304

پارا چنار میں اساتذہ کا بہیمانہ قتل

پارا چنار میں اساتذہ کا بہیمانہ قتل
تحریر:مفتی گلزار احمد نعیمی
4مئی 2023کو پاراچنار کے علاقہ اپر کرم میں دو مختلف مقامات پر فائرنگ کر کے آٹھ افراد کو قتل کر دیا گیا۔ قتل ہونے والوں میں پانچ معزز اساتذہ اکرام تھے۔ یہ اساتذہ کرام تری منگل کے ہائی سکول میں امتحانی ڈیوٹی پر تھے۔ بہت ہی قابل افسوس واقعہ رونما ہوا جس نے ہمیں بہت غم ناک کر دیا ۔استاد قوم کا معمار ہوتا ہے۔ وہ نسلوں کی علمی آبیاری کرتا ہے۔ قوم کی تعمیر و ترقی میں اسکا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ ہم اس واقعہ کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور حکومت خیبر پختون خواہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قاتلوں کو فوری گرفتار کرے اور انہیں قرار واقعی سزا دے۔پورے ضلع کرم میں ابھی تک فضا بہت سوگواری کا منظر پیش کر رہی ہے۔ان قابل قدر اساتید کی تجہیز وتکفین اور نماز جنازہ میں ضلع بھر سے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔تمام عدالتیں حالت سوگ میں ہیں۔پورے پختون خواہ میں اساتذہ بھرپور احتجاج کر رہےہیں۔صوبہ پختون خواہ میں دسویں کے امتحانات ملتوی کر دیئے گئے۔
محترم دوستان ذی وقار کرم ایجنسی کئی دہائیوں سے قتل و قتال اور فسادات کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے۔ ہم ان فسادات کے اصل حقائق کی طرف آپکی راہنمائی کی کوشش کرتے ہیں ۔کرم ایجنسی کا اب نیا نام ضلع کرم ہے ۔ یہاں زیادہ تر طوری، خوجل خیل وزیر، منگل، اور کزئی اور چمکنی قبائل آباد ہیں ۔ یہ علاقہ تزوریاتی اعتبار سے اقوام عالم کی نظروں میں بہت ہی اہم شمار ہوتا ہے ۔ یہ علاقہ افغانستان کے تین صوبوں کی سرحدات سے ملتا ہے یعنی صوبہ یکتیا ،خوست اور ننگر ہار۔ یہ علاقہ چونکہ افغانستان کے تین اہم صوبوں کے ساتھ ملتا ہے اس لیے اس کے لوگوں کے ساتھ امریکہ اور دیگر بین الاقوامی طاقتیں اپنا اثر و رسوخ جمانے کے لیے ہمیشہ برسر پیکار رہی ہیں۔ یہاں کی غارت گری کی اصل ذمہ دار بین الاقوامی قوتیں ہیں اور وہ وار لارڈرز جو ان قوتوں کے لیے کام کرتے ہیں۔ ہمارے قارئین نے تو رہ بورہ کا نام یقینا سنا ہو گا ،یہ تورہ بورہ کے پہاڑ ایک طرف سے صوبہ ننگر یار اور دوسری طرف سے پارا چنار سے جا ملتے ہیں ۔ کوہ سفید جسے افغانی زبان میں سپین غر ” کہتے ہیں یہ پارا چنار کے ایک گاوں زیڑان سے متصل ہے۔ پارا چنار افغانستان کے دارالخلافہ کابل سے قریب تر علاقہ ہے جسکی شکل مثلث کی طرح ہے ۔ بین الاقوامی اصطلاح میں اسے طوطے کی چونچ یعنی Parrot’s Beakکہتے ہیں۔
ضلع کرم منشیات فروشی کا گڑھ ہے ۔یہ جگہ قومی اور بین الاقوامی منشیات فروشوں کے لیے بہت آسودہ مقام ہے ۔ ان منشیات فروشوں کے ساتھ وہاں کے سرکاری ادارے بھی ملے ہوئے ہیں ۔ چونکہ یہ ضلع افغانستان کے تین صوبوں کے ساتھ مربوط ہے اس لیے افغانستان سے منشیات اور دیگر سامان بہت آسانی سے سمگل کر کے پاکستان لایا جاتا ہے۔ یہاں کے نوجوان نشے کی لعنت میں بہت بری طرح گھِر چکے ہیں ۔یہاں آئس ، چرس، افیون، ہیرون اور دیگر نشہ آور چیزیں بہت کھلے بندوں استعمال کی جاتی ہیں۔ یہاں کے عمائدین اپنی نسلوں کے منشیات میں ملوث ہونے کی وجہ سے بہت پریشان دکھائی دیتے ہیں جسکا وہ سمینار زاور مجالس کا انعقاد کر کے کئی دفعہ اظہار کر چکے ہیں۔
ہمارا خیبر پختون خواہ کی حکومت اور ریاستی حکام سے مطالبہ ہے کہ وہ پارا چنار کے غیور پاکستانیوں کی نسل کو منشیات سے محفوظ کرنے کے لیے اقدامات کریں تاکہ وہ علاقہ اور پورا پاکستان منشیات کے مکروہ دھندے اور نسلوں کی تباہی سے محفوظ رہ سکے۔
محترم قارئین کرام! یہاں فسادات اور قتل و غارت کی اصل وجہ زمینوں کے تنازعات ہیں ۔ ہم نے ایک دن اپنے ایک شاگر د رشید عزیزم واحد اللہ خان سے پوچھا تھا کہ پارا چنار میں شیعہ سنی فسادات کی اصل وجہ کیا ہے؟۔ یہ جوان کرم ایجنسی سے ہی تعلق رکھتا ہے اس لیے اس نے ہمیں ان فسادات کی اصل وجہ بتائی کہ یہاں جھگڑے اور فساد کی وجہ مذہب نہیں ہے بلکہ زمینیں ہیں ۔ان زمینوں کی وجہ سے جھگڑے ہوتے ہیں اور پھر انہیں شیعہ سنی فسادات کا رنگ دے دیا جاتا ہے۔
ہم اپنے قارئین کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ کرم ایجنسی جو اب ضلع کرم بن چکا ہے یہ دوحصوں پر مشتمل ہے۔ ایک اپر کرم اور دوسرا لوئر کرم ۔ اپر کرم میں زیادہ تر شیعہ لوگ آباد ہیں اور لوئر کرم میں غالب اکثریت دیو بندی مکتب فکر کے لوگوں کی ہے۔ یہاں اہل سنت و جماعت بھی موجود ہیں مگر وہ منظر عام پر نہیں ہیں۔اپر کرم کے لوگوں کی زمینیں لوئر کرم میں ہیں ۔لوئر کرم میں انکی زمینوں پر کچھ لوگ قابض ہیں ۔اب جب وہ لوگ اپنی زمینوں پر آتے ہیں تو لوئر کرم کے لوگ ( جو زیادہ تر دیوبندی ہیں )ان کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیںاور یوں فسادات شروع ہو جاتے ہیں اور پھر غلط طور پر انہیں شیعہ سنی فسادات کہہ کر مذہب سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ زمینوں کہ وجہ سے پھوٹنے والے فسادات مذہب کو بھی بدنام کر رہے ہیں۔ یہ فسادات ستر سالوں سے چلے آ رہے ہیں اور گزشتہ ادوار میں کالعدم تنظیمات نے بھی یہاں فرقہ ورانہ فسادات کی آگ کو مزیدبھڑکایا تھا مگر 2012کے بعد کوئی بڑا سانحہ یہاں رونما نہیں ہوا۔ کرم علاقے کی ایک مشہور و معروف شخصیت ہمارے دوست جناب محمد علی حسینی نے بھی ہمارے سامنے بعض بہت اہم بلکہ خو ف ناک قسم کے انکشافات کیے ہیں جو ہمارے لیے بہت ہی حیران کن اور قابل افسوس ہیں ،جن کو ہم بوجہ اپنے اس آرٹیکل میں ذکر نہیں کر سکتے ہیں ۔
تاہم میرے خیال میں اگر حکومت اور ریاست منشیات فروشوں اور زمینوں کے مسائل پر قابو پا لے تو یقینا بہت قیمتی جانوں کو محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ اب جب کہ حکومت پاکستان لینڈ ریکارڈ کو کمپوٹر ائزڈ کر رہی ہے تو ایسے علاقوں پر زیادہ فوکس کرنا چاہیےجہاں زمینوں کی وجہ سے فسادات زیادہ ہیں، اور ان فسادات کی وجہ سے پورا پاکستان متاثر ہوتا ہے۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا ہے کہ تری منگل کے ان عظیم اساتذہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائےاور ان کے بہنے والے خون ناحق کے صدقے اس علاقہ میں مستقل امن قائم فرمائے۔آمین

طالب دعا
مفتی گلزار احمد نعیمی

اپنا تبصرہ بھیجیں