24

پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی میں ہر قیمت پر مادر وطن کا دفاع ناگزیر اولین فریضہ قرار دیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے قومی سلامتی پالیسی کا اجراء کردیا، 100 سے زائد صفحات پر مشتمل پالیسی کا آدھا حصہ پبلک کیا گیا۔

اس حوالے سے جمعہ کو وزیراعظم آفس میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، تمام سروسز چیفس، سینئر سول و فوجی حکام، وفاقی وزراء ، قومی سلامتی کے مشیر، ارکان پارلیمنٹ، ماہرین، تھنک ٹینکس میڈیا اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
سیکیورٹی پالیسی کے نکات میں کہا گیا ہے کہ دشمن کی جانب سے کسی بھی وقت بطور پالیسی آپشن طاقت کے استعمال کے ممکنات موجود ہیں، اگر جنگ مسلط کی گئی تو مادر وطن کے دفاع کے لیے قومی طاقت کے تمام عناصر کیساتھ بھرپور جواب دیا جائے گا۔

معیشت، فوجی اور انسانی سیکیورٹی کے نکات پر مشتمل ہے جس میں معاشی سیکیورٹی کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، خطے میں امن، رابطہ کاری اور ہمسایہ ممالک سے تجارت کوبھی پالیسی کا بنیا دی نکتہ رکھاگیا ہے۔

قومی سلامتی پالیسی میں بڑھتی ہوئی آبادی کو بڑا چیلیج قرار دیا گیا ہے، گڈگورننس، سیاسی استحکام ، فیڈریشن کی مضبوطی بھی پالیسی میں شامل ہے۔

ہائبرڈ وار فیئر بھی قومی سلامتی پالیسی کا حصہ ہوگا، کشمیر کو پاکستان کی سلامتی پالیسی میں اہم قراردیا گیا ہے، ایران کے ساتھ معاملات کا اختیار حکومت وقت کو تجویز کیا گیا ہے۔

پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کا ہر قیمت اور ہر صورت میں تحفظ کیا جائے گا، ہر جارحیت کا جواب دینے کے لیے کم لاگت، خود انحصاری پر مبنی جدید دفاعی ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
مسلح افواج کو مزید مضبوط بنانے کے لیے روایتی استعداد کار کو تقویت دی جائے گی، دفاعی پیدوار، مواصلاتی نیٹ ورک کی مرکزیت، جنگی میدان کی آگاہی، الیکٹرونک وارفیئر صلاحیت تقویت دیں گے۔
پالیسی کے تحت ملکی دفاع کے لیے اسلحہ کی دوڑ میں پڑے بغیر کم سے کم جوہری صلاحیت کو حد درجہ برقرار رکھا جائے گا۔
پاکستان کی جوہری صلاحیت علاقائی امن و استحکام کے لیے کلیدی اہمیت کی حامل ہے، داخلی سلامتی کے لیے نیم فوجی دستوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت، جدت، ضرورت پر توجہ مرکوز ہو گی۔
فضاء، بحری، ساحلی سلامتی یقینی بنانے کے لیے ایوی ایشن سیکیورٹی پروٹوکول بہتر، بحری نگرانی بہتر کی جائے گی، دیرپا، مضبوط فضائی نگرانی، اثاثوں کا نیٹ ورک، مواصلاتی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کو وسعت دی جائے گی۔
بحری، تجارتی سلامتی اور انسداد بحری قزاقی، جرائم کے خاتمے کے لیے بحری قوت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، خطرات کا باعث تصفیہ طلب مسائل، سرحدی مسائل خصوصاً لائن آف کنٹرول، ورکنگ باؤنڈری پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لئے مغربی سرحد پر باڑ کی تنصیب، قبائلی اضلاع کی ترقی پر توجہ مرکوز رہے گی، مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے خلائی سائنس و ٹیکنالوجی میں وسعت، اسے مستحکم کیا جائے گا۔
غلط اور جعلی اطلاعات اور اثر انداز ہونے کے لیے بیرونی آپریشنز کا ہر سطح پر مقابلہ کیا جائے گا، اطلاعات، سائبر و ڈیٹا سیکیورٹی ترجیح ہوگی۔
نگرانی کی استعداد بڑھائی جائے گی سیکیورٹی کو وسعت، سرکاری امور کی رازداری اور شہریوں کے اعداد و شمار کی سلامتی یقینی بنائی جائے گی۔
بین الاقوامی ٹیکنالوجی نظام کے ساتھ موثر انداز میں شمولیت سے قومی مفادات کا مکمل تحفظ کیا جائے گا، سیکیورٹی پالیسی کے نکات میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی سلامتی خطرات کے خلاف مستند، مضبوط اور قابل اعتماد دفاعی صلاحیت کی ضمانت ہو گی۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ملٹری سیکیورٹی قومی سلامتی کا صرف ایک پہلو ہے۔
قومی سلامتی پالیسی کے اجراء کی تقریب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سلامتی کے تمام پہلوؤں پر مشتمل جامع پالیسی کی تشکیل زبردست اقدام ہے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ یہ دستاویز قومی سلامتی کا تحفظ یقینی بنانے میں مددگار ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں