19

ٹیکس نادہندگان کے لئے جیل

5 / 100

اہم خبریںادارتی صفحہاسپورٹسیورپ سےدنیا بھر سےملک بھر سےشہر قائد/ شہر کی آوازدل لگیبزنستعلیم صحت خواتینسندھ بھر سےمراسلات
ٹیکسوں کی ادائیگیوں کے بغیر کسی بھی ملک یا قوم کی معیشت مضبوط و مستحکم نہیں ہو سکتی۔ دنیا کے ترقی یافتہ ملک ہوں یا ترقی پذیر، معاشی بقا کے لئے ٹیکسوں کا حصول ناگزیر ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ ماضی کے تجربات سے کچھ سیکھا ہے اور نہ سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ٹیکسوں کے نظام کا درست طور پر رائج نہ کرنا ہی ہے کہ آج ہم بیرونی قرضوں پر انحصار کر رہے ہیں اور ہر سال بجٹ خسارہ بڑھتا جا رہا ہے۔ آج آزادی کے 73سال بعد بھی 22کروڑ آبادی کے ملک میں ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ آبادی کے تناسب سے بھارت میں ٹیکس ادا کرنیوالوں کی تعداد 4.5فیصد، فرانس میں 58فیصد اورکینیڈا میں 80فیصد ہے۔ انہی وجوہ کے باعث حکومت نے ٹیکس نادہندگان کو جیل میں ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگلے روز وزیر خزانہ شوکت نے کہا ہے کہ پاکستان میں ٹیکس نادہندگان کو جیل یاترا کرنا ہوگی۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہمارا زور اب نوکریوں کی تشکیل پر ہوگا، حکومت پیداوار کو بڑھا نا چاہتی ہے تاکہ قیمتیں نیچے آئیں جس کا آ غاز ہو گیا ہے۔ شوکت ترین نے امید ظاہر کی کہ بجٹ کے دوران وہ ایسے پروگرام لے کر آئیں گے جس سے یہ شرح 4فیصد سے بڑھ کر 5پر چلی جائے گی۔ اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ایف بی آر نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مقرر کردہ ہدف سے زیادہ ریونیو اکٹھا کیا اور وزیراعظم عمران خان اور ان کی معاشی ٹیم ٹیکس وصولی کے لئے سنجیدگی کے ساتھ کام رہی ہے لیکن عوام کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ ان کے ٹیکسوں کی رقوم اللے تللوں پر نہیں انکی بہبود پر خرچ ہوگی، تب ہی ان کا اعتماد حاصل کیا جا سکے گا جس کے لئے موجودہ حکومت کو ایک مربوط معاشی پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان میں ٹیکس وصولی کی شرح بڑھائی جا سکے جو ملک کی معاشی ترقی کے لئے ناگزیر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں