38

پاک چین دوستی کی روشن راہیں اور نئی منزلیں. محمد عبد اللہ حمید گل

یکم اکتوبر 1949ء کو طویل خانہ جنگی کے اختتام پر عوامی جمہوریہ چین نے آزادی حاصل کی تھی۔ اس کے بعد وہ مختلف مراحل سے گزرتا‘ ترقی کی منازل طے کرتا آج معاشی طور پر دنیا کی بڑی طاقتوں کی صف میں شامل ہو چکا ہے۔ مائوزے تنگ کو جدید چین کا بانی سمجھا جاتاہے۔ چین کو ترقی دینے میں ان کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ چین کے لوگ افیون کے نشے کی لت میں مبتلا تھے لیکن مائوزے تنگ نے اپنی قوم سے یہ لت چھڑا کر اسے دنیا کی محنتی قوم بنادیا۔ چین کے رہنما مائوزے تنگ بہترین انگلش جاننے کے باوجود کبھی انگریزی بولتے نہیں دیکھے گئے، یعنی اپنی زبان سے محبت بھی چین کی ترقی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ چین کے عظیم رہنما چیئرمین ماؤزے تنگ نے دارالحکومت بیجنگ کے مرکز میں واقع تھیان من کے مرکزی دروازے کے چبوترے پر کھڑے ہوکر عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد پاکستان وہ پہلا ملک تھا جس نے چین کی حیثیت کو تسلیم کیا تھا۔ اس کے دو برس بعد‘ 21 مئی 1951 ء کو چین اور پاکستان کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔ چین کیلئے اقوام متحدہ کی رکنیت حاصل کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں سب سے بڑھ کر تھیں۔ چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق بھی رکھتا ہے۔ مغرب کی مخاصمت کی وجہ سے چین دو عشروں تک اقوام متحدہ میں اپنے حق سے محروم رہا، اس ضمن میں25اکتوبر 1971 ء کا دن چین کی سفارتی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت کے ساتھ چین کی مراعات بحال کی تھیں۔ چین کی اقوام متحدہ میں یہ غیر معمولی کامیابی دنیا کے دیگر ترقی پذیر ممالک کیلئے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ چین ہر فورم پر ترقی پذیر ممالک کے حقوق کیلئے آواز اٹھاتا رہا ہے۔ مراعات کی بحالی کے بعد چین چھوٹے اور کمزور ممالک کے تحفظ کیلئے مؤثر کردار ادا کررہا ہے؛ تاہم چین کو عالمی تنہائی سے باہر نکالنے اور بین الاقوامی معاملات میں متحرک کرنے میں پاکستان کے کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب چین نے بھی ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا خوب ساتھ نبھایا ہے۔ اس نے ہمیشہ غیر مشروط طور پر دوستی نبھائی اور کبھی پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا مرتکب نہیں ہوا۔ پاکستان کو معاشی و دفاعی لحاظ سے خود کفیل بنانے میں بھی چین کا کردار کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہے۔ مسئلۂ کشمیر پر بھی وہ دوٹوک انداز میں پاکستان کے دیرینہ اور اصولی موقف کی مسلسل حمایت کرتا چلا آ رہا ہے اور پاکستان کی جغرافیائی وحدت اور سلامتی کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم ستون تصور کرتا ہے۔
1962ء میں بھارت اور چین میں سرحدی جنگ ہوئی جس میں چین کاپلہ بھاری رہا۔ 28 اکتوبر 1962ء کو امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے ایک ضروری پیغام صدر ایوب خان کے نام بھیجا کہ وہ بھارت پر چین کے حملے کو پورے جنوبی ایشیا پر حملہ خیال کریں۔ پاکستان نے اس موقع پر بڑا محتاط جواب دیا کہ جب تک کشمیر کا مسئلہ معلق ہے‘ بھارت کے لیے امریکا کی بھاری فوجی امداد پاکستان کیلئے باعثِ تشویش ہے۔ امریکی دبائو کے باوجود پاکستان نے اس موقع پر چین کی مخالفت سے اجتناب کیا۔ یہ فیصلہ امریکا کو پسند نہ آیا اور اس نے پاکستان پر مختلف طرح کا دبائو بڑھانا شروع کر دیا۔ مارچ 1964ء میں چین اور پاکستان کے درمیان شاہراہ ریشم بنانے کا معاہدہ ہوا اور جون 1964ء میں امریکا نے پاکستان کو دی جانے والی امداد روک دی مگر پاکستان نے پروا نہ کی اور پاک چین دوستی کے عمل کو جاری رکھا۔ آج بھی پاک چین دوستی کا سبق یہی ہے کہ برابری کی بنیاد پر تعلقات ہونے چاہئیں۔ پاکستان کو امریکا‘ مغرب یا کسی بھی دوسرے ملک کا دست نگر بن کر نہیں رہنا۔ بھارت‘ جواپنی برتری کے گھمنڈ میں مبتلا تھا، کو ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد پاک چین دوستی کی اصل اہمیت کا اندازہ ہوا۔ اس موقع پر امریکا اور اس کے یورپی حلیفوں نے پاکستان کی معاشی امداد بند کر دی جبکہ پاکستان کو اسلحے کی فروخت بھی روک دی۔ بدلے میں چین نے نہ صرف پاکستان کی مالی امداد میں اضافہ کیا بلکہ فوجی امداد بھی بڑھا دی۔ پی آئی اے کے جہاز کوہ قراقرم کے اوپر سے صرف مسافروں ہی کو لے کر پرواز نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے ذریعے فوجی سازو سامان بھی آنے لگا تھا۔ جب بھارت نے پاکستان پر زیادہ دبائو ڈالا تو چین نے اسے الٹی میٹم دیا کہ باز رہو! ورنہ ہم وہ بکریاں حاصل کرنے کے لیے تم پر چڑھائی کر دیں گے جو تم 1962ء کی جنگ میں چین کی سرحدوں سے اُٹھا کر دہلی لے گئے تھے۔ چین کے اس الٹی میٹم سے بھارت نے فوراً اپنے رویے میں لچک پیدا کر لی۔ پاک چین دوستی آگے چل کر نئے امکانات کا موجب بنی۔ ویتنام کی جنگ میں اپنی شکست اور چین اور روس کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر امریکا نے جب چین سے دوستی کا فیصلہ کیا تو اس فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اس نے چین کے گہرے دوست پاکستان سے درخواست کی اور پھر پاکستان ہی امریکا اور چین کے مابین ایک پُل بنا۔ 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ امریکہ نے اس موقع پر بھرپور بیوفائی کی؛ تاہم چین نے بنگلہ دیش کو اس وقت تک اقوام متحدہ کا رکن نہیں بننے دیا جب تک اس نے تمام جنگی قیدیوں کو رہا نہیں کر دیا۔
چین کے سابق صدر ہوجن تائو نے اپنے دورۂ اسلام آباد کے موقع پر کہا تھا ”پاک چین دوستی نہ صرف سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے بلند ہے بلکہ یہ شہد سے زیادہ مٹھاس پر مبنی ہے‘‘۔ 22 تا 23 مئی 2013ء کو اپنے دورۂ پاکستان کے دوران اس مثالی دوستی کا تذکرہ کرتے ہوئے چینی وزیراعظم نے چند الفاظ کا اضافہ کرتے ہوئے اس دوستی کو ”سونے سے زیادہ قیمتی اثاثہ‘‘ قرار دیا تھا۔ عالمگیر وباکورونا پرچین نے نہایت جانفشانی سے سخت حفاظتی اقدامات کی بدولت نہ صرف قابو پایا بلکہ ایک سال کے قلیل عرصے میں مہلک وبا کے خلاف ویکسین بنا کر انسانیت کی بقاو تحفظ کیلئے اہم فریضہ انجام دیاہے۔ پاکستان کو اس جان لیوا مرض سے بچائو کے لیے ویکسین کا تحفہ بلا شبہ چین کی پاکستان سے دوستی کا بے مثال اظہار ہے۔ پاک چین دوستی اپنی مثال آپ ہے۔ یہ عظیم رشتہ کبھی بھی عالمی و علاقائی بدلتی صورتحال کے تابع نہیں رہا۔
چین کی ترقی کا سب سے اہم راز یہ ہے کہ چین کے جتنے بھی رہنما آئے‘ انہوں نے اپنی پالیسیوں کے باعث چین کو ترقی کے نئے سے نئے راستے پر ڈالا‘ساتھ ہی ساتھ یہ کوشش بھی جاری رکھی کہ چین کی ترقی پسندانہ پالیسیا ں منجمد نہ ہو نے پائیں تا کہ جو نئے چیلنجز آئیں‘ ان کا مقابلہ کیا جاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ چین آج اس مقام پر کھڑا ہے۔ بلاشبہ چین نے عالمی و علاقائی تناظر میں سفارتی شعبے میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ون بیلٹ ون روڈ مشترکہ مفاد کی ایک بہترین مثال ہے جس سے خطے میں امن، استحکام و ترقی کو فروغ ملے گا۔ چین نے گزشتہ 25 برسوں کے اندر اپنے 50 کروڑ شہریوں کو خطِ افلاس سے نکال کر متوسط طبقے میں لا کھڑا کیا ہے۔ یہ اتنا بڑا اقتصادی کرشمہ ہے جس پر دنیا بھر کے معاشی ماہرین انگشت بدنداں ہیں۔ اتنی برق رفتاری اور اتنے قلیل عرصے میں کبھی تاریخ میں کسی قوم، کسی تہذیب نے ایسی ترقی نہیں کی جو آج چین کا خاصہ ہے۔ اب یہ بات شک سے بالاتر ہے کہ اگر چین ایسے ہی ترقی کرتا رہا تو جلد ہی اسے دنیا کی سپر پاور کے طورپر تسلیم کرنا پڑے گا۔ اس عظیم کامیابی کے پیچھے جہدِ مسلسل، اولوالعزمی، مستقل مزاجی اور قربانی کے حوصلے کی ایک طویل داستان پوشیدہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں