22

پاکستان: متحدہ اپوزیشن کی نئی حکومت کتنی مضبوط ہوگی؟

اپوزیشن کی حکومت ہوگی کیسی، قومی اسمبلی کی باقی مدت مکمل کر لے گی اور اسے سب سے بڑے چیلنجز کیا ہوں گے؟ ان سوالات کا مختصر جواب تو یہی ہوسکتا ہے کہ نئی حکومت کے لیے اقتدار ’کانٹوں کی سیج‘ ہوگی۔
قومی اسمبلی میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد متحدہ اپوزیشن کے امیدوار شہباز شریف نے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے جبکہ سپیکر قومی اسمبلی کے لیے پیپلز پارٹی کے کسی رکن کو نامزد کیے جانے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نو اپریل کو قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوئی اور 11 اپریل کو مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا۔

اس دوران پاکستان تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں نہ بیٹھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے استعفے دینے کا فیصلہ کیا۔

تاہم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں بطور وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں عوام کو ریلیف دیتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے اور رمضان میں آٹے کی قیمتوں میں کمی جیسے اعلانات بھی کر دیے۔
اب یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اپوزیشن کی حکومت ہوگی کیسی، قومی اسمبلی کی باقی مدت مکمل کر لے گی اور اسے سب سے بڑے چیلنجز کیا ہوں گے؟ ان سوالات کا مختصر جواب تو یہی ہوسکتا ہے کہ نئی حکومت کے لیے اقتدار ’کانٹوں کی سیج‘ ہوگی۔
جلد انتخابات یا مدت پوری؟
پاکستان ڈیموکریٹک الائنس یا پی ڈی ایم نامی اپوزیشن کے اس اتحاد کو سب سے پہلا اور اہم فیصلہ یہ کرنا ہوگا کہ جلد عام انتخابات منعقد کروائیں یا موجودہ قومی اسمبلی کو اپنی باقی ماندہ سال بھر کی مدت مکمل کرنے کا موقع دیں۔
سیاسی بحران سے قبل عمران خان حکومت اس سال اگست میں دوبارہ مردم شماری کروانے کا ارادہ رکھتی تھی تاکہ اس کے تحت زیادہ اچھے انداز میں انتخابات منعقد ہو سکیں۔
کیا یہ ممکن ہو پائے گا؟ الیکشن ریفارمز اور نئے انتخابات کی تیاری بھی اپوزیشن کے لیے بڑے چینلج ہوں گے۔
سابق وزیر داخلہ شیخ رشید جو اپنی سیاسی پیش گوئیوں کی وجہ سے مشہور ہیں، نے کہا تھا کہ ’وہ اگست یا ستمبر میں عام انتخابات دیکھ رہے ہیں۔‘ ان کی پیش گوئی اکثر ویسے درست ثابت نہیں ہوئیں۔
اس حوالے سے تجزیہ کار عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ ’اپوزیشن نے پہلی کامیابی حاصل کر لی ہے اور جو اتحاد قائم ہوا ہے وہ آئندہ چھ یا آٹھ ماہ میں الیکشن ریفارمز کرکے نئے انتخابات کرانے کے لیے ہے۔‘
نئی حکومت
مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) جیسی بڑی سیاسی جماعتوں پر مشتمل اپوزیشن کے لیے سب سے بڑا چیلنج موجودہ اتحاد کو برقرار رکھنا ہوگا۔
عمران خان حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی ترجیح نئی حکومت کا قیام ہوگا۔ اس پر سوچ بچار وزیراعظم اور سپیکر قومی اسمبلی کی حد تک تو ہوچکا ہے لیکن کابینہ میں وزرا اور وزارتوں کی تقسیم سے ہمیشہ چند خوش اور اکثر ناراض ہوجاتے ہیں۔
اہم وزارتیں کن کو ملیں گی اور کون کچھ بھی حاصل نہیں کر پائے گا۔ اتحادیوں کو کتنی اور کن وزارتوں کے ساتھ مطمئن رکھا جاسکے گا۔ ایک جماعتی حکومت کے اندر وزارتوں کی تقسیم پر مسائل اٹھ کھڑے ہوتے ہیں یہ تو کئی جماعتوں کا اتحاد ہے اس لیے اس حوالے سے اختلافات کے امکانات زیادہ ہیں۔
اپوزیشن کے مطابق وزیراعظم اور سپیکر کے علاوہ وفاق اور پنجاب میں عہدوں پر نامزدگیوں کے حوالے سے معاملات طے نہیں ہوسکے ہیں۔ ان کے لیے پہلا مرحلہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کو ہٹانا تھا اور اس مرحلے کے مکمل ہونے کے بعد باقی عہدوں پر نامزدگیوں پر غور کیا جائے گا۔
لیکن مرکز میں والد اور صوبے میں بیٹے کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز ہونے سے مسلم لیگ ن کے مخالفین پہلے ہی اس جماعت کی خاندانی سیاسی میراث پر تنقید کر رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری منظور احمد تو کہہ چکے ہیں کہ ’ان کے لیے اگلا مرحلہ پاور شیئرنگ فارمولہ ہی ہے، جو ابھی تک طے نہیں ہوا ہے۔‘
معاشی چیلنج
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی حکومت کو سیاسی مسائل سے زیادہ معاشی چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آئی ایم ایف سے جاری معاہدوں کو برقرار رکھنا یا تبدیل کرنا، مہنگائی پر قابو پانا، انتظامی امور میں بہتری بڑا امتحان ثابت ہوگا۔
آئی ایم ایف سے ہونے والے معاہدوں اور معاشی پالیسیوں سے متعلق نئی حکومت کو بڑے فیصلے کرنا ہوں گے۔ عمران حکومت نے جس طرح انتظامی امور چلائے انہیں درست کرنے کے لیے بھی وقت درکار ہوگا۔
اگر جلد مسائل حل نہ ہوئے تو ذمہ داری ان تمام جماعتوں پر آئے گی۔
مخدوش معاشی حالات میں کئی لوگ ملک میں تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر میثاق معیشت کے نام سے کسی معاہدے کے تحت حل کرنا ہوگا۔
اپوزیشن لیڈر اور متوقع وزیراعظم شہباز شریف کہہ چکے ہیں کہ کوئی سیاسی جماعت اکیلے حالات نہیں سنبھال سکتی لہذا مخلوط حکومت بننے سے جے یو آئی سمیت دوسری جماعتیں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کر سکتی ہیں۔
’زخمی‘ عمران خان
عمران خان ماضی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتوں کے لیے سخت اپوزیشن ثابت ہوئے تھے، دھرنے اور جلسے جلوس کر کر کے انہوں نے ان کی حکومتوں کی ناک میں دم کر رکھا تھا۔ اب وزارت عظمیٰ چھن جانے کے بعد وہ زیادہ زخمی اور مہلک ثابت ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے خود گذشتہ دنوں کہا تھا کہ وہ اگر دوبارہ سڑکوں پر آئے تو ’زیادہ خطرناک‘ ہوں گے۔
حکومت میں تبدیلی سے بظاہر پاکستان میں کوئی زیادہ سیاسی سکون آنے کا امکان نہیں ہے۔ عمران خان نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے ایک دن قبل ہی عوام سے پرامن احتجاج کی کال دے دی تھی، جس کا مظاہرہ 10 اپریل کو ملک بھر میں پی ٹی آئی کی حمایت میں مظاہروں کی صورت میں نظر آیا تھا۔
اس کے علاوہ وہ عوامی رابطوں کے سلسلے کا بھی آغاز بدھ کو پشاور سے کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں