89

پاکستان میں دہشت گردی کے بڑھتے خطرات

پاکستان میں دہشت گردانہ حملے دوبارہ بڑھنے سے امن و امن سے متعلق عوامی خدشات بڑھ گئے ہے۔ ایسی بحث بھی چھڑ گئی ہے کہ آیا مستقبل میں ایسے دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہو جائے گا۔
ان خدشات کو مزید تقویت پہنچائی وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کے اس بیان نے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آنے والے دو مہینوں میں اس طرح کی کارروائیاں بڑھ سکتی ہیں۔ دہشت گردی کی حالیہ لہر کے دوران خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردانہ حملے ہوئے ہیں۔
لاہور بم دھماکے نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
کیچ کے حملے کو خصوصی طور پر سکیورٹی ماہرین بہت اہم قرار دیتے ہیں کیونکہ یہ اس سال بلوچستان میں ہونے والا سب سے بڑا حملہ ہے۔ اس میں دس پاکستانی سپاہی ہلاک ہوئے ہیں۔
اسٹریٹیجک مفادات اور حملے
کچھ مبصرین کے خیال میں بلوچستان میں ہونے والی کارروائیوں کا بڑا گہرا تعلق پاکستان کے اسٹریٹجک مفادات سے ہے اور یہ کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر اس بات کا امکان ہے کہ بلوچستان میں حملے بڑھیں گے۔ دفاعی تجزیہ نگار میجر جنرل ریٹائرڈ اعجاز اعوان نے بتایا، “بلوچستان میں پاکستان کے سٹریٹیجک مفادات چین کے ساتھ بہت قریب تر ہوتے جا رہے ہیں، اس لئے کچھ قوتیں چاہتی ہیں کہ ان کو نقصان پہنچایا جائے۔”
ٹی ٹی پی نے سابق ترجمان کی ہلاکت کی تصدیق کر دی
میجر جنرل ریٹائرڈ اعوان کے مطابق بلوچستان کا مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ وہاں چند لوگ ناراض ہیں، “جنہوں نے ہتھیار اٹھائے ہیں، وہ پاکستان کو توڑ نہیں سکتے، ان کو بڑے پیمانے پر بلوچستان کی عوام کی حمایت بھی حاصل نہیں ہے، کچھ قوتوں کے اشارے پر چین اور پاکستان کے اسٹریٹجک مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوں گے۔”
اشرف غنی کی باقیات
کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی سابق سربراہ ڈاکٹر طلعت اے وزا رت کا کہنا ہے افغانستان میں ابھی بھی سابقہ افغان حکومت کی باقیات اور ہمدرد موجود ہیں جو ممکنہ طور پر دہشت گردی کی حمایت کر رہے ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، “افغان طالبان نے کہا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی اور دہشت گردانہ عناصر کو پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے سے روکیں گے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان کا افغانستان پر مکمل کنٹرول نہیں ہے کیونکہ سابق افغان حکومت کے عناصر اب بھی وہاں موجود ہیں جو پاکستان کے خلاف کارروائی کرنا چاہتے ہیں، طالبان اور پاکستان کے درمیان تعلقات خراب کرنا چاہتے ہیں۔”
افغان طالبان ٹی ٹی پی کو کنڑول نہیں کر پائے
پشاور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار مختار باچا کا کہنا ہے کہ دہشت گردانہ حملے اس وجہ سے بھی بڑھ گئے ہیں کہ افغان طالبان پاکستانی طالبان کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں اور انہوں نے ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے بھی سخت موقف اپنایا ہوا ہے۔ مختار باچا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، “ممکنہ طور پر حملوں میں اضافے کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ ٹی ٹی پی والوں نے جنگ بندی کی ہوئی تھی، جس کو انہوں نے ختم کر دیا ہے، حال ہی میں ان کا ایک اہم کمانڈر بھی مارا گیا ہے، جس کا وہ بالکل بدلہ لیں گے اس کے علاوہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کو روکنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔”
کیا ٹی ٹی پی ایک مرتبہ پھر متحرک ہو رہی ہے؟
صورت حال ماضی جیسی نہیں ہو سکتی
کئی مبصرین تو اس خوف میں بھی مبتلا ہیں کہ کہیں صورتحال ماضی جیسی نہ ہو جائے جب ٹی ٹی پی پاکستان کے مختلف علاقوں پر حملے کر رہی تھی۔ میجر جنرل ریٹائرڈ اعجازاعوان کا خیال ہے کہ صورت حال ماضی جیسی کبھی نہیں ہو سکتی۔
میجر جنرل ریٹائرڈ اعجاز اعوان کے بقول ٹی ٹی پی خود اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے اس کی فنڈنگ ختم ہو چکی ہے اس کے پاس کوئی علاقہ آپریشنل سرگرمیوں کے لیے نہیں ہے، ” وہ ایک گوریلا جنگ لڑ رہے ہیں جس میں ایک بندہ بھی کسی دہشت گردانہ حملے کے لیے کافی ہوتا ہے، اس لیے اس کو ختم کرنے میں ٹائم لگے گا لیکن صورتحال یقینا ایسی نہیں ہوگی کہ ٹی ٹی پی پھر بڑے پیمانے پر ملک کے طول و عرض پر حملے کرے۔”
باڑ مکمل کی جائے
ڈاکٹر طلعت اے وزارت کے مطابق اس کا سدباب کرنے کے لیے پاکستان کو فوری طور پر باڑ لگانے کا عمل مکمل کرنا چاہیے،”اس سے دہشت گردی کی روک تھام بھی ہو گی اور افغان طالبان کو فائدہ بھی ہو گا، کوئی افغانستان سے پاکستان میں داخل ہو کر دہشت گردانہ کارروائی نہیں کر سکے گا۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں