59

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا بیٹا اور وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کا بھائی اشتہاری قرار

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا بیٹا اور وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کا بھائی اشتہاری قرار
پنچاب کے صوبائی دارالحکومت کی ایک عدالت نے وزیراعظم شہباز شریف کے بیٹے اور وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کے بھائی سلمان شہباز کو سولہ ارب روپے کی منی لانڈرنگ میں طلب کیے جانے کے باوجود ہیش نہ ہونے پر اشتہاری قرار دے دیا ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے مقدمات پر سماعات کرنے والی سپیشل کورٹ سینٹرل کے جج اعجاز اعوان نے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں وزیر اعظم کے بیٹے سلمان شہباز کو اشتہاری قرار دیا۔
ایف آئی اے نے وزیراعظم شہباز شریف ان کے بیٹے وزیراعلی پنچاب حمزہ شہباز اور سلمان شہباز سمیت دیگر ملزموں کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات میں مقدمہ درج کیا تھا. وزیر اعظم اور ان کے بیٹوں کے خلاف نومبر 2020 میں منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام لگایا گیا تھا۔ جمعہ کو سماعت کے دروان وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز پیش ہوئے تاہم ان کے والد شہباز شریف سرکاری مصروفیات کی وجہ سے پیش نہ ہوسکے۔

عدالت نے سلمان شہبار کی عدم پیشی پر سلمان شہباز اور ان کے ساتھ شریک ملزم طاہر نقوی کواشتہاری قرار دے دیا۔ عدالت نے اس سے پہلے دو ملزموں کے پیش نہ ہونے پر انہیں اشتہاری قرار دے دیا. اس سے پہلے عدالت نے 28 مئی کو وزیر اعظم کے بیٹے اور دو شریک ملزموں طاہر نقوی اور ملک مقصود کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے.
سپیشل کورٹ سینٹرل کو بتایا گیا کہ سلمان شہباز کو جاری کردہ وارنٹ کی تعمیل نہیں ہوسکی کیونکہ وہ بیرون ملک ہیں. عدالت نے دونوں ملزموں کو اشتہاری قرار دینے کے ساتھ ساتھ سلمان شہباز اور طاہر نقوی کی جائیداد کی تمام تر تفصیلات بھی مانگ لی۔ عدالت نے اسی مقدمے میں ایک اور شریک ملزم ملک مقصود کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے لیکن اُن کا گزشتہ ماہ متحدہ امارات میں انتقال ہوگیا اور ان کی تدفین لاہور میں کی گئی. سپیشل کورٹ سینٹرل کے جج اعجاز اعوان نے آئندہ سماعت پر ملک مقصود کے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ کی بھی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز ضمانت پر ہیں اور اسی مقدمے کی سماعت کے دوران دونوں باپ بیٹا اپوزیشن لیڈر سے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب بن چکے ہیں. اب تک منی لانڈرنگ کے اس مقدمے میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد نہیں ہوسکی. عدالت نے فرد جرم عائد کرنے کیلئے تاریخ مقرر کی تھی لیکن فرد جرم عائد نہیں ہوسکی۔ جس دن ان دونوں پر فرد جرم عائد ہونا تھی اس دن شہباز شریف نے عدالت میں پیش ہونے کے بجائے وزیر اعظم کا حلف اٹھایا تھا۔

یاد رہے کہ سلمان شہباز جن کو عدالت مفرور قرار دیا ہے وہ وزیر اعظم شہباز شریف کے ہمراہ ترکی کے سرکاری دورے پر ان کے ساتھ موجود تھے۔ اس وقت سوشل میڈیا پر ایک تصویر بھی حکمران جماعت کی طرف سے جاری کی گئی تھی جس میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان کی ضیافت میں وزیر اعظم کی میز پر بیٹھے تھے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے پیش نہ ہونے پر ان کی پیشی سے استثنیٰ کے لیے درخواست دائر کی گئی جس میں بتایا گیا کہ وزیراعظم اور اس مقدمے کے ملزم سرکاری مصروفیت کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے اس لیے انہیں ایک مرتبہ پیشی سے استثنیٰ دیا جائے ۔۔ عدالت نے شہباز شریف کی متفرق درخواست منظور کر لی اور انہیں جمعہ کی عدالتی پیشی کیلئے استشنی دے دیا ۔۔ عدالت نے ہدایت کی کہ شہباز شریف ائندہ سماعت پر پیش ہوں ۔۔ وزیر اعظم شہباز شریف، ان کے بیٹوں سمیت شریک ملزموں کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزام میں مقدمہ پر مزید کارروائی 30 جولائی کو ہوگی.

اپنا تبصرہ بھیجیں