153

پاکستان کے مستقبل کا نقشہ

پاکستان کے مستقبل کا نقشہ
مظہر برلاس

ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب مینار پاکستان پر لاکھوں لوگ جمع تھے۔ جتنے لوگ مینار پاکستان کے اندر تھے اس سے تین گنا زیادہ لوگ جلسہ گاہ سے باہر تھے۔ یہی نہیں اس کا دائرہ دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ لاہور کا جلسہ دیکھنےکیلئے کراچی میں جو لوگ جمع تھے وہ ایک الگ جلسے کا سماں تھا ۔ کراچی میں اتنا بڑا جلسہ پی ڈی ایم کی کوئی جماعت کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔ ایک اجتماع جلسے کی صورت میں پشاور میں تھا اور یہی صورتحال اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں تھی۔ پورے ملک کے ڈھائی سے تین درجن شہروں میں جلسوں کی صورت میں لوگ اسکرینوں پر لاہور کا جلسہ دیکھ رہے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ پورے برصغیر میں اتنا بڑا سیاسی جلسہ اس سے پہلے نہیں ہوا۔ اس جلسے کو سوشل میڈیا پر 90لاکھ افراد لائیو دیکھ رہے تھے۔ اس کی ریکارڈنگ پتا نہیں کتنے لوگ دیکھیں گے ۔ بہرحال یہ جلسہ یادگار بھی تھا اور ریکارڈ ساز بھی۔ دنیا بھر کے ٹی وی چینلز نے اس عوامی سمندر کو کہیں نہ کہیں جگہ دی بلکہ عرب دنیا کے اینکرز تو عمران خان پر فریفتہ نظر آئے ۔

اتوار کے دن پیر و مرشد بودی سرکار تشریف لائے ۔ اب کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ بودی سرکار کو بودی بادشاہ کہا کروں کیونکہ حضور اکثر و بیشتر غصے کی حالت میں رہتے ہیں گویا ان کی آمد سے جلالی ماحول بن جاتا ہے ۔ میری کچھ مصروفیات تھیں مگر جب بودی سرکار آ جائیں تو پھر کون سی مصروفیات ۔ وہ تو کہتے ہیں بس بیٹھ جاؤ ، سب کام ختم۔ افطاری سے پہلے تو قدرے خاموش رہے لیکن افطاری کے بعد انہوں نے اپنا جلال دکھانا شروع کیا۔ کبھی کسی ملازم سے کہتے کہ چائے ابھی نہیں آئی اور کبھی کسی ملازم کی حقہ تیار نہ کرنے پر شامت آ جاتی۔ خیر چائے بھی آگئی اور حقہ بھی آگیا۔ بس دو کش لینے کے بعد کہنے لگے ’’ تم نا شکرے لوگ ہو۔ بہت نا شکرے لوگ ‘‘میں نے ڈرتے ڈرتے عرض کیا کہ سرکار ہم نے کون سی نا شکری کر دی ؟ بودی سرکار کی آنکھیں غصے سے سرخ ہو گئیں اور پھر وہ بولے ’’ خدا نے تم لوگوں کو ایک اچھا حکمراں دیا تھا ۔ تم نا شکرے لوگوں نے اسے ساڑھے تین سال بعد ہی گھر بھیج دیا۔ تمہارے سارے مافیاز اس کےخلاف اکٹھے ہو گئے۔ تمہیں تو خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے تھا ، مگر تم نا شکرے لوگ ہو۔ اب تمہاری گلیوں میں بھوک ہچکیاں لیتی ہے۔ اب تمہارے شہروں میں پرس چھینے جاتے ہیں۔ اب تمہارے رستوں پر چوریاں ہوتی ہیں۔ اب تمہارے سارے لوگ بھوک سے بلکتے ہیں۔ آٹے کی تلاش میں لوگ کچلے جاتے ہیں۔ موت پھر رہی ہے اب ہر سو پورے ملک میں۔ بربادیوں کے ڈیرے ہیں، آبادیاں بکھر گئیں۔ معیشتوں کی ناؤ کے سامنے گرداب ہیں۔اک بھنور ہے ملک میں، اک بھونچال ہو جیسے۔’’بودی سرکار دم بھر کیلئےخاموش ہوئے تو ایک ملتانی نوجوان بولا کہ سرکار ہم نو جوانوں کا کیا مستقبل ہے؟ بودی سرکار نے نوجوان کی طرف غور سے دیکھا اور پھر گویا ہوئے‘‘ تمہارے مستقبل کا نقشہ اس دیس کے مقبول ترین لیڈر عمران خان نے پیش کر دیا ہے ۔ وہی اسے سنوارے گا ۔ باطنی قوتیں اس کا فیصلہ کر چکی ہیں ۔ اس کے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو پاش پاش کر دیا جائے گا ۔ اس کی مخالفت میں آنے والے ریزہ ریزہ ہو جائیں گے ۔ وہ پاکستان کا ہی نہیں ، عالم اسلام کا عظیم رہنما ہے۔ لوگ اس کے دیوانے ہیں ۔ اس کا فیصلہ ہو چکا ہے ۔ وہی آئے گا ۔ الیکشن بھی ہوں گے ، اقتدار بھی اسے ملے گا اور وہ ملک سنوار کے رکھ دے گا ۔ لاہور کے جلسے میں عمران خان نے اپنے مخالفین کو رگیدا نہیں ۔ اس نے دس نکاتی ایجنڈا پیش کر دیا ہے ۔ یہی اس ملک کے مسائل کا حل ہے۔ کسی دوسرے کے پاس تو کوئی پروگرام بھی نہیں ۔ اس کے دس نکات پر ذرا غور تو کیجئے

1۔ اوورسیزپاکستانیوں کو ملک کے اندر سرمایہ کاری کیلئےسازگار ماحول فراہم کرنا

2۔ طویل مدتی برآمدات میں بتدریج اضافہ کرنا ۔

3۔ ملک بھر میں سیاحت کو فروغ دے کر نہ صرف ڈالر کمانا بلکہ لوگوں کو روزگار فراہم کرنا۔

4۔ ملک میں وسیع پیمانے پر معدنیات کے ذریعے ملکی آمدنی میں اضافہ کرنا۔

5۔ ملک میں چھوٹی اور درمیانی صنعت کو فروغ دینا اور کاروبار کے وسیع مواقع پیدا کرنا ۔ ایکسپورٹ کے ذریعے زرمبادلہ میں اضافہ کرنا۔

6۔ زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنا ۔ زرعی پیداوار میں اضافے کے ساتھ خود کفالت اور زرعی برآمدات کے ذریعے ملکی آمدنی میں اضافہ کرنا۔

7۔ ملک کے خسارے کا شکار بڑے سرکاری اداروں کی ری اسٹرکچرنگ کر کے نفع بخش بنانا۔

8۔ نادرا کے ساتھ مل کر ٹیکس نیٹ کے دائرے کو وسیع کر کے ملکی آمدنی کو بڑھانا۔

9۔ منی لانڈرنگ روک کر سرمائے کو محفوظ بنانا۔ کرپشن کو روکنا۔

10۔ غریب اور پسماندہ افراد کیلئےوسیع پیمانے پر فلاحی پروگرام جس میں ہیلتھ کارڈ ۔ نوجوانوں کیلئے بلا سود قرضے ۔ چھوٹے کاروباری افراد کیلئے جدید ترین اسٹال۔ گھریلو ملازمین کیلئےکنٹریکٹ بیسڈ ملازمتیں ۔ احساس پروگرام کی توسیع ۔ غریب گھرانوں کیلئےراشن پروگرام ۔ گھر بنانے کیلئے بلا سود قرضے ۔ کچی آبادیوں کیلئےجدید سہولتوںسے آراستہ مستقل گھر اور اس کے علاوہ بے شمار فلاحی منصوبے شامل ہیں ۔ کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ عمران خان نے پاکستان کا مختلف ملکوں سے موازنہ کیسے کیا۔ تیزی سے ترقی کرنے والے ملکوں کا نقشہ کیسے پیش کیا اور ملک کو مسائل سے نکالنے کیلئےکس طرح پر عزم انداز میں دس نکاتی پروگرام پیش کیا۔ یہی آپ کی ترقی کا راستہ ہے ۔ یہی آپ نوجوانوں کے خوشگوار مستقبل کی تصویر ہے ۔ یہی پاکستان کا حسین چہرہ ہے۔ آپ کو پھر سے بتا رہا ہوں باطنی قوتیں عمران خان کے حق میں فیصلہ کر چکی ہیں ۔پاکستان سے محبت ہے تو اس کے پرچم کو مضبوطی سے تھام لو‘‘۔

یہ تو تھے بودی سرکار کے خیالات ۔ انکی گفتگو کے بعد مجھے سرور ارمان کے اشعار ٹھہر ٹھہر کے یاد آ رہے ہیں

زندگی خشک ہے ویران ہے افسردہ ہے

ایک مزدور کے بکھرے ہوئے بالوں کی طرح

زخم پہنے ہوئے معصوم بھکاری بچے

صفحہ دہر پہ بکھرے ہیں سوالوں کی طرح

اپنا تبصرہ بھیجیں