38

پاکستانیوں کا دورہ اسرائیل: وزارت خارجہ لاعلم

پاکستانی شہریوں کے اسرائیل کے حالیہ دنوں میں دورے کے متعلق وزارت خارجہ نے لاعلمی ظاہر کی ہے۔
پاکستانی اور امریکی شہریوں پر مشتمل ایک وفد نے حال ہی میں اسرائیل کا سات روزہ دورہ کیا ہے، جس میں اس نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سمیت ملک کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی۔ تاہم پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق اسے اس بارے میں کوئی معلومات نہیں۔
وفد میں ایسے پاکستانی بھی موجود ہیں جن کا میڈیا سے تعلق ہے۔ ان میں سے ایک احمد قریشی ہیں جو قومی نشریاتی ادارے پاکستان ٹیلی ورژن (پی ٹی وی) سے منسلک ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس دورے کو لے کر شدید تنقید کے ساتھ ساتھ کئی سوالات پوچھے جا رہے ہیں۔
سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ وہ احمد قریشی کو اسرائیل میں دیکھ کر محض اس لیے ہی حیران نہیں کہ وہ پی ٹی وی کے لیے کام کرتے ہیں بلکہ اس لیے بھی کہ ’وہ حساس نوعیت کے ریاستی اداروں سے وابستہ ہیں۔‘
شیرین مزاری نے دعویٰ کیا کہ احمد قریشی ایک برس سے زائد عرصے سے ’اسرائیل نواز ایجنڈے کو ہوا دے رہے ہیں‘ اور عمران خان کی آزاد خارجہ پالیسی کو نشانے پر لیے ہوئے ہیں۔
انہوں نے ٹویٹ میں کہا: ’یہ بھی تبدیلی سرکار کی امریکہ سازش ہی کا حصہ لگتا ہے۔ یہ نہایت سنجیدہ معاملہ ہے اور ہمیں خفیہ اداروں سے نہیں تو ڈی جی آئی ایس پی آر سے باضابطہ جواب درکار ہے۔‘
سینیٹر مشتاق احمد نے ٹویٹر پر سوال اٹھایا کہ قومی نشریاتی ادارے سے منسلک اینکر کا دورے میں شامل ہونا کیا پاکستان کی پس پردہ ڈپلومیسی ہے؟
انہوں نے کہا کہ ’یہ صحافی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے وکیل ہیں۔ ان کا یہ دورہ کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے جس کی وزارت اطلاعات اور وزیر خارجہ کو وضاحت دینی چاہیے۔‘
وفد میں شامل صحافی کیا کہتے ہیں؟
احمد قریشی نے اس حوالے سے کہا: ’یہ ایک پاکستانی نہیں امریکی وفد ہے۔ اس میں پاکستانی نژاد امریکی ہیں جو واشنگٹن کے ذریعے تل ابیب پہنچے۔‘
انہوں نے بطور سرکاری ملازم اسرائیل دورے کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ نہ وہ پی ٹی وی کے ملازم ہیں اور نہ ہی سرکاری ملازمت کرتے ہیں۔
ان کے مطابق وہ ’کچھ ماہ سے ایک عارضی پروگرام کے میزبان ہیں‘ اور ’یہ وفد مشرق وسطیٰ میں امن کےحوالے سے دبئی میں کانفرنس کے بعد اسرائیل اور فلسطینی رہنماؤں سے ملاقات کرنے گیا جو کہ ایک تعلیمی دورہ ہے جس پرسیاست کرنا افسوس ناک ہے۔‘
شیریں مزاری کو جواب دیتے ہوئے انہوں نے پی ٹی وی کے حساس ادارہ ہونے سے متعلق سوال اٹھایا۔
انہوں نے لکھا: ’ڈاکٹر صاحبہ، یہ حساس نوعیت کے ریاستی اداروں کا کوئی نام بتا دیں، مجھے بھی پتہ چلے؟ کیونکہ پی ٹی وی، وزارت خارجہ، غیر ممالک میں ہمارے سفارت خانے، یہ سب ایک طرح سے حسّاس ادارے ہیں جن کے ساتھ قومی سلامتی پر کام کرنے والے کسی بھی صحافی کا رابطہ ہوتا ہے۔ ہمت کریں۔‘
اس دورے پر سوالات کیوں اٹھائے جا رہے ہیں؟
پاکستان کے پاسپورٹ پر واضح لکھا ہوتا ہے کہ ’اس پاسپورٹ پر ماسوائے اسرائیل دنیا کے کسی بھی ملک میں سفر کیا جا سکتا ہے۔‘
اس کا واضح مطلب ہے کہ کم سے کم گرین پاسپورٹ پر کوئی اسرائیل سفر نہیں کر سکتا۔ اس دورے پر سوال اس لیے اٹھائے جا رہے ہیں کہ جب پاسپورٹ پر واضح درج ہے تو پھر یہ پاکستانی کس طرح اسرائیل پہنچنے میں کامیاب ہوئے؟ اور ایک سرکاری ٹی وی سے تعلق رکھنے والا صحافی کس طرح اسرائیل جا پہنچا؟
یہ معاملہ اس لیے بھی زیر بحث ہے کیونکہ ماضی میں قیاس آرئیاں ہوتی رہی ہیں کہ شاید پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اسرائیل سے قربت بڑھا رہا ہے۔
اسرائیلی اخبار ’اسرائیل ہیوم (آج یا ٹوڈے)‘ نے اسلام آباد میں موجود ذرائع کے حوالے سے 28 جون، 2021 کی ایک خبر میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے سابق مشیر سید زلفی بخاری نے گذشتہ سال نومبر میں اسرائیل کا مختصر دورہ کیا۔
تاہم وزیر اعظم کے مذہبی امور کے مشیر طاہر اشرفی اور خود زلفی بخاری نے اس خبر کی تردید کی تھی۔
یہی سوالات پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں پارلیمان کے اندر بھی پوچھے گئے اور حکومت نے اس تاثر کی تردید کرتے ہوئے ’اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جا رہا‘ کہا تھا۔
ماضی میں کئی صحافی اسرائیل جا چکے ہیں لیکن حالیہ دورے میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اسرائیل جانے والے افراد میں جو صحافی ہیں وہ رپورٹنگ یا اسائنمنٹ پر نہیں گئے بلکہ باقی افراد کے ہمراہ ایک تنظیم ’شراکا‘ کی جانب سے منعقد کیے گئے ایک دورے پر گئے۔
شراکا، جس کا مطلب عربی زبان میں شراکت داری ہے، ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جسے 2020 میں اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے لوگوں نے ابراہیمی معاہدے پر دستخط کے بعد قائم کیا تھا۔
اس تنظیم کی جانب سے مدعو وفود ایک دوسرے کی تاریخ، معاشرے اور جیوپولیٹیکل حقائق کے بارے میں سیکھتے ہیں اور اپنی ثقافت اور نقطہ نظر شیئر کرتے ہیں۔
شراکا تنظیم کی ایک ٹویٹ میں کہا گیا: ’وفد نے اسرائیلی صدر سے اسرائیل سے تعلقات بڑھانے پر اپنی کوششوں سے متعلق بات کی۔‘
شراکا کی اس ٹویٹ کو احمد قریشی اور ان کے ساتھ وفد میں شامل پاکستانی یہودی فشل بن خالد نے ری ٹویٹ کیا۔
یہ دورہ کس نے منعقد کروایا؟
وفد میں شامل پاکستانی نژاد امریکی انیلہ علی نے، جو اس دورے کی شریک منتظم ہیں، بتایا کہ دورے کا انتظام امریکی مسلم اینڈ ملٹی فیتھ ویمنز امپاورمنٹ کونسل کی پاکستانی نژاد امریکی خواتین رہنماؤں نے ’شراکا‘ کے ساتھ مل کر کیا جو عربوں اور اسرائیلیوں کے درمیان امن کو فروغ دینے کے لیے ایک تخلیق ہے۔
انہوں نے مزید بتایا ہے کہ اس وفد میں پاکستانی، بنگالی، امریکی اور ملائیشیا سے اراکین شامل ہیں۔
وزارت خارجہ کا کیا کہنا ہے؟
اسلام آباد میں وزارت خارجہ میں جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ میں دورے سے متعلق ایک صحافی نے ترجمان سے سوال پوچھا کہ ’اس وقت پاکستانی شہریت رکھنے والے کچھ افراد اسرائیل کے دورے پر ہیں جن میں احمد قریشی بھی شامل ہیں، کیا ان کا یہ دورہ سرکاری اسائنمنٹ ہے یا اسرائیل کے ساتھ پس پردہ کوئی معاملہ ہے؟‘
اس کے جواب میں ترجمان وزارت خارجہ عاصم افتخار کا کہنا تھا: ’میرے پاس اس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں۔‘
پاکستان اور اسرائیل کے تعلقات کیسے ہیں؟
سابق پاکستانی سفیر ریاض خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ چونکہ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اس لیے دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات نہیں۔
ماضی میں عرب اور اسرائیل کے درمیان جنگ میں پاکستان نے اسرائیل کے خلاف عسکری مدد بھیجی تھی اور اسرائیل نے مبینہ طور پر پاکستان کا جوہری منصوبہ روکنے کی کوشش کی تھی۔
پاکستان نے فلسطین اور اسرائیل مسئلے پر دو ریاستی حل سامنے نہ آنے تک اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
کیا ماضی میں پاکستانی اسرائیل کا دورہ کر چکے ہیں؟
سینیئر صحافی و تجزیہ نگار وسعت اللہ خان نے کہا کہ اس سے قبل صحافی اویس توحید، طلعت حسین اور محمد حنیف اسرائیل جا چکے ہیں۔
ان کے مطابق اسرائیل سے متعلق ریاست کی پالیسی سرکاری اہلکاروں پر تو لاگو ہو سکتی ہے کہ وہ اسرائیل کیوں گئے، کس حیثیت میں گئے، لیکن بطور صحافی انہیں ان قوائد سے استثنی ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا: ’صحافی اسرائیل سمیت دنیا میں کہیں بھی جا سکتا ہے، لیکن اگر کوئی سرکاری اہلکار یا سفیر ہے تو پھر اسے وضاحت دینا ہوگی۔‘
انہوں نے بتایا کہ حالیہ دورے کا انہیں مکمل علم نہیں، وزارت خارجہ کو اس کا علم ہوگا۔ کوئی سرکاری ملازم این او سی کے بغیر نہیں جا سکتا اور اگر گیا ہے تو این او سی لیا گیا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے وزارت اطلاعات اور وزارت خارجہ بتا سکتے ہیں کہ کس طریقہ کار کے تحت صحافی کو اسرائیل جانے کی اجازت دی گئی اور ان کی اسائنمنٹ کیا ہے۔
سینیئر صحافی اعجاز احمد کہتے ہیں کہ ماضی میں دیکھا گیا کہ جب بھی پاکستانیوں کو اسرائیل لے جانے کی مہم چلتی ہے، اس دعوت کو قبول کرنے والے افراد جانے سے پہلے قومی سلامتی کے اداروں کو بہت حد تک اعتماد میں لیتے ہیں لیکن عمومی طور پر ایسا دورہ اس وقت ہوتا ہے جب اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوئی مہم چل رہی ہو۔
اس حوالے سے وزارت داخلہ اور پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے رابطہ کرنے کے باوجود ان کا موقف نہیں مل سکا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں