100

پاکستان میں درآمدی گندم کی مہنگی بولی

پاکستان میں درآمدی گندم کی مہنگی بولی آٹے کی قیمت پر کیسے اثر انداز ہو گی؟
پاکستان میں موجودہ موسم میں گندم کی پیداوار دو کروڑ 26 لاکھ ٹن کے لگ بھگ رہی تاہم ملکی ضرورت کے لیے گندم کی یہ پیداوار ناکافی ہے اور حکومت کی جانب سے اس سال بیرون ملک سے 30 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
عالمی مارکیٹ سے گندم کی خریداری کے لیے پاکستان کے سرکاری ادارے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کی جانب سے طلب کی جانے والے ٹینڈر میں پانچ لاکھ ٹن کی خریدای کے لیے کم از کم 525 ڈالر فی ٹن کی بولی موصول ہوئی۔
پاکستان کی جانب سے گندم کی خریداری کے لیے ملنے والی کم ترین بولی میں جو قیمت دی گئی ہے وہ عالمی مارکیٹ میں گندم کی بڑھی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ہے اور گندم کے کاروبار سے وابستہ افراد کے مطابق اس وقت عالمی مارکیٹ میں گندم کی زیادہ قیمت کی وجہ یوکرین اور روس کی جنگ ہے اور دونوں ممالک دنیا میں گندم برآمد کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان کو اس وقت عالمی مارکیٹ سے گندم کی خریداری نہیں کرنی چاہیے کیونکہ گندم کی فصل کی کٹائی کو چند ہفتے ہوئے ہیں اور ملک میں اگلے کچھ مہینوں کے لیے گندم کے وافر سٹاک موجود ہیں اس لیے پاکستان کو کچھ مہینے انتظار کرنا چاہیے کیونکہ روس اور یوکرین کے درمیان تنازعے کے خاتمے کے مستقبل قریب میں امکان سے گندم کی قیمتیں نیچے آ سکتی ہیں۔
گندم کے شعبے کے ماہرین اور اس سے وابستہ افراد کے مطابق اگر موجودہ نرخوں میں گندم خریدی گئی تو اس سے ملک میں گندم کی قیمتوں میں اثر پڑ سکتا ہے اور قیمتوں میں توازن رکھنے کے لیے حکومت کو سبسڈی دینا پڑے گی۔
مقامی سطح پر گندم کی پیداوار
چند ہفتے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت گندم کی پیداوار سے متعلق ایک اجلاس میں بتایا گیا رواں سال گندم کی مجموعی پیداوار کا ہدف دو کروڑ 29 لاکھ میٹرک ٹن لگایا گیا تھا جبکہ متوقع پیدوار دو کروڑ 26 لاکھ میٹرک ٹن تک رہی۔ گندم کی ملکی سطح پر مجموعی کھپت کا تخمینہ تین کروڑ میٹرک ٹن لگایا گیا ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ گندم کی حکومتی سطح پر خریداری کے حوالے سے پنجاب نے 91.66 فیصد، سندھ نے 49.68 فیصد، بلوچستان نے 15.29 فیصد جبکہ پاسکو نے 100 فیصد ہدف حاصل کر لیا ہے۔
مقامی ضرورت کے مقابلے میں گندم کی کم پیداوار کی وجہ سے وفاقی کابینہ نے ملک میں 30 لاکھ ٹن گندم کی درآمد کی منظوری دی۔
واضح رہے کہ گذشتہ برس ملک میں دو کروڑ 28 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی پیداوار ہوئی تھی تاہم یہ پیداوار بھی ملکی ضرورت سے کم تھی اس لیے پاکستان نے 20 لاکھ ٹن گندم بیرون ملک سے منگوائی تھی
فلور ملر طٰہٰ تھارہ نے بتایا کہ مقامی سطح پر پیدا ہونے والی پیداوار کے بعد پنجاب نے 35 لاکھ ٹن گندم خریدنے کا ہدف رکھا تھا اور اس نے اس سے بھی زائد 50 لاکھ ٹن گندم خرید لی ہے جبکہ دوسری جانب سندھ کو ٹارگٹ 14 لاکھ ہے لیکن ابھی تک اس کی جانب سے صرف 10 سے 11 لاکھ ٹن گندم کی خریداری کی گئی ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں کا رجحان؟
قوام متحدہ کے ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے جائزے کے مطابق اس سال دنیا میں گندم کی پیداوار تقریباً 70 کروڑ 82 لاکھ ٹن کے قریب رہنے کی توقع ہے۔
دنیا میں چین اور انڈیا گندم پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہیں اور ان کے ساتھ روس اور یوکرین بھی بڑی پیداوار والے ملکوں میں شامل ہیں تاہم چین اور انڈیا کی بڑی آبادی کی وجہ سے ان کی پیداوار مقامی طور پر استعمال ہو جاتی ہے تاہم روس اور یوکرین دنیا میں گندم برآمد کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کے مطابق یوکرین میں جنگ کی وجہ سے پیداوار متاثر ہو گی تاہم روس کی پیداوار کے لیے حالات سازگار ہیں۔ گذشتہ چند ماہ سے جاری روس اور یوکرین تنازعے کی وجہ سے دنیا میں گندم کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
سیرل ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین مزمل چیپل کے مطابق اس وقت عالمی مارکیٹ میں گندم کی قیمتیں 470 سے 490 ڈالر فی ٹن کے درمیان موجود ہیں جو اس وقت عالمی مارکیٹ میں بلند سطح ہے جبکہ فروری کے مہینے میں یہ قیمت 365 سے 370 ڈالر فی ٹن پر موجود تھی۔
واضح رہے کہ روس دنیا میں گندم برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک اور یوکرین چوتھے نمبر پر ہے۔
پاکستان کو درآمدی گندم کتنی مہنگی پڑ سکتی ہے؟
پاکستان کے سرکاری ادارے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کی جانب سے عالمی مارکیٹ سے گندم کی خریداری کے لیے جاری کیے گئے ٹینڈر میں جو کم سے کم بولی پاکستان کو موصول ہوئی ہے اس میں 515 ڈالر فی ٹن پر گندم دینے کی پیشکش کی گئی اور اگر پاکستان اس نرخ پر گندم خریدتا ہے تو پاکستانی کرنسی میں اس گندم کی قیمت ایک لاکھ چار سو روپے بنتی ہے۔
ماہر اجناس شمس الاسلام نے بتایا کہ اس قیمت میں پورٹ سے گوداموں تک ٹرانسپورٹ کا خرچہ بھی اس میں شامل کیا جائے تو یہ درآمدی گندم ایک لاکھ 10 ہزار فی ٹن کے حساب سے پاکستان کو پڑے گی جبکہ 40 کلو گندم کی قیمت 4400 روپے فی کلو ہو گی۔
انھوں نے کہا پاکستان میں اس سال حکومت کی جانب سے گندم کی امدادی قیمت 2200 روپے فی کلو ہے یعنی درآمدی گندم کی لاگت مقامی پیداوار کے مقابلے میں دوگنی ہو گی۔
مہنگی درآمدی گندم کے بارے میں بات کرتے ہوئے آل پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے سابق صدر چوہدری انصر مجید کہتے ہیں کہ اگر اس نرخ پر گندم درآمد ہوتی ہے اور حکومت کو مقامی مارکیٹ میں گندم کی قیمتیں مستحکم رکھنی ہیں تو اسے 50 روپے فی کلو کے حساب سے سبسڈی دینا پڑے گی تاکہ اس مہنگی درآمدی گندم کی وجہ سے عام صارفین کے لیے گندم کی قیمتیں نہ بڑھ پائیں۔
موجودہ مالی سال کے بجٹ میں حکومت نے گندم خریداری کی مد میں سات ارب روپے سبسڈی کی رقم مختص کی ہے اور اس سال کے پہلے 10 مہینے میں لگ بھگ 80 کروڑ ڈالر مالیت کی گندم بیرون ملک سے درآمد کی۔
مزمل چیپل نے کہا کہ گندم کی جو عالمی قیمت ہے وہ اس وقت بلند سطح پر موجود ہے اس لیے پاکستان کو فی الحال اسے درآمد نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ درآمدی گندم پاکستان کو بہت مہنگی پڑے گی۔
انھوں نے کہا کہ اگر روس اور یوکرین تنازعہ میں اگلے چند مہینوں میں کوئی کمی آتی ہے تو اس کا اثر گندم کی قیمت پر بھی پڑے گا۔
انھوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں نئی فصل کٹ کر مارکیٹ میں آ چکی ہے اور فی الحال مقامی پیداوار اگلے چھ سات مہینوں کے لیے کافی ہے اور پاکستان کو اگر گندم کی ضرورت پڑے تو اگست اور ستمبر میں عالمی مارکیٹ میں گندم کی خریداری کے لیے جائے کیونکہ مقامی ضرورت میں کسی کمی کو پورا کرنے کے لیے گندم کی ضرورت دسمبر اور جنوری میں پڑ سکتی ہے۔
چوہدری انصر مجید کے مطابق لگتا نہیں کہ پاکستان اس بلند سطح پر گندم کی قیمت عالمی مارکیٹ سے خریداری کو منظور کرے گا کیونکہ اسے اس صورت میں 50 روپے فی کلو سبسڈی دینی پڑے گی تاکہ اسے مقامی سطح پر امدادی قیمت کے برابر لایا جا سکے۔
درآمدی گندم کے معیارکو جانچنے کا کیا طریقہ کار ہے؟
پاکستان گذشتہ دو عشروں سے گندم کی درآمد کر رہا ہے۔ اس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں وقفہ آیا جب گندم کی درآمد نہیں کی گئی اور مقامی طور پر پیداوار سے ضرورت کو پورا کر لیا گیا تاہم اس سے پہلے ایک دفعہ درآمدی گندم ایسی بھی پہنچی جس کی کوالٹی انتہائی ناقص تھی۔
اس بارے میں چوہدری انصر مجید نے بتایا کہ 15 سال پہلے ایک بار درآمد کی جانے والی گندم کی کوالٹی انتہائی ناقص تھی اور انسانی خوراک کے استعمال کے قابل نہ تھی۔ انھوں نے کہا کہ اس گندم کو بعد میں جانوروں کے چارے کے طور پر استعمال کیا گیا۔
چوہدری انصر نے بتایا کہ پاکستان میں درآمد کی جانے والی گندم کو پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ دیکھتا ہے کہ اس کا معیار صحیح ہے اور یہ انسانی خوراک کے کھانے کے قابل ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ ادارہ گندم کی کوالٹی تصدیق کرتا ہے تو پھر یہ پورٹ سے باہر گوداموں میں منتقل کی جاتی ہے۔
مزمل چیپل نے اس سلسلے میں بتایا کہ پاکستان میں گندم جب درآمد ہو کر پہنچتی ہے تو پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ اس کی کوالٹی چیک کرتا ہے تاہم اس سے پہلے یہ جس ملک سے آ رہی ہوتی ہے اس کی کوالٹی کو جانچنے کے لیے عالمی ادارے کام کرتے ہیں اور اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ گندم انسانی استعمال کےلیے صحیح ہے۔
کیا پاکستان میں آٹے کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں؟
پاکستان میں آٹے کی قیمتوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے طٰہٰ تھارہ نے بتایا کہ اس وقت کراچی میں مل کوالٹی 10 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 745 روپے اور چکی کا آٹا اس وقت 850 سے اوپر ہے۔
دوسری جانب پنجاب میں مل کوالٹی کا آٹا 490 روپے کا 10 کلو مل رہا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ سندھ میں گندم کی فصل پہلے کٹنے کے باوجود ابھی تک حکومت کی جانب سے اس کی خریداری مکمل نہیں کی گئی جبکہ پنجاب میں ہدف سے زیادہ خریداری کر لی گئی اور حکومت فلور ملوں کو گندم فراہم کر رہی ہے۔
شمس الاسلام نے بتایا کہ اگر حکومت کی جانب سے درآمدی گندم منگوائی جاتی ہے تو لازمی طور پر گندم ذخیرہ کرنے والے اور منافع خور درآمدی گندم کی زیادہ قیمت پر افواہ سازوں کے ذریعے اس کی قیمت بڑھائیں گے۔
گندم کی قیمتوں کے بڑھنے امکان کے بارے میں چوہدری انثر مجید نے کہا کہ اس شعبے میں ہمیشہ سیزن کے شروع میں پانچ سے دس روپے قیمت نیچے آتی ہے اور جب سیزن ختم ہو رہا ہوتا ہے تو پانچ دس روپے قیمت چڑھ جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہی لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں قیمتوں میں کچھ اضافہ ہو گا۔
مزمل چیپل نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ درآمدی گندم اگر موجودہ نرخ پر خریدی گئی تو یہ ملک میں آٹے کے نرخ کو بڑھا سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں