77

پاکستان میں ڈرون حملے سے متعلق گردش کرتی خبروں کی حقیقت کیا ہے؟

پاکستان کے سوشل میڈیا پر اتوار سے شمالی وزیرستان میں ایک مبینہ ڈرون حملے کی خبر گردش کر رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس خبر میں کہا گیا ہے کہ امریکی ڈرون کا یہ حملہ شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں کیا گیا ہے اور یہ کہ اس میں ایک ہی خاندان کے سات افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔
شوال کا علاقہ شمالی اور جنوبی وزیرستان کی سرحد پر واقع ہے جس کی آبادی انتہائی کم ہے۔
بظاہر سوشل میڈیا پر اس خبر کے تانے بانے موجودہ سیاسی صورتحال سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس میں کہا جا رہا ہے کہ عمران خان کے وزارت عظمیٰ سے جانے کے بعد امریکی ڈرون حملے شروع ہو گئے ہیں اور یہ کہ عمران خان کے ہوتے ہوئے امریکہ پاکستان پر ڈرون حملے نہیں کر سکتا تھا۔
شمالی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر کی ڈرون حملے کی تردید
ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان شاہد علی نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں کہیں بھی کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا ہے اور یہ کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ خبر غلط ہے۔
انھوں نے اس خبر کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے اور صحافیوں اور سوشل میڈیا سے وابستہ افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے حساس حالات میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور بے بنیاد خبروں سے اجتناب کریں۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر مقامی صحافی نور بہرام نے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ بعض ذرائع نے شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے کی خبر دی تھی لیکن بعد میں جب اس بارے میں انتظامی افسران اور پولیس سے رابطہ کیا تو اس حملے کی کہیں سے بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔
اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں ڈرون طیارہ پرواز کرتا ہوا نظر آ رہا ہے جس کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ویڈیو سنہ 2015 کی ہے۔
سوشل میڈیا پر بیشتر صارفین یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا یہ خبر درست ہے کہ یہ ڈرون حملہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں ایسے صارفین بھی شامل ہیں جو بغیر تصدیق کے یہ نتیجہ اخذ کر بیٹھے ہیں کہ دراصل عمران خان کے جانے کے بعد اب پاکستان امریکہ کے زیر اثر ہے اور امریکہ پاکستان میں جو کچھ کرنا چاہے اب کر سکتا ہے۔
پاکستان میں ڈرون حملوں کی تاریخ
پاکستان میں امریکی جاسوس طیارے کے حملے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران شروع کیے گئے تھے۔ ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق پاکستان میں ڈرون حملوں کا سلسلہ سنہ 2004 میں شروع ہوا تھا۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان میں سنہ 2004 میں ہونے والے پہلے ڈرون حملے میں طالبان کے سربراہ نیک محمد کو ہلاک کیا گیا تھا۔
پاکستان میں سنہ 2004 سے یکم جنوری 2018 تک امریکی ڈرون طیاروں سے کل 409 حملے کیے گئے جن میں 2000 کے قریب ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ان حملوں میں کالعدم تنظیموں کے اہم قائدین کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں