60

پارٹی ہیڈ کیخلاف جانیوالے کا ووٹ شمار لیکن ڈی سیٹ ہوگا

پارٹی ہیڈ کیخلاف جانیوالے کا ووٹ شمار لیکن ڈی سیٹ ہوگا
کراچی (ٹی وی رپورٹ) پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے حوالے آئینی و قانون ماہراحسن بھون کا کہنا تھا کہ پارٹی سربراہ کے فیصلے کیخلاف جانے والے رکن اسمبلی کا ووٹ شمار لیکن ڈی سیٹ ہوگا، جب آپ نے پارٹی ہیڈ کورول دیدیا تو اس کی ہدایت پر ہی ووٹ دینا ہے، قانونی ماہرین علی ظفر نے کہا کہ منی بل،عدم اعتماد یا الیکشن کے ووٹ کے معاملہ میں پارٹی ہیڈ کا کوئی تعلق نہیں ہے، پارلیمانی پارٹی نے پرویز الٰہی کیلئے ووٹ کا فیصلہ کیا تو پارٹی ہیڈ کی کوئی حیثیت نہیں ہے،قانونی ماہرین صلاح الدین احمد نے کہا کہک اسپیکر کو ووٹ شمار نہ کرنے کا اختیار نہیں، سپریم کورٹ کی تشریح سےمسئلہ پیدا ہوا،پنجاب اسمبلی میں جو ہوا وہ صرف اس 63/Aکے عدالتی فیصلے کی وجہ سے ہوا، اینکرو پرسن و تجزیہ کار منیب فاروق نے کہا کہ سارے فیصلے پارلیمانی پارٹی مرضی سے کریگی تو پارٹی لیڈر کی کیا حیثیت رہ جائیگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جیو نیوز کے خصوصی نشریات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ صلاح الدین احمد: اصولی طور پر جو آج ہوا غلط ہوا، اسمبلی میں پارلیمنٹ میں جو ووٹ کاسٹ ہوتے ہیں اسپیکر کو کوئی اختیار نہیں ہونا چاہئے کہ وہ ووٹ کو discard کرے، بدقسمتی سے یہ دروازہ سپریم کورٹ کی اپنی جو تشریح تھی آرٹیکل 63/Aکی یہ دروازہ اسی سے کھلا ہے جبکہ آئین اسپیکر کو کوئی گنجائش نہیں دیتا کہ وہ کسی کا ووٹ شمار نہ کرے، آپ نے ووٹ شمار کرنا ہوتا ہے اس کے بعد جو بھی نتائج ہوتے ہیں، مگر سپریم کورٹ نے کہا کہ آرٹیکل 63/Aکا مطلب یہ ہے کہ کوئی پارٹی لائن کے خلاف ووٹ کاسٹ کرے گا تو اس کا ووٹ ہی شمار نہیں ہوگا، اس کے بعد اس قسم کی چیزیں متوقع تھیں۔ شاہزیب خانزادہ: آپ کو نہیں لگتا کہ جب یہ عدالت میں جائیں گے کہ یہ پارلیمانی پارٹی کا فیصلہ تھا تو تحریک انصاف اور پرویز الٰہی کوریلیف ملے گا؟ صلاح الدین احمد نے کہا کہ وہاں ایک اور مسئلہ کھڑا ہوگا، اصولی طور پر بات صحیح ہے ہونا پارلیمانی پارٹی کا اگر فیصلہ ہے تو ہونا وہ پارٹی کی اکثریت وہ جو منتخب نمائندے ہیں انکی اکثریت سے فیصلہ ہونا چاہئے مگر آپ کو یاد ہوگا کہ ابھی حال میں ہی یہ جو پی ٹی آئی کے جو اراکین ڈس کوالیفائی کیے گئے ان کا بھی یہی موقف تھا کہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا کوئی اجلاس ہی نہیں ہوا نہ ہی پارلیمانی پارٹی کا کوئی فیصلہ ہے، فیصلہ تو عمران خان صاحب کا تھا چیئرمین پی ٹی آئی کا، مگر اسکے باوجود ان سب اراکین کو ڈس کوالیفائی کیا گیا، اب وہ فیصلہ اور یہ جو آج ہوا ہے اس کو reconcile کرنا بھی مشکل ہوگا۔ شاہزیب خانزادہ: آئین کی اسپرٹ کیا ہوگی، ایک طرف یہ اختیار پارلیمانی پارٹی کو دیتا ہے تو پھر ڈی سیٹ کرنے کا اختیار پارٹی ہیڈ کو دیتا ہے بجائے اس کے کہ پارلیمانی لیڈر کو دے؟ صلاح الدین احمد:اگر یہ تشریح ممکن ہے جو ڈی سیٹ کرنے کا عمل ہے وہ شروع پارٹی ہیڈ کرتا ہے تو وہ بنیادی طور پر اسے وہاں administrative type power دی گئی ہے، وہ نیچرلی ڈیفیکشن کا جو پراسس ہے، نوٹس ایشو وغیرہ اسکی جو ہیئرنگ ہونی ہے وہ ساری پارٹی مل کر تو نہیں کرسکتی they have to nominate someone its could be Party Head مسئلہ جو ابھی حالیہ فیصلے سے آیا ہے کہ آپ نے ان تمام defectors کو ڈی سیٹ آپ نے انکی پارلیمانی پارٹی کے فیصلے پر تو نہیں کیا، وہاں کوئی directive نہیں تھی، وہاں پارٹی کے چیئرمین کی directive تھی، یہاں بھی پی ایم ایل کیو کے چیئرمین جو ان کے پارٹی ہیڈ ہیں ان کا تو فیصلہ کچھ اور تھا۔ نیوز اینکر: پھر تحریک انصاف کیا استدعا لے کر جائے گی اور مسلم لیگ ق یعنی پرویز الٰہی اور ان کے ممبران سپریم کورٹ، کیا یہ استدعا لے کر جائیں گے کہ جس فیصلے پر ہم پہلے خوشیاں منارہے تھے اب اسی کے برعکس فیصلہ دیدیں؟ صلاح الدین احمد: اول تو یہ تو تسلیم کریں گے کہ اسپیکر کی رولنگ اور پارلیمانی پروسیڈنگز کو مکمل استثنیٰ نہیں ہے جو پہلے انکا موقف تھا مگر اسکے علاوہ ان کا موقف یہ ہوگا کہ پارلیمانی پارٹی کی اب مزید تشریح کی جائے اور اس کو یہ کہا جائے کہ پارلیمانی پارٹی کا مطلب یہ ہے کہ جو اسمبلی کے رکن ہیں انکی اکثریت تو وہ مزید تشریح مانگیں گے سپریم کورٹ سے۔ شاہزیب خانزادہ: عدالت کے مختلف فیصلے آئے ہیں جو متنازع بھی ہوئے، پھر اب یہ تک ہوگیا ہے کہ کوئی بھی پٹیشن جائے تو لوگ یہ اندازہ لگانا شروع کردیتے ہیں کہ بنچ کیا بنے گا، کس کس پر مشتمل ہوگا، جب بنچ بن جائے تو فیصلہ بتانا شروع کردیتے ہیں کہ فیصلہ متوقع طور پر کیا آسکتا ہے، ظاہر ہے ہم سیاستدانوں سے تو کہتے ہیں کہ یہ جو کچھ ہورہا ہے یہ ملک کیلئے اچھا نہیں ہے، اس سے ملک میں عدم استحکام آئے گا، سیاسی جماعتوں کو سرجوڑ کر کچھ بنیادی اصول بنانے کی ضرورت ہے، جو آج ہوا وہ بھی جمہوریت کیلئے اچھا نہیں ہے مگر کیا عدلیہ کے اوپر بھی بھی کہیں نہ کہیں ذمہ داری ہے جس طرح حالیہ مثالیں بنی ہیں ماضی قریب میں؟ صلاح الدین احمد (ماہر قانون): اس کا ایک بڑا آسان حل ہے اگر سپریم کورٹ اپنے آپ کو اس قسم کے الزامات سے بچانا چاہتی ہے کہ اس قسم کے جو میجر سیاسی قسم کے کیسز ہوتے ہیں اس میں آپ without disremination 5, 7 senior most judges کو بٹھادیں، جب آپ بنچز سلیکٹ کرتے ہیں، خاص بنچز بنتی ہیں خاص ججز آتے ہیں تو آپ لوگوں کو تنقید کا موقع دیتے ہیں اور سپریم کورٹ نے اگر اپنی غیرجانبداری ظاہر کرنی ہے تو بنچز تشکیل کرنے کے طریقہ کار پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔ شاہزیب خانزادہ: 63/Aکے فیصلے کو آپ کیسے دیکھتے ہیں، کیونکہ یہ تنقید ہوئی تھی کہ آئین کے بنیادی اسپرٹ کے خلاف ہے، اگر کل کو کوئی جماعت سادہ اکثریت لے کر آجائے تو آپ وزیراعظم کیخلاف کچھ بھی نہیں کرسکتے، عدم اعتماد نہیں لاسکتے، کیا آپ سمجھتے ہیں 63/Aکا اچھا فیصلہ تھا؟ صلاح الدین احمد (ماہر قانون): میں سمجھتا ہوں آج پنجاب اسمبلی میں جو ہوا ہے وہ صرف اس 63/Aکے فیصلے کی وجہ سے ہوا ہے، اس فیصلے میں جو اقلیت تھی انہوں نے کہا کہ آپ آئین میں خود words introduce نہیں کرسکتے یہ آپ آئین کو re-wirte کررہے ہیں، اس re-writing کا نتیجہ آج ہمیں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ نیوز اینکر: احسن بھون صاحب، جو ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ ہے کیا سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں وہی درست قرار پائے گی، آپکی اس پر قانونی رائے کیا ہے؟ احسن بھون: میں اپنی رائے کے مطابق سمجھتا ہوں کہ میری اس وقت بھی رائے تھی کہ جو اقلیتی ویو ہے اس میں دو ججز کا وہ زیادہ ٹھیک ہے اور اکثریتی view آئین کی اسپرٹ آرٹیکل 63/Aکے منافی ہے اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ آرٹیکل 63/A پرووائڈ کرتا ہے کہ جب کوئی ممبر خود اپنی پارٹی ہیڈ کے خلاف دیگا یا پارلیمانی پارٹی کے فیصلے کے خلاف دے گا تو اس کے بعد اس کا ووٹ گنا ضرور جائے گا لیکن there after they can move for denotification اور وہ سیٹ lose کرسکتا ہے لیکن بدقسمتی سے بڑی تکلیف دہ سے یہ بات کررہا ہو، آنریبل سپریم کورٹ نے یہ کہا کہ نہیں وہاں پارٹی ہیڈ کا لفظ لکھ دیا گیا جو آئین میں نہیں ہے، پارٹی ہیڈ کا لفظ لکھ دیا کہ پارٹی ہیڈ جو ہے وہ … اسی چیز کی تشریح کرتے ہوئے پارٹی ہیڈ نے ایک لیٹر لکھ دیا، لیٹر کے مطابق انہوں نے کہا meaning there by کہ چوہدری پرویز الٰہی کی جو نامزدگی ہے اسے بھی defective قرار دیدیا گیا، meaning there by جب پارٹی ہیڈ نے یہ بات کردی ہے تو اس کے بعد میں سمجھتا ہوں یہ بڑی عجیب تکلیف دہ بات ہے، میرا ریویو آج بھی اس آرٹیکل 63/A کے فیصلے کے خلاف بحیثیت پریذیڈنٹ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن موجود ہے، that is panding subjudice اور اس کو سپریم کورٹ کو ہی interprete کرنا پڑے گا۔ حامد میر: میرا سوال ہے کہ آپ تھوڑا سا موازنہ کریں گے کہ جس خط کی بنیاد پر پاکستان تحریک انصاف نے اپنے ممبران پارلیمنٹ کو ڈی سیٹ کروایا تھا وہ خط اور جو خط چوہدری شجاعت نے لکھا ہے کیا یہ دو مختلف چیزیں ہیں؟ احسن بھون: میرا خیال ہے چوہدری شجاعت کا خط زیادہ، وہ تو بعد میں انہوں نے دیا تھا لیکن میں حامد میر صاحب آپ کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بات کروں گا، میں بڑی تکلیف سے یہ بات کررہا ہوں، ہم نے اب prosperity کیلئے کام کرنا ہے، آنریبل سپریم کورٹ کو اس کیلئے فل کورٹ بنانا چاہئے، سپریم کورٹ کو اسے فل کورٹ کے سامنے رکھنا چاہئے کہ ایسے معاملات اگر دو چار چھ ججز کے سامنے جس پر پھر یہ بات آئے کہ آنریبل سپریم کورٹ کے یہ ججز جو ہیں یہ ایک پارٹی کے حق میں کررہے ہیں، یہ ججز جو ہیں یہ دوسری پارٹی کے حق میں فیصلے کررہے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ آنریبل سپریم کورٹ کو فل کورٹ کے سامنے یہ رکھنا چاہئے اور اس کی تشریح کرنی چاہئے، we are drowning every day, every movement اب یہ باتیں ہورہی ہیں صرف اقتدار کیلئے، کسی ایک بندے کیلئے ، کبھی دوسرے بندے کیلئے ، کسی دوسرے بندے کی سیاست کیلئے، ہم نے اپنی فیوچر جنریشن کو کیا دینا ہے، اپنی آنے والی نسلوں کو کیا دینا ہے ، ہم نے اپنے نظام کیلئے کیا کرنا ہے، میں چیف جسٹس آف پاکستان سے یہ گزارش کروں گا کہ اس ساری سچویشن کو ہینڈل کرنے کیلئے تمام مصلحتوں سے بالاتر ہو کر فل کورٹ کے سامنے یہ رکھیں اور اس کا ، ریویو پٹیشنز پینڈنگ ہیں وہ ان سب کو دیکھیں، یہاں بڑا unfortunate phenomena ہے ، جو موجودہ صورتحال میں ہم روز سنتے ہیں اخباروں میں کہ عسکری جو ادارے ہیں ان میں بھی تضاد ہے، بات یہ ہے کہ اس ملک کے لوگوں نے اس ملک کی قسمت کا فیصلہ کرنا ہے عسکری اداروں نے کرنا ہے؟، ہم پبلک میں جاتے ہیں تو کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عسکری ادارے جو ہیں ان کے فلاں فلاں جج جو ہیں نا، ایک سائڈ والے influence میں ہیں، دوسرے دوسری سائڈ والے influence میں ہیں، ہم جب اس کی طرح کی بات کرتے ہوں تو میں سمجھتا ہوں کہ ہماری ملک و قوم کیلئے بڑی تکلیف دہ بات ہے اور نقصان دہ بات ہے۔ شاہزیب خانزادہ: عدالت کے فیصلے میں یہ بات لکھی ہوئی ہے جس پر بحث ہورہی ہے کہ جو ووٹ ہے اگر وہ پارلیمانی پارٹی کی ڈائریکشن کے خلاف ہوگا تو وہ شمار نہیں ہوگا، عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ لکھا ہے ، وہ یہ لکھا ہوا ہے کہ اس بات سے قطع نظر کے پارٹی ہیڈ بعد میں deseating کا فیصلہ کرتا ہے یا نہیں کرتا، یہ پارٹی ہیڈ کی direction count ہونی ہے یا پارلیمانی پارٹی کی direction count ہونی ہے؟ احسن بھون: اسی لیے یہ بات کروں گا جب پارٹی ہیڈ کو آپ نے رول دیدیا تو اس کے بعد پارٹی ہیڈ کو آپ نے ووٹ دینا ہے، پارٹی ہیڈ کو weight دینا ہے، آپ سب سے پہلے اس پروویژن آرٹیکل 63/Aکی اسپرٹ تو دیکھیں، آرٹیکل 63/Aکی اسپرٹ کے حوالے سے جب آپ بات کرتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ اس حوالے سے سب سے پہلے تو اس بندے کا ووٹ کاؤنٹ ہونا چاہئے، اس بندے کے ووٹ کو کاؤنٹ ہونے کے بعد پارلیمانی ہیڈ اس کو موو کرنا چاہئے لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ لکھ دیا گیا کہ پارٹی ہیڈ اس کے بارے میں decideکرے گا، meaning there by اس کی implication کیا ہے، اس کی implied جو intepretation ہے کہ Party head is over all incharge of everything اگرآپ ایسی تشریح کردیتے ہیں تو اس کے بعد آپ کسی کو blame کرتے ہیں، آج میں ایک بڑی تکلیف دہ بات کے ساتھ آپ سارے دوستوں سے ، سارے ڈیموکریٹس سے یہ بات شیئر کرنا چاہتا ہوں بحیثیت صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، میں سمجھتا ہوں کہ سیاستدانوں کی وجہ سے ہمارا جمہوری نظام ناکام ہوچکا ہے، they have not shown grace, they have not accepted the will of majority ۔ نیوز اینکر: علی ظفر صاحب، ڈپٹی اسپیکر کا کہنا ہے کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا ہے جسکے مطابق وہ پابند ہیں پارٹی سربراہ کی ہدایت ماننے کے اور اسی کے نتیجے میں انہوں نے ووٹ مسترد کیے ہیں مسلم لیگ ق کے؟ علی ظفر: میری نظر میں ڈپٹی اسپیکر کا فیصلہ آئین و قانون کے خلاف ہے، آرٹیکل 63/Aآپ پڑھیں تو وہ واضح طور پر کہتا ہے کہ پارلیمانی پارٹی اگر کوئی فیصلہ کرتی ہے کہ آپ نے کس طرح ووٹ کرنا ہے اور اس کی آپ خلاف ورزی کریں ے تو آپ ڈس کوالیفائی ہوجائیں گے اس میں پارٹی ہیڈ کا ذکر نہیں ہے، صرف پارلیمانی پارٹی کی ڈائریکشنز آپ نے فالو کرنی ہیں، آرٹیکل 63/Aکی تشریح کی گئی سپریم کورٹ آف پاکستان میں، میں نے ہی سپریم کورٹ میں یہ بحث کی کہ اس کے ساتھ یہ بھی آپ کو پڑھنا پڑے گا کہ جو defector ہے اس کا ووٹ کاؤنٹ بھی نہیں ہوگا، سپریم کورٹ نے وہ تشریح ماننے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ اگر پارلیمانی پارٹی ایک فیصلہ کرتی ہے اور پارلیمانی پارٹی کے خلاف کوئی ووٹ کرتا ہے تو اس کا ووٹ شمار نہیں ہوگا، سپریم کورٹ کے فیصلے میں بھی پارٹی ہیڈ کا کوئی ذکر نہیں ہے، پارٹی ہیڈ کا رول تب آتا ہے جب ایک پارلیمانی پارٹی ڈائریکشن دیدیے اور اس کی خلاف ورزی ہو تو پھر پارٹی ہیڈ فیصلہ کرسکتا ہے کہ اس شخص کو ڈس کوالیفائی کروانا ہے یا نہیں کروانا ہے، پارٹی ہیڈ کا رول آرٹیکل 63/Aمیں صرف اتنا ہے اس لیے یہ جو ڈپٹی اسپیکر نے فیصلہ کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ کیونکہ مجھے چوہدری شجاعت کا ایک لیٹر آگیا ہے تو میں یہ ووٹ شمار نہیں کروں گا یہ غیرآئینی ووٹ ہے، میں آپ کو اس کا آگے بھی بتادوں کیا ہوگا، اگلے دس پندرہ دن کے اندر اندر سپریم کورٹ فیصلہ کردے گا کہ ڈپٹی اسپیکر کا فیصلہ غیرآئینی ہے، جس طرح سپریم کورٹ نے وہ فیصلہ کیا تھا جو نیشنل اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر نے کہا تھا کہ میں ریزولیشن نہیں مانتا اور سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ وہ فیصلہ غیرآئینی ہے ہم اس کو کالعدم قرار دیتے ہیں، اسی طرح یہ جو فیصلہ ہے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کا اس کا بھی یہی انجام ہونا ہے۔ نیوز اینکر: علی ظفر صاحب آپ خود بھی ممبر پارلیمنٹ ہیں، اگر آپ تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر ہوتے اور عمران خان یہ حکم دیتے اور قومی اسمبلی میں وہ ووٹنگ ہورہی ہوتی کہ شہباز شریف امیدوار ہیں ان کو آپ ووٹ نہیں دے سکتے لیکن کیا آپ قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر کی حیثیت سے یہ فیصلہ کرسکتے تھے کہ نہیں میں پارلیمانی لیڈر ہوں اس لیے میں فیصلہ کررہا ہوں کہ تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی شہباز شریف کو ووٹ دیں گے، پارٹی ہیڈ کا اس میں کوئی کردار نہیں ہوگا، کیا ایسا ممکن ہوسکتا تھا؟ علی ظفر: آئین اس کو بڑا واضح طور پر کہہ دیتا ہے کہ ووٹ کے معاملہ میں، منی بل کے معاملہ میں، ووٹ آف کانفیڈنس یا الیکشن کے ووٹ کے معاملہ میں پارٹی ہیڈ کا کوئی تعلق نہیں ہے، پارٹی ہیڈ جو مرضی کہتا رہے پارلیمانی پارٹی نے فیصلہ کرنا ہے اور وہ فیصلہ اکثریت سے کرنا ہے، اگر ایک پارٹی ، ق لیگ کو آپ دیکھ لیں اس کے دس ممبران ہیں، اس کو سمجھا جائے گا کہ وہ پارلیمانی پارٹی ہیں، اگر وہ دس کے دس ممبر فیصلہ کرتے ہیں کہ ہم نے اس الیکشن میں پرویز الٰہی کیلئے ووٹ کرنا ہے تو پھر پارٹی ہیڈ جو بھی ہو ان کے فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں ہے، یہی آئین کہتا ہے 63/Aکو لاگو کر نے کیلئے، باقی آپ کی سیاست ہے کہ پارلیمانی پارٹی کیا فیصلہ کرتی ہے اور پارٹی ہیڈ کیا فیصلہ کرتا ہے، ان کا آپس میں کیا تعلق ہے یا نہیں ہے وہ پالیٹکس ہے وہ سیاست ہے لیکن قانونی طور پرا ٓرٹیکل 63/Aآپ نے نافذ کرنا ہے اور ووٹ کو مسترد کرناہے تو آپ نے دیکھنا ہے کہ پارلیمانی پارٹی کا کیا فیصلہ ہے، آپ سب بیٹھے ہیں قانون کو اسی طرح سمجھتے ہیں جس طرح ایک قانون دان یا پی ایچ ڈی وکیل سمجھتا ہے، آپ آرٹیکل 63/Aپڑھ لیجئے اگر آپ کے سامنے ہے تو پڑھ لیجئے ورنہ میں جو کہہ رہا ہوں بالکل یہی کہا ہے۔ شاہزیب خانزادہ: علی ظفر صاحب آپ جو کہہ رہے ہیں بالکل یہی لکھا ہوا ہے پارلیمانی پارٹی فیصلہ کرے گی آپ درست کہہ رہے ہیں یہ لکھا ہوا ہے مگر 63/Aکا جو فیصلہ دیا عدالت نے اس میں عدالت سب سے پہلے بتاتی ہے کہ سیاسی جماعت جمہوریت کی بنیاد ہے اس کی خلاف ورزی جمہوریت کو ہلاسکتی ہے، جب 63/Aکی تشریح ہے آپ درست کہہ رہے ہیں پارلیمانی پارٹی کی بات کرتی ہے مگر یہ ایک تضاد نہیں ا ٓجائے گا کہ فیصلہ پارلیمانی پارٹی کے مطابق کرنا ہے مگر ڈس کوالیفکیشن یا ڈی سیٹ کرنے کا فیصلہ پارٹی ہیڈ نے کرنا ہے، کیا پھر یہ سوال نہیں پیدا ہوتا کہ پھر کیا پارلیمانی پارٹی نے وہی فیصلہ کرنا ہے جو پارٹی ہیڈ نے کیا ہے کیونکہ ڈی سیٹ کرنے کا اختیار تو پارٹی ہیڈ کو دیا ہوا ہے آئین نے؟ علی ظفر: شاہزیب آپ کو explain کرتا ہوں کہ قانون کا اس میں کیا مقصد تھا، آپ 63/Aکی debates بھی پڑھ لیجئے، اس میں یہ debate بھی ہوتی ہے، مقصد یہ تھا کہ سب سے پہلے پارلیمانی پارٹی نے فیصلہ کرنا ہے کہ ووٹ کس طرح کرنا ہے، پارلیمانی پارٹی نے جب فیصلہ کرتا ہے اور کوئی اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس میں explination دینا ہے پارٹی ہیڈ کو، پارٹی ہیڈ اس کو شوکاز نوٹس دے گا کہ آپ نے یہ خلاف ورزی کی ہے آپ بتائیں کیوں کی ہے، ہوسکتا ہے وہ آکر explain کرے، پھر پارٹی ہیڈ کا فیصلہ ہوگا کہ وہ پارٹی ہیڈ اس کو معاف کردے یا اس کو کہے کہ نہیں آپ کو معاف نہیں کرسکتے آپ کو ہم الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس بھیج رہے ہیں۔ حامد میر: علی ظفر صاحب میرے پاس لیٹرہے اسد عمر صاحب کا جو تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری ہیں، انہوں نے چار مارچ 2022ء کو ایک خط بھیجا تھا اسپیکر پنجاب اسمبلی کو، پاکستان تحریک انصاف کے لیٹرہیڈ پر یہ لکھا ہوا ہے انہوں نے، directions of the Party Head under article 63/A read with article 177 of the constitution اس میں اسد عمر نے لکھا ہے کہ پارٹی کے چیئرمین یعنی پارٹی ہیڈ عمران خان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ چوہدری پرویز ہمارے چیف منسٹرشپ کے امیدوار ہیں اور انہی کو ووٹ دینا ہے، you are also required to vote according to the party lines and no member should absten himself or herself and vote according to the direction to the party chairman, Asad Umer ان کے نیچے دستخط ہیں گرین پین سے۔ یہ لیٹر بھی تو آپ کی نظر سے گزرا ہوگا، یہ لیٹر جو ہے اس کی آپ کیا تشریح کریں گے؟ علی ظفر: بالکل یہ میری نظر سے گزرا ہے بلکہ ایک کیس فائل کیا تھا اس میں بھی میں ہی وکیل تھا، وہ کیس یہ تھا کہ ہم الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس گئے تھے اور ہم نے کہا تھا کہ پچیس اراکین نے پارٹی ڈائریکشنز کو فالو نہیں کیا انہیں آپ ڈس کوالیفائی کریں اور ری الیکشن کریں، وہاں یہ بحث ہوئی تھی کہ جناب یہاں پارٹی ڈائریکشن ہی نہیں ہے، پی ایم ایل این کے لوگ بھی آئے تھے اور جن کو defect کیا جانا تھا ان کے وکلاء بھی آئے تھے انہوں نے کہا تھا کہ یہ پارٹی ہیڈ کی طرف سے ڈائریکشن ہے یہ پارلیمانی پارٹی کی ڈائریکشن نہیں ہے اس لیے آرٹیکل 63/Aلاگو نہیں ہوسکتا، ہم نے باقاعدہ ڈاکیومنٹ پروڈیوس کیے تھے جس میں یہ دکھایا تھا کہ یہ پارٹی کے ڈائریکشنز تھے اور پارلیمانی پارٹی نے باقاعدہ میٹنگ کی تھی اس کے منٹس آف میٹنگ اس کیس میں لگائے گئے تھے پھر کہا گیا تھا کہ یہ ڈائریکشنز پارٹی ہیڈ کے ہیں، ہاں ان کو communicate جو کیا گیا، نوٹسز جو ایشو کیے گئے وہ پارٹی جنرل سیکرٹری نے کیے، اس میں پارٹی ہیڈ کی بھی یہی پوزیشن تھی، ایک طرح سے اس میں کوئی تصادم نہیں تھا، اس کیس میں ساری پارلیمانی پارٹی کا بھی ایک ہی ڈائریکشن تھا جو پارٹی ہیڈ تھا اس کا بھی ایک ہی ڈائریکشن تھا، جو جنرل سیکرٹری تھا اس کا بھی ایک ہی ڈائریکشن تھا، اس کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے یہی فیصلہ کر کے یہ الیکشن کیا جس کا آج ہم ذکر کررہے ہیں۔ نیوز اینکر: احسن بھون صاحب آپ کی رائے کیا ہے، علی ظفر کا کہنا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ آئینی طور پر درست نہیں ہے، وہ آئین کا حوالہ دے رہے ہیں بات سپریم کورٹ کے فیصلے کی ہورہی ہے اسی فیصلے کے نتیجے میں پنجاب اسمبلی کا اجلاس ہوا تھا، اسی فیصلے کے نتیجے میں رن آف الیکشن ہوا تھا، پھر حامد میر نے جو اسد عمر کا خط پڑھ کر سنایا اس میں بھی وہ پارٹی ہیڈ کی ہدایات کا حوالہ دے رہے ہیں؟ احسن بھون: علی ظفر میرا بھائی بھی ہے اچھا قانون دان بھی ہے لیکن وہ آج کل تھوڑا سا پارٹی لائن بھی لے رہے ہیں اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ علی کی اپنی مجبوری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں