149

پاکستان، ریکارڈ کورونا کیسز

کرہ ٔ ارض پر نازل ہونے والی بلائے ناگہانی کورونا کو اول اول دنیا نے انتہائی غیر سنجیدگی سے لیا اور اسے صرف چین کا مسئلہ سمجھا ۔ پاکستان کا چلن بھی کچھ ایسا ہی رہا لیکن خوش قسمتی سے یہاں وہ قیامت برپا نہ ہوئی جو یورپ اور دیگر ممالک میں ہوئی تھی، تاہم ماہرین مئی کو آزمائش کا مہینہ قرار دے رہے تھے اور یہ خدشات بتدریج درست ثابت ہوتے نظر آرہے ہیں۔ پچھلے چندروز میں پاکستان کی درجہ بندی 24 سے 22 پر پہنچ گئی اور صرف ایک دن میں 1908 مریضوں کے اضافے کے بعد پنجاب میں مریضوں کی تعداد دس ہزار سے بڑھ گئی جبکہ اموات کی تعداد 622 تک چلی گئی۔ ملک میں علامات کے بغیر اور مقامی سطح پر کورونا وائرس کی منتقلی کے واقعات کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، ’’دی نیوز‘‘ کی رپورٹ کے مطابق 10میں سے 9مریضوں میں یہ وائرس مقامی سطح پر منتقل ہوا اور بظاہر اس کی وجہ احتیاطی تدابیر میں کوتاہی اور لاک ڈائون میں نرمی ہی دکھائی دیتی ہے۔ لاک ڈائون کے حوالے سے صوبہ سندھ اور وفاق کے مابین بھی اتفاق نہیں ہوسکا تھا، اگرچہ دونوں کے دلائل درست تھے لیکن پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ذمہ داری وفاق پر ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ وفاق مدد نہیں کر رہا ۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا وہ کون سی ایلیٹ کلاس ہے جس نے لاک ڈائون کرایا۔ بہرکیف کچھ بھی کہا جائے کورونا کے حوالے سے اس وقت پورے ملک کی صورتحال ابتری کی طرف جا رہی ہے اور اس پر فوری توجہ دیتے ہوئے سخت اقدامات نہ کئے گئے تو حالات کے بے قابو ہوجانے کا قوی اندیشہ ہے۔ یہ وقت ایک دوسرے پر زبان طعن دراز کرنے کا نہیں بلکہ سر جوڑ کر بیٹھنے کا ہے۔ کورونا کی وبا سے نبرد آزما ہر ادارے کی نمائندگی پر مشتمل ایک قومی اجلاس ہماری فوری ضرورت ہے جس میں کورونا کی روک تھام اور متاثرین کے علاج کی سبیل کی جائے۔ یہ سیاسی نہیں انسانی جانوں کا انتہائی نازک معاملہ ہے، اس میں انائیں آڑے نہیں آنی چاہئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں