89

پاک فوج کے خلاف مہم. مفتی گلزار احمد نعیمی

پاک فوج کے خلاف مہم

مفتی گلزار احمد نعیمی

اس ملک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جو سیاسی پارٹی اقتدار کے ایوانوں میں ہوتی ہے اسے سب کچھ ٹھیک نظرآرہا ہوتا ہے اور اسکی نظر میں فوج آئی ایس آئی اورنیب سب ٹھیک ہوتے ہیں، ان میں کسی قسم کی کوئی کجی نہیں ہوتی لیکن جونہی وہ اقتدار کے ایوانوں سے محروم ہوتے ہیں تو یہ مذکورہ ادارے ہی کیا پورا ملک اسے کرپٹ اورقانون شکن نظر آتا ہے۔یہ لوگ سیکورٹی کے اداروں کے کاندھوں پربیٹھ کر اقتدار کے ایوانوں پر قابض ہوتے ہیں لیکن جونہی یہ ادارے انکو انکی بد اعمالیوں کی طرف توجہ دلاتے ہیں تو یہ فوج اور دیگر امن وامان قائم رکھنے والے اداروں پر ہر لحاظ سے حملہ آور ہوجاتے ہیں۔
آجکل بالکل ایسے ہی ہورہا ہے جو شخص فوج کی بیساکھیاں استعمال کر کے اقتدار تک پہنچا اور جسکی سر تا پا پرورش فوج کے گملے میں ہوئی وہ فوج پر حملہ آور ہے۔کبھی الیکشن میں انجیئرنگ کا الزام دھرتا ہے تو کبھی قانون شکنی کا۔اگر وہی ادارہ ان صاحب کو چوتھی بار وزیراعظم کی کرسی پر بٹھا دیتا تو فوج بھی بہت اچھی ہوتی اور الیکشن بھی فیئر ہی تھے۔چونکہ وہ اور ان کے حواری ایوان اقتدار میں نہیں ہیں اس لیے ملک کا نظام درہم برہم ہے، حکومت اور فوج ان کے بقول ملک دشمنی کررہی ہے اور عوام دشمن ہے۔جو لوگ اس ملک میں بین الاقوامی ایسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر چل رہے ہیں انکی خدمت میں گزارش ہے کہ برائے کرم استعمار اور صیہونیت کے آلہ کار بننے کے بجائے اپنے اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔عوام الناس ایسے لوگوں کے جال میں نہ پھنسیں جو بین الاقوامی سازشوں کے پاکستان میں نمائندہ ہیں۔ بین الاقوامی دنیا کے جابر کھلاڑی اس ملک کو لیبیا اور شام بنانا چاہتے ہیں، ہمیں انکے عزام کو خاک میں ملانا ہوگا۔یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ اگر اس ملک کی فوج مضبوط نہ ہوتی تو آج ملک کئی ٹکڑوں میں بٹ چکا ہوتا۔خاکم بدہن۔۔۔۔یہ فوج ہی ہے جس نے ملک کو متحد رکھا ہوا ہے۔اس لیے میں بڑے شرح صدر سے کہتا ہوں کہ اس ملک میں فوج جتنی مضبوط ہوگی پاکستان اتنا ہی مضبوط ہوگا۔
ایک بات میں اپنے قارئین کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں اور یہ بات گزشتہ اتوار کوجماعت اہل حرم پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں ہونے والی “اتحاد امت مصطفی کانفرنس” کے تقریبا ہر مقرر نے کہی کہ امریکہ جہاں جاتا ہے وہ سب سے پہلے اس ملک کی حکومت اور فوج کو کمزور کرتا یے اور پھر اس ملک کے وسائل پر ہاتھ صاف کرتا ہے۔اسکا سب سے بڑا مطمع نظر فوج کو کمزور کرنا ہوتا ہے۔ جب کسی ملک کی فوج کمزور ہوجائے تو پھر اس کی ہر چیز ہاتھ میں آجاتی ہے۔وہ عراق، شام، افغانستان، لیبیا مصراور سعودی عرب الغرض جہاں جہاں گیا اس نے سب سے پہلے فوج پر کنٹرول حاصل کیا۔اپنے کٹ پتلی حکمرانوں، وزراء اعظم یا بادشاہوں کی صورت میں بٹھائے اور پھر وسائل پر ہاتھ صاف کیے۔اتحاد امت مصطفی کانفرنس میں آنے والے تمام مندوبین اس بات پر متفق تھے کہ ہم اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور اسکی ہر قسم کی مالی اخلاقی اور جانی مدد کرنے کے لیے تیاررہیں گے۔ہم حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور اسکو کمزور نہیں ہونے دیں گے۔یہ نقطہ نظر بشمول سیاستدانوں کے سب کو سمجھنا ہوگا کہ فوج اور حکومت اگر مستحکم ہے تو پاکستان محفوظ ہے اور اگر یہ دو ادارے کمزور ہوئے تو پاکستان غیر محفوظ ہوجائے گا۔اگر ہم نے وطن عزیز کو محفوظ رکھنا ہے تو پھر فوج کا ساتھ دینا ہوگا۔آج لیبیا اور مصر میں فوج نہ ہونے کے برابر ہے نتیجتا کوئی مستحکم حکومت کا ان ممالک میں وجود نہیں یے۔استعمار ان امیر ترین ممالک کے بیشتر وسائل لوٹ چکا ہے اور مزید لوٹ رہا ہے۔سعودی عرب میں عملا امریکہ کا قبضہ ہوچکا ہےاور امریکی صدر واضح طور پر سعودی بادشاہوں کو کہہ چکا ہے کہ تم ہمارے بغیر ایک ہفتہ بھی نہیں نکال سکتے۔سعودی عرب کے بھی تمام وسائل امریکہ کی تجوری میں جارہے ہیں۔
اسلامی دنیا میں دو ممالک ایسے ہیں کہ جنکی افواج الحمد للہ بہت ہی مضبوط ہیں ایک میرا وطن پاکستان اور دوسرا ایران۔ابھی تک ان دونوں ممالک کا امریکہ صرف اس لیے کچھ نہیں بگاڑ سکا کہ انکی افواج بہت مضبوط ہیں. یہ ابھی تک امریکہ اور دشمن قوتوں کے مقابلے میں صرف اس لیے ڈٹےہوئے ہیں کی انکی افواج بہت مضبوط ہیں ۔جب تک یہ مضبوط رہیں گی وہ کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔
سوشل میڈیا اورالیکٹرانک میڈیا پر فوج کے خلاف مہم زوروں پر ہے۔سوشل میڈیا کے متعدد پیجز پر آئے دن افواج پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی ہوتی رہتی ہے۔ہمیں ان پیجز کے مقابلے میں افواج پاکستان کی حمایت میں پیجز بنا کر دفاع کرنا ہوگا۔سوشل میڈیا پر ہمیں فوج کا نمائندہ بن کر کام کرنا چاہیے کہ یہی حق ہے,یہی وقت کا تقاضہ ہےاور یہی پاکستان کو محفوظ کرنے کا راستہ ہے۔الیکٹرانک میڈیا پر بیٹھے چند زرخرید اینکرز کے تجزیات کی طرف توجہ مت کریں۔آپ اپنی آراء کو ان کے زہر آلود تبصروں پر استوار نہ کریں بلکہ ایسی رائے قائم کریں جو پاکستان اور افواج پاکستان کے حق میں بہترین ہو۔آجکل سوشل میڈیا کا دور ہے اور پاکستان دشمن ممالک خصوصا امریکہ اور بھارت پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف اس میڈیا کو بھرپور طریقہ سے استعمال کررہے ہیں۔بطور پاکستانی ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کا مقابلہ کریں۔اگر ہم روزانہ صرف ایک گھنٹہ پاکستان اور افواج پاکستان کے حق میں سوشل میڈیا پر آواز اٹھائیں تو یقینا یہ پاکستان کی بہت بڑی خدمت ہوگی اور یہ ایک ایسی عبادت ہے کہ جسکا اللہ کے ہاں بڑا اجر ہے۔ ہم اسےعبادت سمجھیں۔
فوج نے ملک کے دفاعی نظام کو ناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔اسلامی دنیا میں صرف پاکستان کو ایٹمی قوت ہونے کا فخر حاصل ہے۔آج عالم اسلام کا ہر جوان بجا طور پر فخر کرتاسکتا ہے کہ ملت اسلامیہ ایک ایٹمی ملت ہے۔آج پاکستان ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک مار کرنے والے بلیسٹک میزائل تیار کرچکا ہے۔یہ قابل فخر کارنامہ ہماری قابل فخر فوج نے ہی سرانجام دیا ہے۔
آپ سیاست دانوں کی فوج کے خلاف ہرزہ سرائیوں پر کان نہ دھریں۔پاک فوج زندہ باد ہے تو پاکستانی قوم زندہ باد ہےاور پاکستان زندہ باد ہے۔
طالب دعاء
گلزاراحمد نعیمی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں