17

پاکستانی سپریم کورٹ میں پہلی خاتون جج کی تعیناتی کی راہ ہموار

جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی سفارش کے بعد پاکستان کی اعلیٰ ترین عدلیہ میں پہلی خاتون جج کی تعیناتی کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔
پاکستانی سپریم کورٹ میں ججوں کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے جسٹس عائشہ ملک کا نام تجویز کر دیا ہے۔ کمیشن کی سفارش کے بعد اب پارلیمانی کمیٹی ان کی تعیناتی کے بارے میں حتمی فیصلہ کرے گی۔

جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے نو ارکان ہیں۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے جسٹس عائشہ ملک کا نام تجویز کیا۔ کمیشن کے پانچ ارکان نے ان کی حمایت اور چار ارکان نے مخالفت کی۔

عائشہ ملک لاہور ہائی کورٹ کی جج ہیں۔ ان کی نامزدگی کی مخالفت کرنے والوں کی رائے تھی کہ سپریم کورٹ میں تعیناتی کے لیے سینیارٹی کا اصول پیش نظر رکھا جانا چاہیے۔

بہرحال اختلاف کے باوجود کمیشن نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون جج کو سپریم کورٹ کے لیے نامزد کر دیا ہے۔ پارلیمانی کمیٹی سے منظوری کے بعد وہ پاکستان کی اعلیٰ ترین عدلیہ میں جج بننے والی پہلی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کر لیں گی۔
سوشل میڈیا پر رد عمل
اس فیصلے کے بعد ٹوئٹر سمیت پاکستانی سوشل میڈیا پر جسٹس عائشہ ملک کا نام ٹاپ ٹرینڈ رہا۔ زیادہ تر صارفین پہلی خاتون جج کی نامزدگی پر خوشی کا اظہار کرتے دکھائی دیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں