22

پاکستان کیسے کمزور ہوا

پاکستان کیسے کمزور ہوا
تحریر : پیر محمد ضیاء الحق نقشبندی
فوجی انقلاب کی اولین منصوبہ بندی چیف آف جنرل سٹاف میجر جنرل محمد اکبر خان23 فروری 1951 کو مجوزہ انقلاب کی ضرورت ومقاصد کے تحت رکھی تھی ۔جنرل محمد اکبر خان کا موقف تھا کہ حکومت کشمیر کی آزادی کے آپریشن میں ناکام ہوئی ہے ۔اس کا سیاسی جواب وہی تھا کہ آمر ہمیں کام ہی کب کرنے دیتے ہیں ۔ جناب رفیق ڈوگر کو ہم سے بچھڑے زیادہ عرصہ نہیں ہوا ،ان کی کئی شاندار تصنیفات ہیں ان میں سے ایک کتاب میںوہ لکھتے ہیں کہ ایک ملک دو دعویداریحییٰ خان کے دور کی صحافت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگر آزادی صحافت شرفاء کی پگڑیاں اچھالنا ہے تو پھر یہ انہیں ہی مبارک ہو ،لکھتے ہیں مولانا کوثر نیازی کے پرچہ “شہاب”کی فائلیں موجود ہیں جس میں مولانا مودودی صاحب کا اورایک فلم ایکٹرس کے جسم پر لگا کر چھاپا گیا ۔یحییٰ خان کے بارے مزید لکھتے ہیں کہ سقوط ڈاکہ کے حالات سے آگاہی بھی نہیں ہونے دی گی ، ہر اخبار میں کامیابیاں ہی شائع ہورہی تھی ۔مینار پاکستان کے سائے میں یہ ایک آمر نے سیاستدانوں کو دھمکی دی جو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرے گا اس کی ٹانگیں توڑ دیں گے ۔عوامی نمائندوں نے ٹانگیں بچا لیں اور بابائے قوم کا پاکستان توڑ دیا ۔ کتاب میں یہاں تک لکھا گیا کہ ایک صاحب نےڈھاکہ والوں سے کہا تھا کہ مجھے صلح کے نتیجہ میں کیا ملےگا پوچھنے والے نے پوچھا ـــکیا تو کہنے والے نے کہا کہ وزیر اعظم یا وزیر خارجہ تو جواب میں کہا گیا کہ میں کچھ نہیں دوں گا آپ اپوزیشن میں بیٹھیں گے ۔ائیر مارشل اصغر خاں نے اپنی کتاب Generals In Politicsمیں لکھا ہے کہ 1970میں یحییٰ خاں سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ مجھے ایک صاحب کہہ رہے ہیں کہ چھوڑیں الیکشن ولیکشن ۔23 مارچ 1971 کو صر ف 30 سال 7 ماہ اور9 دن پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچالیکن ہم ہر موقع پر یہ ضرور کہتے ہیں شکر ہے پاکستان بچ گیا ،حنیف رامے کا ایک انٹرویو رفیق ڈوگر رحمہ اللہ نے اپنے رسالہ “دید شنید “میں مئی 1986میں شائع کیا تھا ۔اس کو ضرور پڑھنا چاہیے کہ بنگلا دیش کو الگ کرنے کا اصل ذمہ دار کون ہے ۔اسی کتاب میں جنرل آغا محمد یحییٰ خاں قزلباش کے انٹرویوکے حوالے سے کہا گیا کہ امریکہ دوست مدد کو آرہا ہے تو انہوں نے کہ ساتواں بحری بیڑہ ڈرامہ ہےبالکل نہیں آرہا ۔ جنرل اکبر خاں نے اپنے محسن ومربی وزیر اعظم لیاقت علی خان کی حکومت الٹنے کی سازش کو عملی جامہ پہنایا تھا،جنرل ایوب خان نے اپنے محسن اسکندر مرزا کو گھر بھیج دیا ،اور پھر جنرل آغا محمد یحییٰ خاں قزلباش نے اپنے محسن جنرل ایوب خان کوایوان صدر سے نکال باہر پھینک کر خود قبضہ کر لیا ۔جنرل ضیاء الحق شہید نے اپنے محسن ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تخت نہیں بلکہ تختہ ہی الٹا دیا ۔جنرل مشرف نے منتخب وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت ختم کی ۔تمام آمروں کو ایسے سیاستدان مل جاتے ہیں جوسامنے بیٹھ کر کہتے رہتے ہیں کہ جنرل صاحب آپ کے سامنے سب سیاستدان بونے ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک فرد نے کہا تھا کہ جنرل ضیاءالحق کا اس سےاچھا خاتمہ ممکن ہی نہیں تھا گیارہ سال حکومت کرکے وہ باعزت طور پر اس جہاں سے اٹھ گئے شاید ان کے بعد جمہوریت کی پٹری چل پڑے، ایک جنرل کے ایک دوست سے حادثہ کی تعزیت کی تو انہوں نے کہا کہ تیس افراد کا نقصان بہت بڑا نقصان ہے لیکن تیس ہزار افراد کا نقصان اس سے بہر حال زیادہ ہوتا،وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ حالات جس طرف جارہے تھے ممکن ہے کہ 30 ہزار افراد مارنے کا بھی امکان ہو ۔لیکن دوسری طرف جنرل ضیاء الحق شہید ہوئے تو کتاب میں لکھا ہے کہ جب فوجیوں نے جنرل ضیاء الحق شہید کی خبر ریڈیو پر سنی تو ان کے ہاتھوں سے ہتھیار گر گئے تھے اور ایک دوسرے کے گلے لگ کر رونا شروع ہو گئے،ضیاء ازم کے نعرہ بھی لگنے لگے،پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل ضیاءالحق شہید 4 یا 5 جولائی 1977 کی درمیانی شب غیر فطری طریقہ سے اقتدار میں آئے تھے ،17 اگست 1988 کی سہ پہر غیر فطری طریقہ سے فانی دنیا سے رخصت ہوئے ،11 سال 1 ماہ اور 13دن ہجوم کو قوم بنانے یا پھر فردکو افراد سازی میں بدلنے کے لئے 11 سال بہت ہوتے ہیں ۔کیونکہ 90 دن میںالیکشن کرانے کا مومنانہ وعدہ تھا لیکن چار ہزار باسٹھ روز میں بھی وعدہ پورا نہ کر سکے ۔ لیکن سوال بہر حال موجود رہے گا کہ کیا فوج خود سیاست میں آتی رہی یا لانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔فوجی سربراہ کے سیاست میں ملوث ہونے کی بناء پر پوری فوج کو سیاسی نہیں کہہ سکتے ۔فوجی آمر قوم کے محسن ہوتے یا پھر مجرم اس سوال کا جواب عوام نے سوچنا ہے کیونکہ ماضی کے فوجی آمر اپنی قبروں سے آکر اس کا جواب نہیں دے سکتے ۔جس طرح تمام جنرلزاورپوری فوج کو برا کہنا مناسب نہیں ایسے ہی ساری سیاسی جماعتوں کو یا قیادت کو بونے نہیں کہا جا سکتا ۔5 جولائی 1977 کو ضیاءالحق نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ،گزشتہ شب آدھی رات کو عمل شروع ہوا تھا آج علی الصبح مکمل ہواہے ۔میرے حکم پر سب ہوا،سوائے بیگم ولی خان قومی اتحاد کے تمام قائدین کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا ۔مومن آمر کا لفظ بھی استعمال کیا گیا تھا ۔آمر یہ بھی کہتے رہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ ملک کی باگ دوڑ عوام کے ہاتھوں میں رہے ،لیکن جذباتی اور ہیجانی کیفیت میں فوج خاموش نہیں رہ سکتی ۔ صدررفیق تارڑ صاحب اور صدر عارف علوی صاحب کی طرح اس وقت کے صدر پاکستان فضل الٰہی چوہدری اپنی ذمہ دایارں نبھانے کے لئے رضا مند رہے،چار افراد کی ملٹری کونسل تشکیل دی گئی چیئرمین جائنٹ چیفس آف اسٹاف ،بری ،بحری اور فضائی افواج کے چیف آف اسٹاف تھے اس وقت کے چیف جسٹس یعقوب علی تھے ،انہوں نے کہا تھا کہ خلاء کو پورا کرنا ضروری تھا ۔صدر ضیاءالحق شہید نے بھی کہا تھا کہ میری درخواست پر چاروں صوبوںکے ہائی کورٹ نے چیف جسٹس حضرات نے قائم مقام گورنر بننا قبول کر لیا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں