28

پاکستان: خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں تحریک طالبان کا ایف سی قلعے پر حملہ، چھ اہلکار ہلاک، 18 زخمی

پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ٹانک میں ایف سی قلعہ پر حملے میں چھ سیکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ 18 زخمی ہوئے ہیں۔
ٹانک پولیس حکام کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی رات کے تین بجے کم از کم تین حملہ آور ٹانک میں واقع ایف سی قلعے میں عقبی جانب سے داخل ہوئے۔
واضح رہے کہ پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے اس حملے کی تصدیق کی گئی ہے جس کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی نے قبول کی ہے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق دہشت گردوں نے ٹانک کے ملٹری کمپاوئنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کی جسے ناکام بناتے ہوئے چھ فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔
’دہشت گردوں نے سیڑھیوں کا استعمال کیا‘
ٹانک کے ضلعی پولیس افسر وقار خان نے بی بی سی کو بتایا کہ دہشت گردوں نے ایف سی قلعے میں داخل ہونے کے لیے سیڑھیوں کا استعمال کیا۔
ٹانک کا ایف سی قلعہ جس کو ایف سی لائن بھی کہا جاتا ہے، پولیس لائن کی طرز کا ایک کمپاؤنڈ ہے جس میں فوج، فرنٹیئر کور اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار موجود رہتے ہیں۔ یہ قلعہ ٹانک شہر کے اہم مرکزی علاقے میں واقع ہے جہاں سرکاری دفاتر اور کچہری کے علاوہ جنوبی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر اور پولیس افسران کے دفاتر بھی واقع ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ دہشت گردوں کی جانب سے سیڑھیوں کے ذریعے قلعے کی دیوار عبور کرنے کی کوشش کے دوران اندر موجود اہلکاروں نے ان کو دیکھ لیا تھا۔
پولیس کے مطابق قلعے میں موجود اہلکاروں نے آواز دینے کے بعد فائرنگ کا آغاز کر دیا جس سے ایک حملہ آور موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔
’فائرنگ کا سلسلہ صبح تک جاری رہا‘
مقامی صحافی صبغت اللہ نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ قلعے کے قریب پریس کلب میں موجود تھے جب انھوں نے فائرنگ کی آوازیں سنیں۔
صبغت اللہ کے مطابق ‘فائرنگ کا سلسلہ رات تین بجے شروع ہوا اور صبح تک جاری رہا۔’ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘بعد میں معلوم ہوا کہ ٹانک کے ایف سی لائن پر حملہ ہوا ہے اور حملہ آور ایف سی لائن کے اندر داخل ہو گئے ہیں۔’
ڈسٹرکٹ ہسپتال ٹانک کے میڈیکل سپرنٹینڈینٹ ڈاکٹر عباس شیرانی نے بتایا کہ ہسپتال میں چھ لاشیں اور 18 زخمی لائے گئے ہیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد سی ایم ایچ ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کر دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر عباس شیرانی کا کہنا تھا کہ چار زخمی افراد کو شریپنل یا چھرے کے زخم لگے تھے جبکہ 14 زخمیوں کو گولیاں لگی تھیں لیکن ان میں سے کوئی نازک حالت میں نہیں ہے۔
جنوبی وزیرستان میں چند روز میں بڑے حملے
خیبر پختونخوا کا جنوبی ضلع ٹانک جنوبی وزیرستان کےساتھ واقع ہے جہاں سے ایک راستہ صوبہ بلوچستان کے ضلع ژوب کو بھی جاتا ہے۔ ٹانک کی سرحد ایک طرف ڈیرہ اسماعیل خان سے بھی ملتی ہے۔
جنوبی وزیرستان سمیت قریبی علاقوں میں ان دنوں تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
جنوبی وزیرستان سے چند روز میں سیکیورٹی فورسز پر دو بڑے حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں جن میں سکیورٹی فورسز کا جانی نقصان ہوا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق منگل کی شب جنوبی وزیرستان میں مکین کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں دو فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے جن میں 25 سالہ کیپٹن سعد بن عامر اور 37 سالہ لانس نائیک ریاض شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں