معاشی ریلیف پیکیج 30

پاکستان میں بھوک کا خطرہ، پیداوار میں اضافہ نہ ہوا اور آبادی بڑھتی رہی تو افلاس کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، عمران خان

وزیراعظم عمران خان نےکہاہے کہ وہ اسلام کے نام کو ذاتی مفاد کیلئے استعمال کرنے کے قائل نہیں ہیں‘آج دین پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہمارے حالات ابتر ہیں‘ہمیں بڑی قوم بننے کیلئے صادق اور امین بننا ہوگا ‘ اگر اسی طرح آبادی بڑھتی رہی اور پیداوار کی شرح میں اضافہ نہ ہواتوآئندہ برسوں میں پاکستان میں بہت بھوک ہوگی۔

پچھلے ایک سال میں اشیائے خوردنی کی قیمتیں پچھلے 20 سال کے مقابلے میں زیادہ بڑھی ہیں‘بڑے بڑے مافیاز قانون کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور اس کی بالادستی نہیں چاہتے۔

ماضی کے حکمرانوں نے نظام کو مضبوط نہیں ہونے دیا‘ کرپٹ سسٹم سے فائدہ اٹھانے والے مافیازکہتے ہیں ہمیں این آر او دے دیں اور غریبوں کو پکڑیں‘ملک اور عوام کی ترقی کیلئے اگلے انتخابات کا نہیں اگلی نسلوں کا سوچنا ہوگا۔

ایسی منصوبہ بندی کر رہے ہیں کہ عالمی منڈی کے اثرات ہمارے ملک میں اشیاء کی قیمتوں پر نہ پڑیں، وزیرستان میں محسود اور وزیر قبائل کیلئے دو اضلاع بنائیں گے۔

رشوت دینے اور رشوت لینے والے دونوں کی غیرت ختم ہو جاتی ہے‘بیرون ملک اربوں روپے کی جائیدادیں بنانے والے اب وہاں بیٹھے ہوئے ہیں اور تقریریں کر رہے ہیں لیکن اپنے ذرائع آمدن کی ایک رسید تک نہیں دکھا سکتے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو یہاں کسان کنونشن اور کسان کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عمران خان نے کسانوں میں کسان کارڈز اور ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے موٹر سائیکلز کی چابیاں بھی تقسیم کیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگر پیداوار میں اضافہ نہ ہوااورآبادی اسی طرح بڑھتی رہی توپھر آگے بھوک اور افلاس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے‘ عمران خان کا کہناتھاکہ سچے اور غیرت مند لوگ ہی مضبوط قوم بنا سکتے ہیں، ہمیں عظیم قوم بننے کیلئے اپنے اخلاق کو بلند کرنا اوررشوت ستانی کو ختم کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ بیرونی دنیا میں کوئی الیکشن میں دھاندلی کا سوچ بھی نہیں سکتا لیکن ہمارے ملک میں پولنگ ایجنٹس بھی موجود ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہماری توجہ ووٹرز کو پولنگ اسٹیشن پر لانے سے زیادہ دھاندلی کو روکنے پر ہوتی ہے،ہم مافیاز کے خلاف قانون کی بالادستی کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن ساتھ ساتھ قوم کو بھی اپنے آپ کو بدلنا ہے، زرعی ملک ہونے کے باوجود گزشتہ سال 40 لاکھ ٹن گندم درآمد کی گئی۔

رواں سال گندم کی ریکارڈ پیداوار ہونے کے باوجود ہمیں گندم درآمد کرنا پڑ رہی ہے، اسی طرح دالیں، گھی اور دیگر اشیائے خوردنی بھی درآمد کرتے ہیں، بیرونی منڈیوں میں قیمتیں بڑھنے سے یہاں بھی مہنگائی میں اضافہ ہوا۔

ہمیں اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے فصلوں کی پیداوار میں بھی اضافہ کرنا ہوگا‘ملک میں اگر اناج اگائیں تو بیرونی قیمتوں کا ہمارے اوپر اثر نہیں پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں