41

پارلیمان تحلیل: کیا پی ٹی آئی کو فائدہ ہو گا؟

کئی ناقدین اسمبلی تحلیل کرنے کے فیصلے کو پی ٹی آئی کے لیے تباہ کن قرار دے رہے ہیں لیکن پی ٹی آئی اور کچھ مبصرین کے خیال میں اس حکومتی اقدام سے پی ٹی آئی کو فائدہ ہوگا۔
حزب اختلاف اور کئی آئینی ماہرین نے اس حکومتی اقدام کو غیر آئینی قرار دیا اور کچھ نے تو دعوی کیا ہے کہ اس اقدام کی وجہ سے صدر، اسپیکر اور وزیر اعظم کے خلاف آئین کی آرٹیکل چھ کا بھی اطلاق ہو سکتا ہے۔
پی ٹی آئی کو فائدہ
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس اقدام سے اس کو سیاسی طور پر فائدہ ہو گا۔ پارٹی کے ایک رہنما اور رکن قومی اسمبلی محمد اقبال خان آفریدی کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے عمران خان کا سازش کا بیانیہ عوام میں مقبول ہو گیا ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”موجودہ صورت حال میں اگر انتخابات ہوتے ہیں، تو اس سے پی ٹی آئی کو فائدہ ہو گا۔ خان کاغیر ملکی سازش کے حوالے سے بیانیہ کامیاب ہو گیا ہے۔ پورے ملک میں امریکہ مخالف جذبات عروج پر ہیں اور عوام حزب اختلاف کو غیر ملکی قوتوں کا ایجنٹس سمجھتی ہے۔ اس سے یقینا ہمیں فائدہ ہو گا۔‘‘
’فضل الرحمن اور نواز کو نقصان پہنچا سکتا ہے‘
کراچی سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار ڈاکٹر توصیف احمد خان کا کہنا ہے کہ عمران خان کا مذہبی بیانیہ انہیں انتخابات میں فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”عمران نے امریکہ مخالف جذبات کو عوامی سطح پر بہت مقبول بنا دیا ہے، جس کی وجہ سے فوری انتخابات کی صورت میں فضل الرحمن کے ووٹرز کے پی میں اور میاں نواز شریف کے ووٹرز پنجاب کے بہت سارے قدامت پرست حلقوں میں عمران خان کو ووٹ دے سکتے ہیں۔ تو سیاسی طور پر تحلیلی کا یہ فیصلہ پی ٹی آئی کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔‘‘
حزب اختلاف کی دھمکیاں
تاہم عمران خان کے ناقدین اس فیصلے کو پی ٹی آئی کے لیے تباہ کن قرار دے رہے ہیں اور ان کا دعوی ہے کہ اس فیصلے کی وجہ سے عمران خان اور صدر کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ ملک کی حزب اختلاف نے وزیر اعظم کے اس مشورے کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ نون لیگ کی رہنما مریم اورنگزیب نے عمران خان کو متنبہ کیا کہ ان کے اس اقدام پر آئین کی آرٹیکل چھ لگے گی۔ انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان اور ڈپٹی اسپیکر نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔ عمران خان کے پاس کوئی قانونی و آئینی اختیار نہیں ہے کہ وہ اسملبیوں کو توڑنے کا مشورہ دیں اور صدر کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ اسے تحلیل کریں۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حزب اختلاف اس وقت تک اسمبلی میں دھرنا دے گی جب تک یہ غیر آئینی فیصلہ واپس نہ ہو جائے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی عدالت میں اس معاملے کو طول دینے کی کوشش کرے گی جب کہ وہ عدالتی پلیٹ فارم کو اپنے مخالفین کے خلاف پروپینگڈہ کے طور پر بھی استعمال کر سکتی ہے اور ان کے خلاف پر زور انداز میں غداری کے دعوے کر سکتی ہے، جس سے رائے عامہ پی ٹی آئی اور عمران خان کے لیے مزید ہموار ہو سکتی ہے۔
صرف حکومت کے مخالفین ہی نہیں بلکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد محمود نے بھی اس حکومتی اقدام کی بھرپور مذمت کی اور اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔
اجلاس کی کارروائی
آج اسمبلی کا طوفانی اجلاس جو امریکہ کا یار ہے غدار ہے غدار کے پر جوش نعروں میں شروع ہوا۔ اس میں وفاقی وزیر قانون و وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے آئین کی آرٹیکل پانچ کا حوالہ دیتے ہوئے دھواں دھار تقریر کی اور دعوی کیا کہ عام حالات میں تحریک عدم اعتماد پیش کیا جانا کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن یہ قرارداد بیرونی قوتوں کے اشاروں پر پیش کی گئی، جو ملک کے خلاف ایک سازش ہے۔
ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے تقریر کے بعد متحدہ اپوزیشن کی تحریکِ عدم اعتماد کو آئین کے خلاف قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی غیر ملک کو یہ حق نہیں کہ وہ وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لائے، میں بطور ڈپٹی اسپیکر رولنگ دیتا ہوں کہ وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد مسترد کی جاتی ہے۔
یہ کہتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر نے تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے سے انکار کر دیا اور قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں