر پورٹ کے منصوبے ہیں جو مستقبل میں پاکستان اور خطے کیلئے گیم چینجر ثابت ہوں گے۔ سول نیوکلیئر انرجی جو دنیا میں سب سے صاف، سستی اور طویل المدت ٹیکنالوجی ہے، پاکستان کو فراہم کرنے میں چین کا بہت اہم کردار ہے۔ پاکستان کو سول نیوکلیئر انرجی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کیلئے مغرب کے دبائو پر جب فرانس سمیت بیشتر ممالک نے انکار کردیا تھا تو پاکستان نے چین سے 1980ء میں سول نیوکلیئر انرجی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی درخواست کی اور یکم اگست 1993ء کو پاکستان کے پہلے 300میگاواٹ سول نیوکلیئر انرجی پلانٹ چشمہ 1کی کنسٹرکشن کا آغاز ہوا اور 15ستمبر 2000ء کو پاکستان، چین کی مالی و تیکنیکی امداد سے سول نیوکلیئر انرجی پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہوگیا جس کے بعد 300,300میگاواٹ کے مزید 3 پلانٹس چشمہ 2،28 دسمبر 2005ء، چشمہ 3، 29مارچ 2011ء اور چشمہ 4 ،18 دسمبر 2011ء کو لگائے گئے جو آج کامیابی سے 1200میگاواٹ سول نیوکلیئر انرجی پیدا کررہے ہیں۔ سول نیوکلیئر انرجی کے حصول کا یہ سلسلہ جاری رہا اور پاک چین 70 ویں سالگرہ کے موقع پر وزیراعظم پاکستان نے کراچی میں 1100میگاواٹ کے سول نیوکلیئر انرجی کے پروجیکٹ کینپ K-2کا افتتاح کیا جس کے بعد 1100میگاواٹ کا ایک اور منصوبہ K-3سال کے آخر تک مکمل ہوجائے گا۔ آج پاکستان 2500 میگاواٹ سول نیوکلیئر انرجی عالمی حفاظتی معیار کے عین مطابق پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہوگیا ہے جس کا تمام تر سہرا چین اور ہمارے سائنسدانوں کو جاتا ہے۔

بھار ت کے دبائو پر جب امریکہ نے ہمیں F-16جنگی طیاروں کے پارٹس رقم کی ادائیگی کے باوجود دینے سے انکار کردیا تو چین نے پاکستان کے ساتھ JF-17تھنڈر طیارے بنانے کے مشترکہ منصوبے کا اعلان کیا جو امریکی F-16جنگی طیارے کا متبادل ہے۔25 اگست 2003ء کو دونوں ممالک نے کامیابی سے JF-17کی پہلی فلائٹ کی اور 12مارچ 2007ء کو JF-17 طیاروں کا اسکواڈ پاک فضائیہ فلیٹ میں شامل ہوا۔ واضح رہے کہ امریکی F-16جنگی طیارے کی قیمت 64ملین ڈالر اور فرانس اور یورپی یونین کے جنگی طیارے کی قیمت 50ملین یورو ہے جبکہ JF-17 ،جو جدید ٹیکنالوجی کا حامل ہے، کی قیمت 25ملین ڈالر ہے جو دیگر جنگی طیاروں سے آدھی سے بھی کم ہے اور آج ہم اسپیئر پارٹس کی فراہمی کیلئے امریکہ کے محتاج بھی نہیں۔

سی پیک کے 9اسپیشل اکنامک زونز (SEZs) میں نئی اور چین سے پرانی صنعتوں کی منتقلی اور چین کے گلوبل مارکیٹنگ نیٹ ورک سے پاکستان میں ملازمتوں کے مواقع اور ایکسپورٹس کو فروغ ملے گا۔ کورونا وبا کے دوران چین نے پاکستان کو مفت ویکسین فراہم کرکے پاکستان میں کورونا وبا پھیلنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں جب سعودی عرب نے کشیدہ تعلقات کے باعث پاکستان کو زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم رکھنے کیلئے دیئے گئے 2ارب ڈالر سافٹ ڈپازٹس کی واپسی کا مطالبہ کیا تو چین نے فوراً یہ رقم پاکستان کو فراہم کی۔ چین اور پاکستان کی دوستی 70سال میں ہر آزمائش میںپوری اتری ہے۔ ہمیں پاک چین دوستی پر ناز ہے۔ چین مستقبل قریب میں دنیا کی سب سے بڑی معاشی قوت بننے جارہا ہے جو ہمارے لئے بھی فخر کی بات ہے۔ ہمیں دوست ملک کی ترقی سے فائدہ اٹھاکر اپنے دیرینہ سفارتی تعلقات کو معاشی ترقی کیلئے استعمال کرنا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں