17

ٹیکس دیں ورنہ لینے آئیں گے، اب نوٹس کے بجائے غیر رجسٹرڈ افراد کو ان کی آمدنی اور واجب الادا ٹیکس بتائیں گے جو انہیں دینا پڑے گا، شوکت ترین

اسلام آباد(ایجنسیاں‘ٹی وی رپورٹ) وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ لوگ بڑے گھروں میں رہتے‘کروڑوں کی گاڑیوں میں گھومتے ہیں‘ ہوٹلز میں جاکر تیس تیس ہزار کا ایک وقت کا کھانا کھاتے ہیں لیکن ٹیکس نہیں دیتے ‘سب کا حساب ہمارے سامنے ہے ‘22کروڑآبادی میں صرف 30 لاکھ افراد ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہیں‘کم ازکم 2کروڑ لوگوں کو ٹیکس دینا چاہئے ‘اب یہ نظام بدلے گا‘ٹیکس نادہندگان تک پہنچ چکے ہیں‘ بس سوئچ آن کرنا ہے‘بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے‘ اب ہم نوٹس نہیں دیں گےبلکہ غیر رجسٹرڈ افراد کو بتائیں گے کہ ان کی آمدنی کتنی ہےاوران پر کتنا ٹیکس واجب الادا ہے اور ان کو یہ ٹیکس دینا پڑے گا‘ چند ہفتوں میں بغیر نوٹس کے ٹیکس نادہندگان کے پاس ایف بی آر پہنچ جائے گا‘بہتر ہوگا ہمارے پہنچنے سے پہلے خود ٹیکس جمع کرادیں‘ضمنی مالیاتی بل معیشت کو دستا ویزی بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے ‘ رواں سال جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کو11.5 فیصد کی سطح پرلے جانا ہمارا ہدف ہے‘ وزیراعظم عمران خان مسٹرکلین ہیں‘میںتوتنخواہ بھی نہیں لیتا‘ہم عوام کی خدمت کیلئے آئے ہیں‘تالی دونوں ہاتھ سے بجتی ہے‘آپ ٹیکس دیں پھر حکومت کا احتساب کریں‘اگر اس منصب پر رہا تو نہ صرف سب کو انکم ٹیکس بلکہ سیلز ٹیکس بھی دینا پڑے گا۔ جمعہ کویہاں ایف بی آر ہیڈکوارٹرزمیں نیشنل سیلزٹیکس ریٹرن کا باضابطہ افتتاح کرتے ہوئےشوکت ترین نے کہا کہ ہم سہولت دیں گے لیکن ٹیکس تو دینا ہی پڑے گا‘ شوکت ترین نے کہا کہ گڈز پر سیلز ٹیکس وفاق کا دائرہ اختیار ہے، چیئرمین ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان کی زندگی کو آسان بنا دیا ہے، ٹیکس کی ادائیگی سے ہی ملک میں پائیدار ترقی ہوسکتی ہے‘انہوں نے خبردار کیا کہ چند ہفتوں میں بغیر نوٹس کے ٹیکس نادہندگان کے پاس ایف بی آر پہنچ جائے گا‘ ٹیکس نا دہندگان کو کسی بھی صورت ہراساں نہیں کیا جائے گا‘ ٹیکسوں کو سادہ کرنے سے زیادہ ٹیکس ملتا ہے‘جب کوئی ٹیکس ادا نہیں کرےگا تو ترقی کیسے کریں گے‘بیرون ممالک اگر آپ ٹیکس نہیں دیتے تو آپ کا ووٹ نہیں ہوتا۔شوکت ترین نے کہا کہ 22کروڑکی آبادی میں صرف20لاکھ لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں‘ اب یہ سسٹم تبدیل ہوگا‘ ٹیکنالوجی کے ذریعے ہر شخص تک پہنچیں گے‘ اگر پھر بھی ٹیکس ادا نہیں کرتے تو قانونی کارروائی کریں گے‘ ہمارے پہنچنے سے پہلے غیر رجسٹرڈ افراد ٹیکس دینا شروع کردیں ۔ شوکت ترین نے کہا کہ ریٹیل میں 18 ٹریلین کی فروخت ہےجس میں صرف 4 ٹریلین ٹیکس نیٹ میں ہے‘2009 میں ٹیکس ریفارمز شروع کیے تھے، اس وقت لوگوں نے ٹیکس ریفارمز نہیں ہونے دیے، اگر میں یہاں رہا تو ٹیکس ریفارمز کروں گا، لوگوں کو روزگار دینا ہے، ادھار لے کر جاری اور ترقیاتی اخراجات پورے کرتے ہیں‘ہم خرد برد نہیں کرتے‘ہم اس ملک کو ٹھیک کرنے آئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں