101

پاکستان میں مذہب گریز رجحانات حافظ محمد جمیل

پاکستان میں مذہب گریز رجحانات
حافظ محمد جمیل
1۔مغربی تہذیب کو ترجیح
مسلمانوں میں بے یقینی اور بے دینی کا عالم اس لیے عروج پر ہے کہ ہماری توجہات کا مرکزمغربی تہذیب اور عیش و عشرت کی زندگی بسر کرنا بن گیا ہے۔جبکہ ہم نے اس حقیقت کو بھولا دیا ہے کہ دین سے کنارہ کشی کرتے ہوئے اس مادی دنیا کے لیے کوشاں رہنا سوائے نامرادی او ر گھاٹے کے سودے کے کچھ نہیں ہے۔
جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالی نے سورۃ العنکبوت آیہ 64 میں ارشاد فرمایا
وَمَا هَذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
اور (اے لوگو!) یہ دنیا کی زندگی کھیل اور تماشے کے سوا کچھ نہیں ہے، اور حقیقت میں آخرت کا گھر ہی (صحیح) زندگی ہے۔ کاش! وہ لوگ (یہ راز) جانتے ہوتے
آج رزق کی خاطر رازق کو چھوڑ دیا ہے اور دنیا کو سنوارنے کی خاطر دین کو پس پشت ڈا ل دیا ہے۔مغربی تہذیب سے جو چیز آتی ہے یا جو بھی ازم آتا ہے اس کو خوش آمدید کہا جاتا ہے اور اس کو آنر دیا جاتاہے۔
جبکہ علامہ اقبال کے نزدیک مادہ پرستانہ نقطہ نظر،آدمی کو خاک نشین،دوں مزاج اور سیا ہ باطن بنا دیتا ہے۔اس کے چالاک اور تیز دماغ،حقیقت بینی اور دولت یقیں سے محروم رہتے ہیں۔اسی وجہ سے مسلمانوں میں کفار کی سی بے یقینی،بے اطمینانی اور بے کیف زندگی کا احساس بڑھ رہا ہے۔
امریکہ کے ہیپی ازم کا اثر یہاں بھی منتقل ہو رہا ہے۔زندگی کے مہمل ہونے کے احساس نے انسان کو اس کی درست سمت سے بھٹک دیا ہے۔سکون حاصل کرنے کے لیے انسان نے چرس،افیون اور ہیروئن جیسی آفتوں کو گلے لگا لیا ہے۔بے راہ روی اور بے دینی کا مارا ہوا مسلمان اب اپنے مذہب کو بے یقینی کی بھینٹ چڑھا کر اہل مغرب اور اس کی تہذیب کو اپنا امام تسلیم کر چکا ہے۔اس ہیپی ازم کا مسلمانوں میں سے ہزاروں بڑے بڑے فاضل،ڈاکٹر،انجینئر اور ماہرین فن حصہ بن ہو چکے ہیں،اس لیے مارے مارے پھر رہے ہیں کہ کاش کہیں سکون مل جائے۔
پر ان جوانوں کو معلوم نہیں کہ جبلتوں کی تسکین،روح کی تسکین نہیں۔اگر کوئی روح کی تسکین کا طلب گار ہے تو وہ قرآن اور صاحب قرآن کا دامن تھام لے۔
قرآن پکار پکار کر کہتا ہے
الَّذِينَ آمَنُواْ وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللّهِ أَلاَ بِذِكْرِ اللّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ
جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، جان لو کہ اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے
ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم مغربی تہذیب کی بجائے اپنے مذہب اسلام کو ترجیح دیں۔اس لیے کہ مذہب اسلام ایک دینِ فطرت ہے۔اور یہ زندگی کو ہر اطراف سے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔مایوسی کو گناہ گنواتے ہوئے اپنے پیروکاروں کو مایوسی جوخود کشی کا سبب ہے سے اور ایسی تمام روحانی بیماریوں سے باہر نکالتا ہے۔ہر فیلڈ میں درست سمت عطا کرتا ہے۔
2۔سوشل میڈیا کا غلط استعمال
موجودہ دور میں شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جو ”ٹیلی ویژن“ سے خالی ہو۔ٹی وی جیسی سائنسی ایجادات کے فوائد توکم ہی نظر آتے ہیں مگر ان کے نقصانات بہت زیادہ ہیں۔ٹی وی کے ذریعے سے پھیلنے والی تباہ کاریاں اور خرابیاں شاید کسی ذی شعور سے مخفی ہوں۔ٹی وی،کیبل اور انٹر نیٹ جیسی مہلک اثر انداز ہونے والی بیماریوں سے اس نسل کی اعتقادی،ایمانی اور اخلاقی حالت تباہی اور بربادی کا شکار ہوچکی ہے۔ڈاکڑ طاھر القادری صاحب اپنے ایک جمعہ کے بیان میں فرماتے ہیں کہ کیا تم میں کوئی ایسا ہے جو اس بات کی گارنٹی دے سکے کہ اس کے گھر میں ٹی وی ہے۔سارے چینلز کی کوریج بھی ہے اور اس نے اپنی اولاد کو نیک رکھا ہوا ہے ؟
ٹی وی پروگراموں کی وجہ سے مسلمان اپنی عبادات ٹھیک طریقے سے،خشوع و خضوع کے ساتھ نہیں کر پاتے۔پسندیدہ ڈراموں،ٹالک شوز،انٹرٹینمنٹ اور پسندید ہ فلموں یا مارننگ شوز کی وجہ سے انسان کا دل آہستہ آہستہ عبادات سے دور ہوتاچلا جاتا ہے۔ وقت پر مساجد میں با جماعت نمازیں متاثر ہوتی ہیں پھر قضا ہوتی چلی جاتی ہیں۔اسی وجہ سے آج مساجد جنہیں اللہ کا گھر کہا گیا ہے ویران ہیں۔
ٹی وی پر غیر مسلموں کی تہذیب،ان کے رسم ورواج اور کفریہ ثقافت پر مبنی فلمیں اور ڈرامے دیکھا ئے جاتے ہیں،جن سے مسلمانوں کے اعتقادات میں خرابی ہے عقیدہ توحید میں کمزوری اور ری برتھ کے عقیدہ پر یقین پیدا ہوتا چلا جاتاہے ۔
یہی وجہ ہے کہ آج مسلمان قوم ہندوستان سے علیحدہ ہوجانے کے باوجود ہندوکلچر میں رچی بسی ہوئی ہے۔آج بچوں کے معصوم ذہنوں میں اسلامی ثقافت،مسلمانوں کے عقائد اور عبادات اتنی پختہ نہیں ہیں جتنی ہندوستانی رسم و رواج اور عیسائی نظریات پختگی اختیار کر چکے ہیں۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے ہمیں چاہیے کہ اس حدیث کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ ہر انسان سے اس کی زندگی کے بارے میں سوال کیا جائے گا اور اسی طرح اس کے زیر کفالت کی تر بیت کے معاملہ پر بھی پوچھا جائے گا اپنے گھر کو جس قدر ہو سکے اچھا ماحول مہیا کریں۔نہ صرف ٹی وی کا غلط استعمال روکیں بلکہ بیہودہ رسائل اور اسی طرح کی کتب اور دیگر مواد سے بچنے کی بھی ضرورت ہے۔
3۔قرآن و سنت سے دوری
مسلمانوں کی مذہب سے دوری کی وجہ قرآن کے دامن کو نہ تھامنا بھی ہے۔مسلمانوں نے قرآن اور صاحب قرآن سے منہ موڑ لیاہے۔قرآن و سنت سے بے بہرہ دور گمراہی و جہالت کی تاریکیوں میں بٹھک رہے ہیں۔ قرآن مجید پوری انسانیت کے لیے راہ ہدایت ہے اور رسول ﷺ کی زندگی کو تمام انسانیت کے لیے بہترین نمونہ قرار دیا گیا ہے۔لیکن ہم نے اس کو پڑھنا، اس کی تعلیمات پر عمل کرنااور رسول ﷺکے دامن کو چھوڑ دیا ہے۔کوئی راہ دیکھانے والا نہیں،سب اپنی اپنی دھن میں مگن ہیں اور برائیوں پر برائیاں کیے جا رہے ہیں۔کسی کو ذر ا یہ احساس نہیں کہ ایک دن اپنے رب کے ہاں جوابدہی کے لیے حاضر ہونا ہے اور اپنی زندگی کے ایک ایک لمحہ،ایک ایک سانس کا حساب دینا ہے۔
آج کے دور میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ مسلمان متحد ہوکر تبلیغ اسلام اور قرآن کی سر بلندی کے لیے کوششیں کریں تاکہ آئے دن مغربی ایجنڈا مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لیے جو منفی پروپیگنڈا کر رہا ہے اس کا مقابلہ کیا جاسکے۔
4۔دین کی معرفت کی کمی
دین الہی میں کوئی ایساعنصر موجود نہیں جو اس سے دوری کا باعث بنے اگر لوگ دین سے صحیح معرفت حاصل کر لیں اور دین کا صحیح ادراک کر لیں تو وہ کبھی بھی دین سے دور نہیں بھاگیں گے اس کے علاوہ عقل و عشق جو کہ انسانی زندگی کے اہم رکن ہیں اور تمام جاذبہ و دافعہ انہی کی بنیا دپر حاصل ہوتے ہیں،یہ دونوں دین کے متن میں واقع ہیں اور دین دونوں کے ساتھ باقی ہے،دین جس طرح انسانی ذہن کو غذا فراہم کرتا ہے اسی طرح اس کے دل کو حیات اور نشاط عطا کرتا ہے۔
جبکہ دوسری طرف آج کا نوجوان یہ چاہتا ہے کہ تمام دینی اعتقادات و تعلیمات کو اپنی عقل کے ساتھ پرکھے۔وہ سمجھتا ہے کہ اگر یہ تعلیمات اس کی عقلی و فکری سانچوں میں سما سکیں تو صحیح ورنہ غلط ہیں اور وہ انہیں چھوڑ دیتا ہے۔یہ چیز باعث بنتی ہے کہ جو ان کا دینی تشخص صحیح نہ پا سکے۔وہ عقائد کے بارے فکری بحران کا شکار ہو جاتا ہے اور وہ دین سے گریز کرتاچلا جاتا ہے۔
بعض دفعہ دین کی پہچان اس طرح بھی کروائی جاتی ہے کہ دین اسلام ایک دین فطرت نہیں ہے۔دین کے دائرے کو بہت ہی محدود کر کے پیش کیا جاتا ہے۔مذہب کو چھوٹے چھوٹے فرقوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔جب آج کا ایک نوجوان یہ دیکھتا ہے کہ دین رہنمائی میں اس کی زندگی کے تمام اطراف کا احاطہ نہیں کر رہا تو وہ دور ہوتا چلا جاتا ہے۔وہ اس بات کی نشاندہی نہیں کر سکتا کہ کون سافرقہ درست ہے جس کا وہ انتخاب کر سکے۔
قرآ ن نے بھی لوگوں کے کفر و بے ایمانی کی طرف میلان کی بڑی وجہ ان کی جہالت و معرفت میں کمی کو قرار دیا ہے
نوح علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں
ولکنی اراکم قوما تجھلون
میں تمہیں جاہل لوگ سمجھتا ہو ں
5۔دینی اور دنیاوی تعلیم میں مطابقت کا فقدان
عصر حاضر کے مسلم معاشروں میں دینی طبقے اور جدید تعلیم یافتہ دوسرے الفاظ میں دنیاوی طبقے کے درمیان کشمش کی ایک شد ت پائی جاتی ہے۔ہر طبقہ معاشرے میں موجود دینی اور دنیاوی تقسیم کا ملزم دوسرے کو گردانتے ہوئے اپنے اپنے دلائل پیش کرتا ہے۔اس تقسیم کی ایک وجہ دنیاوی تعلیم میں سیکولرازم کے جراثیم کا پایا جانا بھی ہے۔جس طرح مغرب میں انہوں نے مذہب اور اس کی تعلیم کو چرچ تک محدود کر دیا ہے اسی طرح پاکستان میں بھی ان کی کوششیں یہی ہیں کہ مذہب اسلام اور اس کی تعلیم کو صرف اور صرف مسجد تک محدود کر دیں۔تاکہ دین کی تعلیم کا فقدان پیدا ہو اور اس کی تعلیمات لوگوں تک نہ پہنچنے پائیں۔
مسلم دنیا میں دینی او دنیاوی طبقات کی تقسیم اپنے ابتدائی مراحل میں صرف رائے اور طرز عمل کا اختلاف تھا لیکن رفتہ رفتہ یہ نظریات و اعتقادات کی دو مختلف راہوں کی شکل اختیار کر گیا اور اب دونوں طبقے اپنا الگ الگ نظام علم اور جدا جدا نظریات رکھتے ہیں اور دونوں دریا کے دو کناروں کا روپ دھار چکے ہیں جو چلتے تو ایک ساتھ ہیں لیکن ان کا ایک دوسرے سے ہم آغوش ہونا خواب و خیال کی دنیا میں بھی نا ممکن نظر آتا ہے۔ لیکن موجودہ وقت میں دینی طبقوں اور اداروں نے اس میں پہل کی ہے۔اس وقت آپ کو ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں ایسے افراد مل جائیں گے جو دینی تعلیم میں اعلی قابلیت رکھنے کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم میں بھی ڈاکٹر یا اعلی تعلیم یافتہ ہو گے۔اب کثرت کے ساتھ دینی اداروں میں باقاعدہ دنیاوی تعلیم کا آغاز ہو چکا ہے۔ان میں سے ایک جامعہ نعیمیہ اسلام آباد بھی ہے۔جہاں اس سال پرائمری سے ایف۔اے تک کلاسز جاری ہیں۔لیکن دنیاوی تعلیمی اداروں کی طرف سے اس مسئلہ پر کوئی قابل بیان پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔بلکہ ایسی مثالیں مل جائیں گی کہ نصاب کی فلاں کتاب سے فلاں دینی باب کو خارج کر دیا گیا ہے۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ
۱۔ حکومت پاکستان بھی اس خلیج کو دور کرنے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔۲۔دینی فکر اور مزاج رکھنے والے ایسے افرادحکومتی مشینری میں شامل کیے جائیں جو مذہبی نقطہ نظر کو حکومتی سطح پر قابل قدر اہمیت دلا سکیں تاکہ لوگوں کو اسلام کی حقانیت کا ان کے ذریعے علم ہو۔۳۔دینی طبقہ کو چاہیے کہ عوام کو اپنی بات سمجھانے کے لیے رائج طریقوں اور زبان سے آگاہی حاصل کریں تاکہ ان پر واضح کیا جا سکے کہ فلاح اپنے دین و روایات میں ہی ہے۔۴۔ذرائع ابلاغ کسی بھی معاشرے کی ذہنی تشکیل میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں،ان کے استعمال میں اعتدال کا رویہ اختیار کرتے ہوئے دونوں فریقوں کوہم آہنگی اور مل بیٹھ کر کوئی ایسا لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے جو قوم کو ذہنی انتشار اور مخمصے میں ڈالنے کی بجائے ان کی صحیح خطوط پر تربیت کر سکے،خصوصا دینی و مذہبی نمائندوں کو میڈیا منیجمنٹ میں بہتری لانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی بات اچھی طرح لوگوں تک پہنچا سکیں۔۵۔حکومتی سطح پر دینی نظام تعلیم کو عام تعلیم کی طرح سرکاری حیثیت دی جائے تاکہ ان کے مستفیض معاشرے کے بے کار لوگوں کی لسٹ سے نکل کر کارآمد دائرے میں داخل ہو سکیں۔
6۔ریاست کانظام مصطفی ﷺ کے موافق نہ ہونا
پاکستان میں مذہب سے دوری کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کا نظام شریعت کے تابع نہیں ہے۔ہم نے اسلام کو ایک کامل دین اور مکمل نظام ہائے زندگی کی حیثیت سے اپنے دل و دماغ میں جگہ ہی نہیں دی ہے۔اس کی بجائے جو ضابطہ حیات ہم نے اختیار کیاوہ ہمارے اجتماعی نظام (معاشرے،معیشت،عدل و انصاف،قانون و سیاست)وغیرہ سے صاف ظاہر ہوتا ہے۔اسے جو چاہیں نام دیں مگر یہ ایک اسلامی نظام حیات ہر گز نہیں۔بہت سے ایسے امور اور قانون ہیں جو شریعت سے ٹکراتے ہیں۔جب کہ دستور میں یہ لکھا ہے کہ یہاں کوئی بھی قانون سازی خلاف اسلام نہیں ہو سکتی جس کی وجہ سے ملکی سلامتی کو بھی خطر ہ ہے۔اس کی ایک مثال میرے ملک میں سود کے سسٹم کو ہی لے لیجیے۔
اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَأْكُلُواْ الرِّبَا أَضْعَافًا مُّضَاعَفَةً وَاتَّقُواْ اللّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
اے ایمان والو! دو گنا اور چوگنا کر کے سود مت کھایا کرو، اور اللہ سے ڈرا کرو تاکہ تم فلاح پاؤ
روایت میں آتا ہے کہ
”جب کسی کے پیٹ میں ایک لقمہ حرام کا چلا جائے تو چالیس دن تک اس کی عبادت قبول نہیں ہوتی“
پھر کیسے سود سے وابستہ انسان دین پر عمل پیرا ہو کر قائم رہ سکتا ہے۔نظام کے شریعت کے تابع نہ ہونے کی وجہ سے ہر ایک ذمہ دار نے (الا ما شا ء اللہ)بے ایمانی کا کردار ادا کرتے ہوئے کرپشن میں اپنا حصہ ادا کیا۔نتیجہ یہ نکلا ہے آج پاکستان کا ہر فرد خواہ فٹ پاتھ پر سونے والا ہو لاکھوں کا مقروض ہے۔جن کے مقروض ہیں وہ ریاست پاکستان سے من مانی کرواتے ہیں۔
اگر اسلامی تاریخ پر ایک نظر دوڑائی جائے تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ جب مسلمانوں نے اسلامی تعلیمات کو نظر انداز کرنا شروع کیا تو وہ مغلوب ہوتے چلے گئے،دنیا کی باگ دوڑ ان کے ہاتھ سے لے لی گئی اور وہ تنزلی کا شکار ہو گئے کیونکہ وہ اپنے مقصد وجود سے نا واقف ہو چکے تھے۔ان حالات سے نمٹنے کے لیے لازم ہے کہ مسلمان اسلام سے بخوبی واقف ہوں۔قرآن و صاحب قرآن سے پھر سے ناطہ جوڑیں اور کفر و جاہلیت سے مکمل واقفیت حاصل کریں تاکہ جہالت جس لباس اور جس رنگ میں ظاہر ہو اس کو فورا پہچان لیا جائے اور اس کا قلع قمع کر دیا جائے تاکہ وہ پروان نہ چڑھنے پائے۔نیز ہمیں چاہیے کہ اپنے تمام تر مفادات بالا طاق رکھتے ہوئے اپنے ملک کے لیے مخلص ہو جائیں اور نظام پاکستان کو اسلام کے تابع کریں تاکہ مذہب سے دور ی کا خاتمہ ہو سکے۔
اس لیے ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اسلام مذہب کی معرفت حاصل کریں اور اگر صاحب استطاعت ہیں تو دوسروں کو مذہب سے آگاہی کردانے کے لیے ادارے قائم کریں یا جو ادارے وجود میں آچکے ہیں ان کی ہر ممکن طریقے سے ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے پیش پیش رہیں۔
7۔علماء کے اخلاص میں کمی
عرفان الہی کی وہ میراث جو ابراھیم و موسی اور مسیح و محمد علیھم الصلوۃ و السلام نے چھوڑی ہے وہ علماء کا سرمایہ حیات ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ علمائے امت نے ان فرائض منصبی کو نہایت خوبی سے نبھایا۔یہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے انہوں نے جنگلوں اور صحراوں کی خاک چھانی ہے،گھر بار چھوڑے ہیں،نعمتوں سے صرفِ نظر کیا ہے،قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں اور بسا اوقات اپنی جانیں بھی را ہ حق میں پیش کر دی ہیں۔بخاری و مسلم،مالک و احمد،ابو حنیفہ و شافعی،غزالی نے دین و ملت جو خدمت کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔انہوں نے عزم و استقامت اور حکمت و دانش کے ساتھ اقوام امت کی رہنمائی کی اور انھیں ایک مدت تک جسد واحد میں پروئے رکھا۔انھوں نے ارباب اقتدار کو فرائض سے منحرف نہیں ہونے دیا۔عامۃ الناس کے اخلاق و کردار کو مجروح ہونے سے بچایا اورانھیں خوابوں میں جینے کی بجائے حقیقت پسندی کا درس دیا۔اس رہنمائی کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان اخلاق و کردار،عدل و انصاف علم و ہنر اور نظم و ترتیب میں اعلی کمال پر فائز ہوئے اور اسی بناء پر صدیوں تک عالم کی مسند اقتدار پر فائز رہے
اس وقت مسلمانوں کی جو رہنمائی کی جا رہی ہے،حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وسنت سے ہم آہنگ نہیں۔ کہنے اور کرنے میں فرق آچکا ہے۔مختلف رائے والے کے لیے کفر سے نیچے فتوی نہیں ہوتا۔جبکہ اختلاف رائے کو رسول ﷺ نے رحمت قرار دیا ہے۔اور اس فتوی کا حق ہر اس کو بھی حاصل ہے شاید جس کو یہ معلوم نہ ہو کہ کسی فتوی کو لکھنے سے پہلے کن باتون کا جاننا ضروری ہے۔شاید اس کو یہ معلوم بھی نہ ہو کہ مصادر و مراجع کیا ہوتے ہیں۔عموما تبلیغ کے لیے قیمتیں مقرر ہو چکی ہیں۔کسی غریب کے بس میں نہیں کہ وہ اپنے علاقے میں کسی خطیب صاحب کو بلا کے اپنے علاقے کے لوگوں کواللہ و اس کے رسول ﷺکی چند باتین سنا سکے۔ریا کاری اعلی عروج پر پہنچ چکی ہے۔جو کچھ باقی رہ گیا تھا دین کا لوگوں کے دلوں میں اس کو ختم کرنے میں جعلی پیروں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
آج ہر اس فرد کی جو علماء کی صف میں شامل ہو چکا ہے ذمہ داری بنتی ہے کہ رازق اللہ سبحانہ و تعالی کو سمجھے اور توکلت علی اللہ کا مظہر بنے۔ہر کام کو صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے کرے۔مطالعہ کو زیادہ سے زیادہ وقت دے۔اس وقت مذہب اسلام کو دوسرے مذاہب سے بہت زیادہ چیلنجزکا سامنا ہے۔سب سے زیادہ قادیانیت سے ہے۔مذہب اسلام اور ملک پاکستان کی سلامتی کے لیے علمی طور پر اپنا حصہ ڈال کر اپنی دینی اور دنیاوی زندگی کو سنوارے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں