mazhar-barlas articles 65

پاکستانیوں کی سب سے بڑی جماعت. مظہر برلاس

آج کل میٹنگوں، مشاعروں، اجلاسوں اور سیمینارز میں آن لائن شریک ہونا پڑتا ہے۔ یہ سلسلہ وسیع ہوتا جا رہا ہے، اب تو آن لائن شادیوں اور ولیموں میں شرکت ہو رہی ہے، اسی طرح آن لائن دعائیہ کلمات بھی ادا کئے جا رہے ہیں ہمارے ایک دوست نے آن لائن تعزیت کرنے کا طریقہ بھی ڈھونڈ نکالا ہے اس تعزیتی پیغام میں مرحوم کے مواصلاتی رابطوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے اور سوشل میڈیا کے حوالے سے انہیں عقیدت کے پھول بھی پیش کئے گئے ہیں۔

ذرا یہ تعزیتی پیغام پڑھ لیجئے ’’مرحوم بہت اچھا انسان تھا، ہمیشہ آن لائن رہتا تھا، ہر ایک کی ریکویسٹ قبول کرلیتا تھا، مرحوم نے اپنے کمنٹس سے کبھی کسی کو تکلیف نہیں دی۔

وہ بڑے دل کا مالک تھا، اس کی پوسٹ بڑی جاندار ہوتی تھی اس نے کبھی کسی کو بلاک نہیں کیا بلکہ وہ تمام دوستوں کی پوسٹوں کو دل کھول کر لائیک کرتا تھا، پوسٹ کو لائیک کرتے وقت مرحوم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ پوسٹ امیر کی ہے یا غریب کی۔

وہ ہر گروپ کا ممبر تھا اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ مرتے وقت بھی آن لائن تھا‘‘ آپ بھی اس پوسٹ کو لائیک کریں اور سب گروپوں میں ڈال دیں، شکر ہے مرحوم نے یوٹیوب چینل نہیں بنایا تھا ورنہ کئی بے ڈھنگے پروگرام دیکھنا پڑتے۔کئی لوگوں کو تو بار بار اسٹیٹس لگانے کی یا تبدیل کرنے کی عادت ہے۔

کبھی روٹی کھاتے وقت تو کبھی ہاتھ دھوتے وقت، ابھی پتہ نہیں اس میں کس کس رنگ کے اسٹیٹس آئیں گے۔میری ایک بہت اچھی دوست روزانہ ڈی پی چینج کرتی ہے۔ کورونائی موسم نے سوشل میڈیا کو چار چاند لگا دیئے ہیں، ماسک کی دنیا میں بھی نت نئے فیشن برآمد ہو رہے ہیں۔

پرکشش ماسک خواتین کی کمزوری تو تھی ہی اس نے پاکستانی سیاست دانوں کوبھی نہیں بخشا، پاکستان میں بلاول بھٹو زرداری نے رنگوں سے بھرپور ماسک پہنے۔

چودہ اگست کو وزیر اعظم عمران خان نے بھی پاکستانی پرچم والا ماسک پہن رکھا تھا مگر آج میں نے پاکستان کی روایتی سیاسی پارٹیوں پر نہیں لکھنا کیونکہ یہ سب ایک جیسی ہیں۔

آج مجھے اوورسیز پاکستانیوں کی سب سے بڑی جماعت پر لکھنا ہے۔اس سلسلے میں مہر ظہیر اور عابد بٹ کی اپنی اپنی تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔برادرم شاہد رضا رانجھا نے بھی اوورسیز پاکستانیوں کی ایک تنظیم بنا رکھی ہے مگر اس تنظیم میں شامل ہونے کیلئے منڈی بہائو الدین کا ڈومیسائل ضروری ہے، شاہد رضا رانجھا منڈی بہائوالدین کے علاوہ کسی کو اس کی ممبر شپ نہیں دیتے۔

میری زندگی میں دوستوں کی کثیر تعداد پھالیہ، بارموسیٰ، ملکوال، رسول نگر اور گوجرہ سمیت ضلع منڈی بہائوالدین کے کئی دیہات کی ہے مگر شاہد رضا رانجھا کے سامنے دوستیاں الگ میرٹ صرف منڈی بہائوالدین ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کی تمام تنظیموں میں سے میاں طارق جاوید کی تنظیم آگے نکل گئی ہے بلکہ پوری جماعت بن گئی ہے۔

اس جماعت میں علاقائی نہیں بلکہ سیاسی جراثیم زیادہ ہیں۔پہلے تو میں اس سیاسی جماعت کے کنوینر یا چیئرمین کا ہلکا پھلکا تعارف کروا دوں۔میاں طارق جاوید پکا لاہوری ہے،زمانہ طالب علمی میں یہ نوجوان پی ایس ایف کا جوشیلا کارکن تھا۔ مرحوم جہانگیر بدر ہمیشہ مجھے گروکہہ کر پکارتےتھے، اب یہ کام چودھری محمد سرور کرتے ہیں۔طارق جاوید کو میں نے جہانگیر بدر کی قربت میں دیکھا پھر میں نے اس نوجوان کو اپنے سوہنے اور سلکھنے نوید چودھری کی محبتوں کا اسیر پایا۔

صحافیوں میں اسے اپنے بچپن کے دوست سہیل وڑائچ کے قریب پایا۔ خیر یہ نوجوان لاہور میں بڑا متحرک تھا پھر عرصہ ہوا یورپ چلا گیا۔یورپ جاکے بھی سیاست نے اسے بے چین رکھا، وہ پہلے پہل تو پیپلز پارٹی یورپ کاحصہ بنا، محترمہ بے نظیر بھٹو کےلئے آواز بلند کرتا رہا پھر جب اس نے دیکھا کہ اوورسیز پاکستانیوں میں سب سے مقبول جماعت تحریک انصاف ہے تو وہ اپنے دوستوں اور بھائیوں کی فرمائش پر پی ٹی آئی کا حصہ بن گیا۔

پورے یورپ کا صدر بنا رہا ، جب پی ٹی آئی اقتدار میں آئی تو وہی روایتی حربے نظر آئے تو اپنی الگ شناخت کے لئے ’’پاکستان اوورسیز کمیونٹی ‘‘ کی بنیاد رکھی۔اب یہ جماعت دنیا کے نوے ملکوں میں پھیل چکی ہے اس کے پاس اوآئی سی سے زیادہ ملکوں کے ووٹ ہیں، اقوام متحدہ کے بعد یہ دنیا کی دوسری بڑی تنظیم ہے۔

اوورسیز پاکستانی اپنے پیارے پاکستان سے ٹوٹ کرمحبت کرتے ہیں، ان کے اجلاسوں میں پاکستان کی وفا نظر آتی ہے، ان کے ملبوسات میں پاکستان بولتا ہے۔ ان کے ریسٹورینٹس میں پاکستانی کھانوں کے ذائقے بہتر انداز میں ملتے ہیں، وہ پاکستان کے دن ہم سے زیادہ جوش وخروش سے مناتے ہیں۔

وہ اپنے خاندانوں کےلئے کما کر بھیجتے ہیں، ترسیلات زر کے تحت پاکستان میں ڈالروں کی بارش کرتے ہیں۔ پچھلے مہینے انہوں نے پاکستانی خزانے میں پونے تین ارب ڈالر بھجوائے اور سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے۔ پاکستان سے اتنی محبت کرنے والوں کو وطن سے ٹھنڈی ہوا نہیں ملتی۔ان کی جائیدادوں پر قبضے کر لئے جاتے ہیں۔

دہری شہریت کے نام پر ان کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے، پاکستانی سفارتخانے انہیں گھاس نہیں ڈالتے۔پی او سی( پاکستان اوورسیز کمیونٹی ) کا وجود پاکستان میں بھی ہے ۔

یہاں اس کے صدر سینیٹر میاں عتیق ہیں مگر دنیا بھر کے لئے اس جماعت کے صدر اپنے حلیے اور قد کاٹھ سے پکے امریکی نظر آنے والے ساجد تارڑ ہیں۔یہ جماعت پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لئے متحرک رہے گی۔

ووٹ کا حق، اوورسیز پاکستانیوں کی سینٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی اس جماعت کا بنیادی مقصد ہے تاکہ جو پاکستانی اپنے ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہوں ان کے راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ رہے ۔

ہو سکتا ہے اگلے الیکشن میں آپ کو اس جماعت کے امیدوار بھی نظر آئیں چونکہ اوورسیز پاکستانی اب پاکستان کی سیاسی جماعتوں پر اعتبار نہیں کرتے بلکہ وہ خود پاکستان کی تقدیر سنوارنا چاہتے ہیں۔بقول وصی شاہ

ماں کے ہاتھ کی چُوری باپ کی مشفق ڈانٹ

ساری عمر یہ میلہ تھوڑی رہتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں