64

پاناما سے بڑے پنڈورا پیپرز، 700پاکستانیوں کی آف شور کمپنیاں بےنقاب

پاناما لیکس سے بڑے پنڈورا پیپرز میں 700سے زائد پاکستانیوں کی آف شور کمپنیاں بے نقاب ہوگئیں۔

پنڈورا پیپرز میں 2وفاقی وزراء شوکت ترین، مونس الٰہی کے علاوہ فیصل واوڈا، پیپلزپارٹی کے شرجیل میمن، اسحاق ڈار کا بیٹا علی ڈار، خسرو بختیار کے بھائی تاجر ، میڈیا مالکان اور ریٹائرڈ فوجی افسران شامل ہیں۔

وزیر خزانہ شوکت ترین سمیت بیشتر شخصیات نے ان آف شور کمپنیز سے لاتعلقی ظاہر کی ہے ۔ تفصیلات کےمطابق وزیراعظم عمران خان کی کابینہ کے اہم ارکان ریٹائرڈ سول اور فوجی افسر وں اور ان کے ارکان خاندان اور بعض اہم میڈیا اداروں کےمالکان کے لاکھوں ڈالر کی آف شور کمپنیاں اور ٹرسٹ ہونے یا ماضی میں رہنے کا انکشاف ہوا ہے

یہ انکشاف پنڈورا پیپرز کا حصہ ہے جو انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کی ایک نئی عالمی تحقیق میں ہوا ہے جو دنیا بھر کے 600؍ صحافیوں کے اشتراک سے کی گئی۔ اس تحقیق نے اس مشکوک آف شور فنانشل سسٹم کو بے نقاب کیا ہے جس سے ملٹی نیشنل کارپوریشنز، امیر، مشہور اور طاقتور لوگوں کو ٹیکس بچانے اور اپنی دولت چھپانے کا موقع ملتا ہے۔

تحقیق 14آف شور سروسز فرمز کی ایک کروڑ 19لاکھ خفیہ فائلوں سے آئی سی آئی جے نے لیک کی ہے۔ لیک ہونے والی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی کابینہ کے کئی ارکان یا ان کے افراد خاندان کی مختلف ملکوں میں آف شور کمپنیاں ہیں۔

جن لوگوں کی آف شور ہولڈنگز کا پنڈورا پیپرز میں انکشاف ہوا ہے ان میں وزیر خزانہ شوکت ترین اور تین افراد خاندان، وزیر صنعت و پیداوار مخدوم خسرو بختیار کے جھوٹے بھائی عمر شہریار سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا اور دو ارکان خاندان، وفاقی وزیر آبی وسائل مونس الٰہی، سینئر صوبائی وزیر خوراک عبدالعلیم خان، وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی برائے خزانہ مالیات وقار مسعود خان کا بیٹا، نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر عارف عثمانی اور نیشنل انوسٹمنٹ ٹرسٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر عدنان آفریدی، وزیراعظم کے گشتی سفیر برائے غیر ملکی سرمایہ کاری علی جہانگیر صدیقی، ابراج کے بانی عارف مسعود نقوی، بڑی کاروباری شخصیت طارق شفیع شامل ہیں۔

پاناما سے بڑے پنڈورا پیپرز، 700پاکستانیوں کی آف شور کمپنیاں بےنقاب

سویلین قیادت کے علاوہ بعض ریٹائرڈ ملٹری افسروں کی آف شور ہولڈنگز کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ آف شور کمپنیوں اور جائیدادوں کے مالکان میں سابق کور کمانڈر کی اہلیہ اور بیٹا، جنرل (ر) محمد افضل مظفر کا بیٹا، جنرل (ر) نصرت نعیم، جنرل (ر) خالد مقبول کا داماد، جنرل (ر) تنویر طاہر کی اہلیہ، جنرل (ر) علی قلی خان کی بہن، ایئر مارشل عباس خٹک کے بیٹے اور ریٹائرڈ آرمی آفیسر اور سیاستدان راجہ نادر پرویز شامل ہیں۔

سویلین اور فوجی لیڈروںکے علاوہ دستاویزات میں بڑے میڈیا مالکان کا بھی انکشاف ہوا ہے جن کی آف شور کمپنیاں ہیں۔ جن میڈیا مالکان کی آف شور کمپنیاں ہیں ان میں جنگ گروپ کے پبلشر میر شکیل الرحمٰن، سی ای او ڈان میڈیا گروپ حمید ہارون، پبلشر ایکسپریس میڈیا گروپ سلطان احمد لاکھانی، ٹی وی چینل جی این این کا مالک، گورمے گروپ اور پاکستان ٹو ڈے کے پبلشر عارف نظامی مرحوم شامل ہیں۔

ان کے علاوہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے بیٹے علی ڈار، سندھ کے سابق وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن اور سابق چیئرمین ایف بی آر اور سیکرٹری فنانس سلمان صدیق کے بیٹے یاور سلمان کی بھی ٹیکس چوروں کیلئے محفوظ علاقوں میں کمپنیاں ہیں۔

پنڈورا پیپرز بتاتے ہیں کہ سویلین اور ملٹری ایلیٹ کس طرح اپنا سرمایہ آف شور کمپنیوں میں رکھتے ہیں اور ان سے بیرون ملک جائیدادیں خریدتے ہیں۔ جن لوگوں کے نام سامنے آئے ہیں ان کی اکثریت نے یہ کہہ کر ان کمپنیوں سے لاتعلقی ظاہر کی ہے کہ یہ ان کےخاندان کے افراد کی ہیں اور وہ اپنے طور پر کام کر رہے ہیں یا پھر یہ کہا ہے کہ یہ کمپنیاں غیر فعال ہیں۔

اگرچہ آف شور کمپنیوں کے قانونی استعمال بھی ہیں لیکن ٹیکس چوری میں مددگار ان علاقوں کے لوگوں کو بہت دلچسپی ہے کیونکہ ان کے ذریعے منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری اور دوسری غیر قانونی سرگرمیاں ہوتی رہتی ہیں۔ ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ متذکرہ بالا لوگوں میں سے کتنوں نے پاکستان کے ٹیکس حکام کو ان آف شور کمپنیوں کے بارے میں بتایا ہے۔ اقتدار میں آنے سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے ملک کی سیاسی اشرافیہ کی کرپشن کے خلاف زبردست مہم چلائی تھی ۔ انہوں نے وعدہ کیا تھاکہ احتساب ان سے شروع ہو گا اور ان کے وزیروں تک جائے گا۔

2016ء میں آئی سی آئی جے نے پانامہ پیپرز جاری کئے اور ان میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کا ذکر آیا تو عمران خان نے اسے اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا تحفہ قرار دیا تھا۔

اب عمران خان کی کابینہ کے اہم ارکان کے نام پنڈورا پیپرز میں آئے ہیں تو ان کا امتحان ہو گا کہ وہ اپنے قریبی ساتھیوں سے آف شورکمپنیوں کا کیسے جواب لیتے ہیں۔

شوکت ترین حال ہی میں عبد الحفیظ شیخ کے استعفے کے بعد وزیر خزانہ بنائے گئے تھے۔

ترین اور ان کے خاندان کے تین افراد کی برٹش ورجن آئی لینڈ میں رجسٹرڈ چار کمپنیاں سامنے آئی ہیں۔ یہ چاروں ٹریرنا، حمرا، سی فیکس اور مونن انکارپوریٹڈ 2014ء میں رجسٹرڈ کرائی گئی تھیں۔ ترین سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ براہ راست یا اپنے افراد خاندان کے ذریعے ان کمپنیوں سے انکا تعلق ہے۔ یہ محض اپنے بینک کیلئے سرمایہ جمع کرنے کیلئے بنائی تھیں۔

مشرق وسطیٰ کے ایک کاروبار ی گروپ سے سرمایہ لگانے کیلئے بات چیت ہو رہی تھی۔ اس کیلئے ایک اسٹرکچرڈ ٹرانزیکشن کی ضرورت تھی۔ متذکرہ سرمایہ کار نے مرکزی بینک سے سرمایہ کاری کیلئے باقاعدہ اجازت لی تھی۔ اب یہ کمپنیاں غیر فعال ہیں اور ان کے ذریعے کوئی کاروبار نہیں ہو رہا۔

طارق فواد ملک کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ وہ اس وقت مشرق وسطیٰ کی اس کمپنی سے منسلک تھے اور اس سرمایہ کاری کیلئے کام کر رہے تھے۔

پنڈورا پیپرز سے انکشاف ہوتا ہے کہ براڈشیٹ فیم طارق فواد ملک ترین فیملی کی ان چاروں کمپنیوں کے ریکارڈ کیپر تھے۔

آئی سی آئی جے نے طارق فواد ملک سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ کمپنیاں ترین فیملی کی ایک سعودی خاندان کے ساتھ ایک بنک میں سرمایہ کاری کے مقصد سے بنائی گئی تھیں۔

یہ ڈیل نہیں ہو سکی اس لئے کمپنیاں غیر فعال ہیں۔لیک ہونے والی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی اور سابق وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا ، ان کی اہلیہ اور بہن کی آف شور کمپنی ہے۔ پنڈورا پیپرز کے مطابق واوڈا خاندان نے 2012 میں BVI کے دائرہ کار میں ’’ڈیزلنگ ورلڈ وائیڈ لمیٹڈ نامی کمپنی کو شامل کیا۔اس سے قبل پاکستانی میڈیا میں آنے والی خبروں کے مطابق واوڈا لندن کے اعلیٰ ٰدرجے کے علاقوں میں متعدد پرتعیش جائیدادوں کے مالک ہیں۔

2018ء میں انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی جانب سے متعارف کروائی گئی کالی دھن اسکیم (ٹیکس ایمنسٹی اسکیم ، 2018) میں اپنے اثاثے قانونی بنانے کیلئے دبئی اور ملائیشیا میں اپنے فلیٹس اور برطانیہ میں تین جائیدادیں ظاہر کی تھیں۔

انہوں نے مارچ 2021ء میں دہری شہریت کا معاملہ عدالت میں جانے پرقومی اسمبلی کی رکنیت اور وفاقی وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ واوڈا نے رابطے پر آئی سی آئی جے کو بتایا کہ انہوں نے پاکستانی ٹیکس حکام کو اپنے دنیا بھر میں موجود تمام اثاثے ظاہر کردیئے ہیں۔

افشاء ہونے والی دستاویزات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کے ایک اور قریبی ساتھی عبدالعلیم خان کی بھی ایک آف شور کمپنی سامنے آگئی ہے۔

پنڈورا پیپرز سے پتہ چلتا ہے کہ علیم خان اور ان کی اہلیہ نے یکم مارچ 2017ء کو ہیکسام انویسٹمنٹ اوورسیز لمیٹڈ (بی وی آئی) نامی کمپنی بنائی اور دونوں اس کمپنی کے رجسٹرڈ ڈائریکٹرز ہیں، 2016ء میں پاناما پیپرز میں بھی اسی کمپنی کی رپورٹ آئی تھی جو پی ٹی آئی کے ایک سینئر رہنما کی ملکیت تھی۔

نیب نے علیم خان کے خلاف تحقیقات بھی شروع کی تھی۔ تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا ا نھوں نے اپنے ٹیکس ریٹرن میں کمپنی کو ظاہر کیا ہے یا نہیں۔

پینڈورا لیکس نے وزیر صنعت و پیداوار مخدوم خسرو بختیار کے چھوٹے بھائی مخدوم عمر شہریار کی2 آف شور کمپنیز کا بھی بھانڈا پھوڑ دیا، مخدوم عمر شہریار جووزیر صنعت و پیداوار مخدوم خسرو بختیار کے چھوٹے بھائی ہیں ، BVI کے دائرہ اختیار میں دو آف شور کمپنیاں ETEL اور Rotenon Universal Inc ان کی ملکیت ہیں۔

پنڈورا پیپرز سے پتہ چلتا ہے کہ مخدوم عمر نے 2018ء میں ایک آف شور کمپنی کے ذریعے لندن کے علاقے چیلسی میں ایک ملین ڈالر کا اپارٹمنٹ اپنی بوڑھی ماں کو منتقل کیا۔

قومی احتساب بیورو ان الزامات کی تحقیقات بھی کر رہا تھا۔ مخدوم خسرو بختیار نے آئی سی آئی جے کو اپنے جواب میں کہا ہے کہ اینٹی کرپشن ایجنسی کی تفتیش بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر کی گئی تھی اس تفتیش میں ان کے خاندان کی ماضی کی دولت کو کم سمجھا گیا تھا اور اب تک اس کے نتیجے میں کوئی باقاعدہ شکایت نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ان کا بھائی ایک آزاد شخص ہے اور اس نے شروع سے ہی اپنے طور پر اپنا علیحدہ پیشہ ورانہ کیریئر اپنایا ہے میں اس کا کاروباری شراکت دار نہیں ہوں، علاوہ ازیں لیک ہونے والی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ وفاقی وزیر آبی وسائل مونس الٰہی گرین ہلز ٹرسٹ اور ونتھروپ فنڈ کے سیٹلر اور انویسٹمنٹ ڈائریکٹر تھے۔

دستاویزات کے مطابق ، چوہدری مونس الٰہی نے ایشیا سٹی ٹرسٹ کے عہدیداروں سے ملاقات کی ، جو ایک مالیاتی خدمات فراہم کرنے والا ہے جو آف شور ویلتھ مینجمنٹ اور آف شور کمپنیاں تشکیل دینے میں میں مہارت رکھتا ہے۔

دستاویزات کے مطابق ، مو نس الٰہی نے 2007ء میں ایشیا سٹی کے عملے کو بتایا تھا کہ وہ اپنے خاندان کی ملکیت پھالیا شوگر ملز کی زمین کی فروخت کرکے آف شور کمپنی میں پیسہ لگانا چا ہتے ہیں ، ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ ایشیا سٹی کے عہدیداروں نے مونس الہٰی سے ملاقات میں ان کے ماضی کے قانونی مسائل کے بارے میں پوچھ گچھ کی جس کے جواب میں مونس الٰہی نے انہیں ایک عدالتی دستاویز فراہم کی ،ان دستاویزات میں انہیں بینک آف پنجاب اسکینڈل سے متعلقہ دھوکہ دہی کے الزامات سے بری ظاہرکیا گیا تھا ۔

دستاویزات میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ ملاقات کے بعد ، ایشیا سٹی نے مونس الٰہی کوسیاسی طور پر بے نقاب شخص (PEP) کے طور پر نامزد کیا اور اپنے نمائندے تھامسن رائٹرز( رسک مینجمنٹ سلوشنز ڈیپارٹمنٹ )کو مناسب ڈیلی جینس چیک کے لیے مقرر کیا۔

تھامسن رائٹرز نے مونس الٰہی کی چیکنگ کیلئے تندہی سے کام کیا اور 19 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ تیار کی ، اس رپورٹ میں مونس الٰہی کے زمین کے کرپٹ منصوبوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی تفصیلات دی گئیں ۔

رپورٹ میں بینک سے دھوکہ دہی سے قرضے لینے اور زمین کو سرکاری محکمے کو فروخت کرنے کا ذکر بھی ہے۔ تاہم ، اس مستعد رپورٹ کے باوجود مو نس الٰہی کو ایشیا سٹی کا مؤکل تسلیم کرلیا گیا۔چوہدری فیملی کے ترجمان نے کہا کہ ماضی میں بھی ہمارے خاندان کے خلاف احتساب کے نام پر سیاسی انتقام کی آڑ میں ایسا مواد منظر عام پر لایا گیا جس کی کوئی بنیاد نہیں تھی۔ترجمان نے مزید کہا کہ چوہدری پرویز الٰہی اور چوہدری مونس الٰہی خاندان کے اثاثے پہلے ہی قانونی طور پر ڈیکلیئرڈ ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کے سابق سیکرٹری خزانہ وقار مسعود کے بیٹے عبداللہ مسعود کے نام بھی لنکوئسٹ لیمیٹڈ کے نام سے آف شور کمپنی سامنے آئی ہے۔وہ اس کمپنی کے 2014 میں ڈائریکٹر بنے اور مس نیلو فر علی نامی خاتون کے ساتھ وہ 50 فیصد شیئرز کے مالک ہیں ۔

ڈاکٹر وقار مسعود نے حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان کے اسپیشل اسسٹنٹ کے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے۔

وقار مسعود اپنے موقف میں کہتے ہیں کہ انہیں بیٹے کی کمپنی کے بارے میں کچھ نہیں پتہ ،انہوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا اپنے معاملات میں خود کفیل ہے اور اس کا میرے اوپر کوئی دارو مدار نہیں۔ وزیر اعظم عمران کے تعینات کردہ ایک اور شخص خان عارف عثمانی ہیں جو نیشنل بینک کے صدر بھی ہیں نے بھی ساسا پارٹنرز نا م سے ایک کمپنی بنائی۔

بی وی آئی میں انہوں نے 2018 میں قدم رکھا۔پنڈورا پیپرز میں انکشاف کیا گیاہے کہ عارف عثمانی نے اس کمپنی سے براہ راست فائدہ اٹھایا جہاں انہوں نے بینک کے اثاثے رکھے ہوئے تھے۔

عارف عثمانی سے جب دی نیوز نے پوچھا کہ کیا یہ درست ہے کہ آپ کی اس کے علاوہ بھی کمپنی ہے جس کے بارے میں آپ نے ایف بی آر کو نہیں بتایا جب آپ نے 2008 سے 2012کے گوشوارے جمع کروائے ،کیا آپ نے ایف بی آرکو اس حوالے سے آگاہ نہیں کیا تھا؟ توان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کو اپنا تمام ٹیکس ریکارڈ فراہم کردیا تھا اور اپنے مقامی اور غیر ملکی اثاثوں کے بارے میں سب کچھ بتادیا تھا۔

منظر عام پر آنے والے پیپرز میں اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ نیشنل انوسٹمنٹ ٹرسٹ کے ڈائریکٹر عدنان آفریدی نے بھی برٹش ورجن آئس لینڈ میں وری تاس ایڈوائزری کے نام سے 2011 میں ایک کمپنی بنائی۔انہوں نے وری تاس کے نام سے کمپنی ہونے کا اعتراف بھی کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کے این آئی ٹی کے چیئرمین بننے سے دو سال پہلے 2017 میں بی وی آئی میں اس کمپنی کی رجسٹریشن ختم ہوگئی تھی ۔

وزیر اعظم عمران خان کی جماعت میں شامل رہنمائوں کے نام آف شور کمپنیوں میں سامنے آنے کے ساتھ ساتھ اپوزیشن پارٹیوں سے بھی کچھ لوگوں کے نام سامنے آئے ہیں جنہوں نے بیرون ملک آف شور کمپنیاں بنائیں۔

ان میں ن لیگ حکومت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے بیٹے علی ڈار شامل ہیں ،علی ڈار کی دو آف شور کمپنیوں کا انکشاف ہوا ہے جن کے نام ہیں برق ہولڈنگز اور دارالنہیان ۔یہ کمپنیاں انہوں نے بی وی آئی میں بنائیں۔

2017 میں انہوں نے اس کا کوریسپانڈنس ایڈریس تبدیل کرنے کی استدعا کی۔ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے یہ نیب کی انکوئری سے بچنے کیلئے کیا کیو نکہ ان کے والد اسحاق ڈار بھی اسی طرح زد میں آئے تھے؟

دی نیوز کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دارالنہیان لیمیٹڈ اب بھی غیر فعال ہے اور اس سے کوئی کاروبار نہیں ہورہا اور اب اس کی رجسٹریشن بھی ختم ہوگئی ہے۔علی ڈار نے کہا کہ وہ کبھی پاکستان میں ٹیکس پیئر نہیں رہے اور نہ ان کا پاکستان میں کوئی کاروبار یا ملازمت رہی ہے۔

پنڈورا پیپرز میں پیپلز پارٹی سندھ کے سابق وزیر اطلاعات شرجیل میمن کے نام بھی تین کمپنیوں ذکر موجود ہے۔جن میں اوسین ویو ٹکنالوجیز ،آرکٹیٹک ڈیویلپمنٹ اور نیو کوسٹ ایگزیکٹو شامل ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ ان کی کمپنیاں رئیل اسٹیٹ بزنس میں ملوث تھیں۔شرجیل میمن نے دی نیوز سے بات چیت میں کمپنیو ں کی ملکیت سے متعلق نہ تو اعتراف کیا اور نہ انکار کیا۔

دستاویزات کے مطابق معروف صنعتکار اور سینئر بیورو کریٹ سلمان صدیق کی ریٹائرمنٹ سے چند ماہ قبل ان کے بیٹے یاور سلمان نے اپنے دوست اور پارٹنر نوعین احمد انور کے ساتھ ملکر کریس ٹیک ہولڈنگز کے نام سے کمپنی بنائی۔

دونوں نے اپنا ای میل ایڈریس ووٹل کے نام سے شیئر کیا ہے۔کمپنی سروسز فراہم کرتی ہے تاہم کمپنی کے ساتھ ان کے کیا تعلقات تھے اس بارے میں کچھ واضح نہیں۔

یاور سلطان کا اپنے موقف میں کہنا تھا کہ اس وقت کاروبار کی نیت سے ہم نے ایک یونٹ بنایا تھا لیکن سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ اب غیر فعال ہے اس لئے ٹیکس حکام کو اس بارے میں تحقیق کرنے کی ضرورت نہیں۔مزید سامنے آنے والی دستاویزات میں پاکستان سپر لیگ فرنچائز کی ٹیم پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی کی بھی بی وی آئی میں تین کمپنیاں نکل آئی ہیں۔

ان کے نام اولڈ ٹریفورڈ پراپرٹیز،سٹن گیس ورکرز پراپرٹیز لور گیس ورکز پراپرٹی کے نام سے کمپنیاں موجود ہیں۔جاوید آفریدی نے اپنی تینوں کمپنیوں کا اعتراف کیا انہوں نے کہا کہ کمپنیاں بنانے کا مقصد ٹیکس سے بچنے کے بجائے زیادہ زیادہ سے ٹیکس جنریٹ کرنا تھا ان کے مطابق یہ کمپنیاں غیر فعال ہیں ان کے ذریعے کوئی کاروبار نہیں کیا جارہا ۔

سیاستدنوں، تاجروں اور صنعتکاروں کے علاوہ کچھ میڈیا مالکان کے نام بھی سامنے آئے ہیں جن کی آف شور کمپنیاں ہیں۔بعض سرکردہ میڈیا گروپس کے مالکان نے بیرون ملک کمپنیاں بنائی ہیں۔ لیک ہونے والی دستاویزات نے انکشاف کیا کہ جنگ گروپ کے پبلشر میر شکیل الرحمٰن ایک آف شور کمپنی بروک ووڈ وینچرز لمیٹڈ کے مالک ہیں۔

میر شکیل الرحمن کو 17 اپریل 2008 کو کمپنی کے حصص منتقل کیے گئے۔ مسٹر فرید الدین صدیقی اپریل 2008 میں کمپنی کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔

جب ابتدائی طور پر میر شکیل الرحمٰن سے رابطہ کیا گیا تو وہ یہ کہتے ہوئے جواب دینے سے گریزاں تھے کہ ان کی کمپنی پہلے ہی اعلان شدہ ہے لہٰذا سوالنامہ کا جواب دینے کا کوئی فائدہ نہیں ،تاہم انکوائری سیل نے دباؤ ڈالا کہ وہ جواب دیں ورنہ اس تحقیقات کی شفافیت پر سوالات اٹھیں گے۔

اس کے بعد وہ سوالات کے جواب دینے پر رضامند ہو گئے۔ تحقیقاتی سیل نے میر شکیل الرحمٰن کو ایک سوال نامہ بھیجا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کیا یہ سچ ہے کہ وہ ایک آف شور کمپنی کے مالک ہیں جس پر انہوں نے جواب دیا ،’ نہیں ، یہ سچ نہیں ہے ، میں کسی بھی کمپنی کا مالک نہیں ہوں۔میر شکیل الرحمٰن نے جواب دیا کہ لوگ سرمایہ کاری کرتے ہیں ۔

میر شکیل الرحمٰن سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے متعلقہ ٹیکس حکام کے ساتھ کمپنی کا اعلان کیا جس پر اس نے کہا ، “ہاں ، یہ ٹیکس سال 2018 کے لیے میری دولت کا حصہ تھا اور قابل اطلاق ٹیکسوں کے تابع تھا‘۔

مزید برآں ڈان میڈیا گروپ کے سی ای او حمید ہارون رجسٹرڈ ایک آف شور کمپنی بارڈنی لمیٹڈ کے مالک ہیں۔

دی نیوز کو اپنے سرکاری ردعمل میں مسٹر ہارون نے کہا کہ کمپنی کو باقاعدہ طور پر اعلان کیا گیا ہے اور پاکستان کے متعلقہ حکام کو زمین کے قابل اطلاق قوانین کے مطابق رپورٹ کیا جا رہا ہے۔

پنڈورا پیپرز سے پتہ چلتا ہے کہ مرحوم عارف نظامی پاکستان کے معروف صحافیوں میں سے ایک اور ایک انگریزی روزنامہ پاکستان ٹوڈے کے مالک ہیں، برٹش ورجن آئی لینڈ میں نیو مائل پروڈکشن لمیٹڈ کے مالک تھے، کمپنی جولائی 2000میں شامل کی گئی تھی۔

پنڈورا پیپرز کی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ مرحوم نظامی اور ان کی اہلیہ نوین عارف نظامی کو کمپنی کے فائدہ مند مالک قرار دیا گیا تھا۔

مسٹر اور مسز نظامی دونوں نے اس کمپنی کے ذریعے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک سنگاپور کے ساتھ سرمایہ کاری کی جس میں کیش اکاؤنٹس ، بانڈز ، ایکوئٹی اور میوچل فنڈز شامل تھے۔

دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت ان اثاثوں کی تخمینی قیمت 1.6ملین امریکی ڈالر تھی۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ پاکستان میں ٹیکس حکام کے ساتھ کمپنی کا اعلان کیا گیا ہے یا نہیں۔

لیکس سے پتہ چلتا ہے کہ آمنہ بٹ نامی گورمے گروپ کے ایک ملازم کو بی وی آئی کے دائرہ کار میں ایک آف شور کمپنی گورمے ہولڈنگز لمیٹڈ کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا۔ گورمے گروپ پنجاب بھر میں بیکریوں کی ایک بڑی چین کا مالک ہے۔

اس کے علاوہ یہ گروپ ایک نیوز چینل کا بھی مالک ہے۔ تاہم اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی ہے کہ کمپنی پاکستانی ٹیکس حکام کے ساتھ ڈکلئیر ہے یا نہیں۔ محترمہ آمنہ بٹ کو دی نیوز نے ایک سوالنامہ بھیجا لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

ایک اور معروف میڈیا گروپ ایکسپریس کے مالک سلطان علی لاکھانی بھی ایک آف شور کمپنی سنچری میڈیا نیٹ ورک کے مالک ہیں۔ کمپنی فروری 2005 میں مسٹر لاکھانی ، ایک اور فرد محمد انور عبداللہ کے ساتھ مل کربنائی گئی۔ اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ اس کمپنی کو ٹیکس حکام کے ساتھ قرار دیا گیا ہے یا نہیں۔

پنڈورا پیپرز میں جعلی ڈگری والی پاکستانی کمپنی ایگزیکٹ کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ کمپنی کے مالک شعیب شیخ کی آمدنی ایسے بینک اکائونٹس میں جاتی رہی جو ایک ایسی کمپنی کے تھے جو برٹش ورجن آئی لینڈ میں کھولی گئی تھی۔ سابق فوجی حکام سیاستدانوں ، میڈیا مالکان اور سویلین بیوروکریٹس کے علاوہ ، آئی سی آئی جے کے نئے لیکس میں کچھ اعلیٰ ریٹائرڈ فوجی حکام کے نام بھی شامل ہیں۔

پنڈورا پیپرز سے پتہ چلتا ہے کہ 2007ء میں ایک سابق فوجی افسر کی اہلیہ ایک کمپنی طلحہ لمیٹڈ کی مالک تھیں۔ آف شور کمپنی لندن میں ایک پراپرٹی کی مالک تھی ۔

سابق فوج افسر کا کہنا ہے کہ فلیٹ اس کی بیوی کے نام پر منتقل کر دیا گیا کیونکہ اس کے نام پر پہلے ہی جائید ادیں موجود ہیں جبکہ اس کے پاس ٹیکس کی کٹوتیوں کو متوازن کرنے کے لیے کوئی بھی نہیں ہے۔

لیک ہونے والی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ میجر جنرل (ر) نصرت نعیم ایک کمپنی افغان آئل اینڈ گیس لمیٹڈ کے مالک تھے جو 2009 میں اپنی ریٹائرمنٹ کے فورا بعد رجسٹرڈ ہوئی تھی۔

آئی سی آئی جے کو اپنے جواب میں جنرل (ر) نصرت نے کہا کہ کمپنی کو ایک دوست نے قائم کیا تھا اور اس نے اسے کسی مالی لین دین کے لیے استعمال نہیں کیا۔ آئی سی آئی جے کے انکشافات سے پتہ چلتا ہے کہ سابق گورنر پنجاب اور سابق چیئرمین نیب جنرل (ر) خالد مقبول کے داماد مسٹر احسن لطیف ایک آف شور کمپنی ڈیلان کیپیٹل لمیٹڈ کے مالک تھے جو برٹش ورجن آئی لینڈز میں رجسٹرڈ ہے۔

دستاویزات کے مطابق کمپنی کو برطانیہ اور متحدہ عرب امارات میں بعض جائیدادوں کے لیے سرمایہ کاری کے لیے شامل کیا گیا تھا لیکن اسے روس کی ویکس آئل کمپنی لمیٹڈ سے ایل پی جی درآمد کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ ٹرائیڈنٹ ٹرسٹ کو احسن لطیف کے ای میل کا ایک اقتباس ظاہر کرتا ہے ، “کمپنی کا مقصد بنیادی طور پر ایک ہی ہے۔

دراصل پورا لین دین یہ ہے کہ ہماری کمپنی جو کہ لاہور پاکستان میں مقیم ہے ، روس سے (Liqufied Petroleum Gas) درآمد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ مارکیٹ میں مسابقت کو برقرار رکھنے کے لیے ہم پاکستانی مارکیٹ میں سپلائر کا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ ایک اضافی معلومات کے طور پر ، ہم اس علاقے کے لیے سپلائر کی مصنوعات کے لیے خصوصی مارکیٹنگ کے حقوق حاصل کرنے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔اس مقصد کیلئے Synergy Resources کا ادارہ لیٹر آف کریڈٹ ڈیلان کے حق میں کھولیں اور ڈیلان سپلائر کے حق میں بیک ٹو بیک لیٹر آف کریڈٹ کھولے گئے۔ سپلائر کے حق میں۔

Synergy Resources (Pvt) Ltdکی L/Cویلیو اور Dylanکے درمیان فرق کو Dylan منافع کے طور پر برقرار رکھے گا جسے پھر آپ کی ای میل میں بیان کردہ سرمایہ کاری کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔تاہم ، یہ واضح نہیں ہے کہ کہ احسن لطیف نے پاکستانی ٹیکس حکام کے سامنے مذکورہ بالا اثاثے ظاہر کئے ہیں یا نہیں۔

دی نیوز نے انکو ایک سوال بھیجا لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔مزید یہ کہ پنڈورا پیپرز سے پتہ چلتا ہے کہ جنرل (ر) محمد افضل مظفر کے بیٹے محمد حسن مظفر برٹش ورجن آئی لینڈ میں کریک گروتھ کیپٹل ہولڈنگ لمیٹڈ کی ایک رجسٹرڈ کمپنی میں حصص کے مالک تھے ،یہ آف شور کمپنی جنوب مشرقی ہیلتھ کیئر ہولڈنگ کی مالک تھی جس نے دبئی میں قائم میڈیکل سنٹر کو کنٹرول کیا جو اب بند معلوم ہوتی ہے، حسن مظفر نے آئی سی آئی جے کو بتایا کہ سادہ سی حقیقت یہ ہے کہ اس سرمایہ کاری کا انکے والد سے کوئی تعلق نہیں ،

انہوں نے مزید تبصرہ کیا کہ متحدہ عرب امارات میں سرمایہ کاری صرف ان کی اپنی آمدنی سے کی گئی جو انکے متحدہ عرب امارات کے بینک اکاؤنٹ سے آئی، اس کے والد سمیت خاندان کا کوئی اور فرد اس میں ملوث نہیں تھا۔لیفٹیننٹ جنرل (ر) تنویر طاہر کی اہلیہ زہرہ تنویر BVI کے دائرہ اختیار میں ایک آف شور کمپنی اینر پلاسٹک لمیٹڈ کی مالک تھیں، پنڈورا پیپرز سے پتہ چلتا ہے کہ محترمہ زہرہ تنویر کمپنی کی فائدہ مند مالکان میں سے ہیں، لیک ہونے والی دستاویزات کے مطابق ، اینر پلاسٹک لمیٹڈ ایک ہولڈنگ کمپنی ہے اور منافع اور حقیقی سرمایہ کاری کمپنی کیلئے فنڈز کا بنیادی ذریعہ ہے، نیوز نے زہرہ تنویر کو ایک سوالنامہ بھیجا لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

پنڈورا پیپرز سے پتہ چلتا ہے کہ شہناز سجاد خٹک کو اپنے والد لیفٹیننٹ جنرل (ر) حبیب اللہ خان خٹک کی طرف سے ایک آف شور ٹرسٹ کے ذریعے دولت ملی ، یہ ٹرسٹ لندن کے 2 اپارٹمنٹس کا مالک ہے،یہ اپارٹمنٹس 1997 اور 2011 میں نائٹ برج لندن میں خریدے گئے جو ہیروڈز سے تھوڑی دوری پر ہے، شہناز نے بدلے میں 2003 میں اپنی بیٹیوں کیلئے Guernseyمیں ایک ٹرسٹ قائم کیا جو برطانیہ میں ٹیکس کو چھپانے کی ایک طریقہ ہے۔ مس خٹک لیفٹیننٹ جنرل (ر) علی کلی خان کی بہن اور سابق وفاقی وزیر گوہر ایوب خان کی سالی بھی ہیں، اس نے آئی سی آئی جے کی تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔پنڈورا پیپرز سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ریٹائرڈ آرمی لیفٹیننٹ کرنل اور نواز شریف کی حکومت میں سابق وزیر راجہ نادر پرویز International Finance & Equipment Ltd، ایک BVI رجسٹرڈ کمپنی کے مالک تھے، لیک ہونے والی فائلوں میں ، فرم بھارت ، تھائی لینڈ ، روس اور چین میں مشینری اور متعلقہ کاروبار میں ملوث ہے، ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ 2003 میں راجہ نادر پرویز نے کمپنی میں اپنے حصص کو ایک ٹرسٹ میں منتقل کیا جو کئی آف شور کمپنیوں کو کنٹرول کرتی ہےجبکہ وہ International Finance Equipmentمالک تھے ، راجہ نادر پرویزحکومت میں کئی اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز رہے، وہ 1985 میں قومی اسمبلی کیلئے منتخب ہوئے اور بعد میں مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوئے، وہ اس وقت عمران خان کی تحریک انصاف کے رکن ہیں، راجہ نادر پرویز نے آئی سی آئی جے کے رپورٹرز کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔

پاکستان ایئر فورس کے سابق سربراہ ایئر مارشل عباس خٹک کے بیٹے عمر اور احد خٹک نے 2010 میں ایک BVIکمپنی رجسٹر کی تھی ،دستاویزات میں اس کمپنی کا مقصد فیملی بزنس ہے جس میں بانڈز ، میوچل فنڈز اور رئیل اسٹیٹ شامل ہیں، آئی سی آئی جے نے خٹک کو ایک سوالنامہ بھیجا لیکن انہوں نے سوالات کا جواب نہیں دیا۔

کاروباری شخصیات کا کہنا ہے کہ وہ ایسی کمپنیاں اِس لیے بناتے ہیں تاکہ عالمی سطح پر کاروباری لین دین میں آسانی ہو۔ لیکن ایسے اقدامات پر اکثر تنقید کی جاتی رہی ہے کیونکہ یہ کام اکثر اوقات ٹیکس بچانے یا پھر کم ٹیکس والے ممالک میں صرف کاغذات کی حد تک قائم شیل کمپنیوں کے ذریعے اپنی دولت یا منافع کو ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کرنے کیلئے کیا جاتا ہے۔

پنڈورا پیپرز کے نتیجے میں کئی ایسی مثالیں سامنے آئی ہیں جہاں کاروباری یونٹس تو پاکستان میں فروخت کیے گئے لیکن اُن کی ادائیگی بیرون ملک ایسے بینک اکائونٹس میں کی گئی جو آف شور کمپنیوں کے نام پر کھولے گئے تھے۔ امپیریل شوگر ملز کے مالک نوید مغیث شیخ نے بھی یہی کام کیا۔ رابطہ کرنے پر انہوں نے کوئی موقف نہیں دیا۔

پنڈورا پیپرز میں بشیر دائود کا نام بھی سامنے آیا ہے، اُن کا کیس ایف بی آر میں رجسٹرڈ ہے اور ماضی میں ملکی تاریخ کی سب سے بڑی ریکوری اُن ہی سے ہوئی تھی۔

دیگر کیسز میں پاکستان میں اشیاء درآمد کی گئیں جس سے درآمدات کے اخراجات میں اضافہ ہوا جبکہ اس کا منافع پاکستان سے باہر رکھا گیا۔ احسن سے رابطہ کیا تو انہوں نے بھی کوئی جواب نہیں دیا۔

سونے کے تاجر آصف حفیظ، جو فی الوقت برطانیہ میں ہیروئن اسمگلنگ کے الزام کے تحت گرفتار ہیں، نے لندن میں آف شور کمپنی کے ذریعے تین جائیدادیں خریدیں۔

عوامی شخصیات کیلئے ایسی کمپنیوں کا مالک ہونا انتہائی متنازع بات ہے کیونکہ جس طرح کی طاقت اور اختیارات اُن کے پاس ہوتے ہیں ان کا غلط استعمال غیر قانونی ذرائع سے دولت کمانے کیلئے کیا جا سکتا ہے۔ نتیجتاً یہ پیسا بیرون ملک جمع کیا جاتا ہے اور ایسا کئی مرتبہ ہوا ہے۔ ایسا ہر مرتبہ نہیں ہوتا لیکن شیل کمپنیوں کے ذریعے غلط کام اب زیادہ ہونے لگے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں