26

پاکستان اور افغانستان کے درمیان باڑ کا مسئلہ

افغان طالبان کی طرف سے پاک افغان سرحد پر باڑ کو ہٹانے کے حوالے سے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اس مسئلہ کو سفارتی سطح پر حل کر لے گا۔
واضح رہے کہ جب سے افغان طالبان افغانستان میں اقتدار میں آئے ہیں تو ان کی طرف سے نا صرف پاکستانی جھنڈے کی بے حرمتی کی جا چکی ہے، پاکستان کے امدادی ٹرک کو روکا گیا ہے بلکہ بعض اوقات انہوں نے پاکستانی سپاہیوں کو دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔ پاکستان نے گزشتہ کچھ برسوں میں سرحد کے ساتھ جو باڑ لگائی تھی اس کو مختلف مقامات پر یا تو نقصان پہنچایا ہے یا اسے توڑ بھی دیا ہے۔

طالبان کے اس رویہ کی وجہ سے پاکستان میں بہت سارے حلقوں میں سخت اشتعال پایا جاتا ہے اور کئی پاکستانی اس مسئلہ پر اسلام آباد سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ سخت مؤقف اختیار کرے۔ تاہم بین الاقوامی امور کے ماہرین وزیر خارجہ کے اس نقطہ نظر سے متفق نظر آتے ہیں کہ اس مسئلہ کو سفارتی سطح پر حل کیا جائے۔

واضح رہے کہ شاہ محمود قریشی نے پیر تین جنوری کو صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے باڑ لگائی ہے اور وہ اب بھی باڑ لگانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کچھ عناصر نے اس مسئلے کو اچھالنے کی کوشش کی لیکن پاکستان اس مسئلے کو سفارتی ذرائع سے حل کرے گا اور اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا۔

ڈیورنڈ لائن کا تاریخی پس منظر
عام طور پر کئی حلقوں میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ افغانستان اور برطانوی سامراج کے درمیان جو لڑائیاں ہوئیں ان لڑائیوں کے دوران برطانوی سامراج نے افغانستان سے موجودہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے پشتون علاقے چھینے اور انہیں برٹش انڈیا میں شامل کیا۔ معروف مؤرخ ڈاکٹر مبارک علی کا کہنا ہے کہ یہ تاریخی طور پر درست بات نہیں ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”یہ تصور غلط ہے کہ موجودہ خیبرپختونخوا کو انگریزوں نے فتح کیا تھا اور اسے برٹش انڈیا کا حصہ بنایا تھا۔ درحقیقت موجودہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں کو رنجیت سنگھ کے دور میں فتح کیا گیا کیونکہ رنجیت سنگھ کے دور میں افغانوں پر یہ الزام لگایا جاتا تھا کہ وہ پنجاب کے علاقوں میں آ کے لوٹ مار کرتے تھے۔ یہاں تک کہ احمد شاہ ابدالی بھی ملتان میں پیدا ہوا تھا۔ اس لیے اس لوٹ مار سے نجات حاصل کرنے کے لیے رنجیت سنگھ نے ان علاقوں پر قبضہ کیا اور ان سے لڑائی کی۔ رنجیت سنگھ کے دور میں ایک مشہور سکھ جنرل تھا جس نے ان علاقوں کو فتح کیا تھا۔ تو اسی لیے کچھ لوگ رنجیت سنگھ کو پاکستان کا اصل خالق کہتے ہیں کیونکہ موجودہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں کو اس نے افغانوں سے لڑ کر پنجاب میں شامل کیا تھا۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب رنجیت سنگھ کی وفات ہوگئی تو اس کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نے پنجاب پر قبضہ کیا: ”اور کیونکہ خیبر پختونخوا پہلے ہی پنجاب کا حصہ تھا اس لیے وہ برٹش انتظامیہ میں چلا گیا اور بعد میں ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ ہوا جس کے تحت ان کو برٹش انتظامیہ کے تحت کر دیا گیا۔‘‘
معروف پختون دانشور ڈاکٹر سید عالم محسود کا کہنا ہے کے پشاور افغانوں کا سمر دارالحکومت ہوتا تھا اور قابل ونٹر دارالحکومت۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ افغانوں کا دعویٰ ہے کہ اٹک تک کا سارا علاقہ افغانستان کا حصہ ہے: ”جب ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ ہوا تو افغانستان کا حاکم امیر عبدالرحمان کو انگریزی نہیں آتی تھی اور انگریزوں نے اپنے مطلب کی شرائط رکھ کر اس سے معاہدے پر دستخط کرا لیے۔‘‘

ڈاکٹر مبارک علی بھی سید عالم محسود کی اس بات سے متفق ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ انگریزوں نے صرف افغانستان کے حاکموں کے ساتھ ہی ایسا نہیں کیا بلکہ انہوں نے نیوزی لینڈ اور دنیا کے کئی دوسرے علاقوں میں بھی اسی طرح علاقوں پر قبضہ کر کے اپنی من پسند شرائط لکھوائیں اور پھر اس پر وہاں کے مقامی حکمرانوں سے دستخط کروا لیے۔‘‘

کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی سابق سربراہ ڈاکٹر طلعت عائشہ وزارت کا کہنا ہے کہ طالبان کے رویے پر پاکستان کے لوگوں کو بہت مایوسی ہوئی ہےلیکن پھر بھی طالبان حامدکرزئی یا اشرف غنی نہیں ہیں اور وہ پاکستان کے نسبتاً خیر خواہ ہیں اور یہ کہ اس مسئلہ کو سفارتی طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”ہمیں طالبان کو سفارتی چینلز کے طور پر یہ بات واضح کر دینی چاہیے کہ پاکستان میں اس کے لیے بہت بڑے پیمانے پر عوام کی حمایت موجود ہے اور پاکستان کے ادارے اور عوام دونوں چاہتے ہیں کہ اس باڑ کو لگایا جائے۔ تاہم ہمیں طالبان کو ان کا مفاد بھی سمجھانا چاہیے اور انہیں بتانا چاہیے کہ اگر یہ باڑ لگائی جاتی ہے تو طالبان مخالف عناصر پاکستان نہیں آ سکیں گے اور یہاں سے وہ کسی دوسرے ملک نہیں بھاگ سکیں گے۔ اس کے علاوہ مہاجرین کے بہاؤ کو بھی روکا جا سکتا ہے اگر مہاجرین کا بہاؤ بڑھ جاتا ہے تو اس سے دنیا میں یہ تاثر جائے گا کہ طالبان اپنے مخالفین پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں اس لیے وہ بھاگ رہے ہیں۔‘‘

ڈاکٹر طلعت عائشہ وزارت کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے: ”سب سے پہلے پاکستانیوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ طالبان اشرف غنی یا حامد کرزئی نہیں ہیں جن کے ادوار میں نا صرف پاکستان میں دہشت گرد بھیجے جاتے تھے، پاکستان مخالف کارروائیاں کی جاتی تھیں بلکہ سرحد پر فائرنگ بھی کی جاتی تھی۔ طالبان کے دور میں خالی باڑ ہٹائی جا رہی ہے اور ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہے کہ یہ طالبان کے لوگ ہیں یا طالبان کی صفوں میں شامل حامد کرزئی اور اشرف غنی کی باقیات ایسا کر رہی ہیں۔ تاہم کیونکہ طالبان نے ابھی تک ایسے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی، پاکستان میں یہ تاثر ہے کہ شاید طالبان بھی ایسے عناصر کی خاموش حمایت کر رہے ہیں۔ ہمیں سفارتی ذرائع کے ذریعے طالبان کو کہنا چاہیے کہ وہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں۔‘‘
پاکستان کا مؤقف
پاکستان میں کئی ناقدین کا خیال ہے کہ پاکستان یہ کہتا ہے کہ کیونکہ ڈیورنڈ لائن کے معاہدے میں افغانستان کے امیر عبدالرحمان نے اس کو ایک طریقے سے سرحد مان لیا تھا اس لیے اب اس کو سرحد ہی مانا جائے۔ پشاور یونیورسٹی کے ایریا اسٹڈی سنٹر کے سابق سربراہ ڈاکٹر سرفراز خان کا کہنا ہے کہ پاکستان خیبرپختونخوا یا اس دور کے شمال مغربی صوبے میں ہونے والے ریفرینڈم کا بھی حوالہ دیتا ہے: ”پاکستانی حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ ڈیورنڈ لائن معاہدے کے دوران افغانستان کے امیر نے اس کو سرحد مان لیا تھا اور یہ علاقہ پاکستان کے پاس برطانیہ سے آیا اور اس کے لیے ریفرنڈم بھی ہوا۔ اس لیے اسی کو ہی بین الاقوامی سرحد تسلیم کرنا چاہیے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ تاہم کچھ پختون قوم پرست اس بات کو نہیں مانتے: ”وہ کہتے ہیں کہ یہ ریفرنڈم پورے پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں نہیں ہوا تھا بلکہ پشاور وادی اور کچھ اور علاقوں میں ہوا تھا اور اس میں صرف دو لاکھ لوگوں نے ووٹ دیے تھے اور اس ریفرنڈم کا خدائی خدمت گار کی طرف سے بائیکاٹ بھی کیا گیا تھا۔‘‘

افغانستان کے لیے حساس مسئلہ
ڈاکٹر سرفراز کا کہنا ہے کہ کوئی بھی افغان حاکم ڈیورنڈ لائن کو سرحد تسلیم نہیں کر سکتا: ”کیونکہ وہاں یہ مسئلہ بہت حساس ہے اور بہت سارے حلقے اس سرحد کو تسلیم نہیں کرتے۔ کہا جاتا ہے کہ داؤد نے اس کو سرحد تسلیم کرنے کے لیے کوشش کی تھی لیکن پھر اس کا تختہ الٹ دیا گیا۔ یہ تصور کیا جاتا ہے کہ روس نے داؤد کی حکومت ختم کرائی لیکن درحقیقت قوم پرستوں نے اس کا تختہ الٹا تھا کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ داؤد اس کو سرحد تسلیم کرے۔‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں