66

ٹرین میں اجتماعی ریپ گرفتاریاں

ٹرین میں اجتماعی ریپ گرفتاریاں
پاکستان کے شہر ملتان سے کراچی سفر کرنے والی ایک خاتون سے تین روز قبل ٹرین عملے کے تین ارکان کی جانب سے مبینہ اجتماعی زیادتی کا مقدمہ کراچی سٹی ریلوے پولیس سٹیشن میں درج کر لیا گیا ہے۔
پاکستان ریلوے کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اطلاعات کے مطابق واقعہ کے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ایک کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
تاہم ریلوے پولیس کے ترجمان نے کسی بھی گرفتاری ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق یا تردید سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیس میں اہم پیش رفت ہوچکی ہے جس کے حوالے سے جلد باضابطہ آگاہ کر دیا جائے گا۔
خاتون کراچی کی رہائشی ہیں اور ان کی شادی مظفر گڑھ میں ہوئی تھی تاہم شادی کے بعد علیحدگی ہوچکی ہے۔ خاتون کراچی سے ملتان اپنے بچوں سے ملاقات کے لیے سفر کر رہی تھیں۔ خاتون کا کہنا ہے کہ ان کی اپنے بچوں سے بھی ملاقات نہ ہوسکی تھی اور اوپر سے ظلم و زیادتی کا بھی نشانہ بن چکی ہوں۔
خاتون کے مطابق وہ خاوند سے علیحدگی کے بعد اپنے رشتہ داروں کے ہاں مقیم ہیں اور مختلف چھوٹی موٹی مزدوریاں کر کے زندگی کی گزر بسر کررہی ہیں۔
’میرے لیے اپنے بچوں سے ملنے کا سفر ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا ہے۔ میرے بچوں سے بھی ملاقات نہ ہوسکی اور ساتھ میں میرے ساتھ ظلم بھی کر دیا گیا ہے۔ مجھے نہیں پتا کہ اب میرے ساتھ کیا ہوگا۔ ایسا نہ ہو کہ میں بدنام بھی ہوجاؤں اور میرے ساتھ انصاف بھی نہ ہو۔‘
اس خاتون نے سٹی ریلوے پولیس سٹیشن کراچی میں درج مقدمے میں کہا ہے کہ 27 مئی کو وہ ملتان کے ریلوے سٹیشن پر کراچی جانے کے لیے پہنچی تھیں جہاں پر انھیں ٹکٹ نہ ملی مگر عملے نے انھیں بلا کر کہا کہ ٹرین میں سوار ہو جانا راستے میں ٹکٹ بن جائے گئی۔
خاتون کے مطابق ٹرین چلی ہی تھی کہ ’ایک ٹکٹ چیکر میرے پاس آیا اور اس نے بارہ سو پچاس روپے طلب کیے جو میں نے ادا کر دیے۔ تھوڑی دیر بعد ایک اور ٹکٹ چیکر آیا۔ اس نے از خود ہی کہا کہ میرے پاس برتھ نہیں ہے میرے ساتھ آؤ۔‘
خاتون کے مطابق ’وہ شخص مجھے اے سی بوگی میں بیٹھے ایک شخص کے پاس لے گیا جو کہ ان کا انچارج تھا جس نے کہا کہ اس خاتون کو اے سی کلاس میں جگہ دے دو۔ اس پر یہ دونوں آپس میں کوئی بات کرنے کے لیے چلے گئے۔ اس موقعے پر انھوں نے اے سی کمپارٹمنٹ کو لاک کردیا تھا۔ پھر میرے پاس آیا اور کہا کہ یہاں بیٹھنے کا ٹکٹ مہنگا ہے جس پر میں نے کہا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں اور میں واپس اکنامی کلاس میں جاتی ہوں۔‘
خاتون کے مطابق اس پر وہ شخص مشتعل ہو گیا اور ’اس نے مجھے تھپڑا مارا اور جان سے مارنے کا خوف دلا کر میرے ساتھ زیادتی کی۔‘ انھوں نے کہا کہ تقریباً آدھے گھنٹے بعد دوسرا شخص بھی اندر آیا اور اس نے بھی میرے ساتھ زیادتی کی۔ اس کے بعد ایک تیسرا شخص اندر آیا اس نے بھی زیادتی کی۔‘
خاتون کے مطابق ’اس وقت تین سیکورٹی گارڈ جن کے نام میں نہیں جانتی کو ساری تفصیل بتائی تو انھوں نے کہا ہم ان کی شکایت ملتان آفس میں کریں گے جس پر میں اکنامی کلاس میں آکر بیٹھ گئی۔‘
خاتون کے مطابق مورخہ 28 مئی کو وہ کراچی سٹی سٹیشن پلیٹ فارم پر پریشانی کے عالم میں موجود تھی جہاں پر پولیس ملازمین آئے اور ’مجھے ہیلپ سنٹر لے گئے جہاں پر میں نے اپنی بدنامی کے ڈر سے کسی کو کچھ نہ بتایا۔ انھوں نے میری بہن کو فون کر کے بلایا جو مجھے اپنے ساتھ لے گئی۔
’دوسرے روز ریلوے پولیس اور لیڈیر پولیس اہلکار میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا کہ واقعے کے بارے میں بیان دوں۔ جس پر میں نے ہیلپ سنٹر میں لیڈیز پولیس اور ایس ایچ او کو واقعہ کے بارے میں بتایا۔‘
ریلوے حکام کیا کہتے ہیں؟
پاکستان ریلوے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ واقعہ زکریا ایکسپریس پر پیش آیا اور یہ گاڑی پرائیویٹ مینجمنٹ کے تحت چلائی جا رہی ہے۔
کراچی کی رہائشی خاتون کے ساتھ عملے کے رکن ز، ٹرین مینیجر ع، تیسرے رکن ذ نے ان سے بد اخلاقی کی۔
پاکستان ریلوے کے مطابق جب ٹرین کراچی سٹی سٹیشن پر پہنچی تو اس کو لینے کوئی نہ پہنچا تو خاتون پلیٹ فارم پر بنچ پر بیٹھ گئیں۔
سٹی سٹیشن پر ڈیوٹی پر موجود ریلوے پولیس اہلکار نے ان سے کسی بھی مسئلے اور مدد کے بارے میں پوچھنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے ریلوے پولیس اہلکار سے کسی واقعے کے بارے میں پہلے کچھ ذکر نہیں کیا۔
پاکستان ریلوے کے مطابق جب خاتون کچھ دیر تک مزید وہیں بیٹھی رہیں تو ریلوے لیڈی پولیس انھیں پولیس سٹیشن ہیلپ سنٹر لے آئیں اور وہاں امدادی مرکز کے اہلکار نے ان کی بہن سے رابطہ کر کے ان کو اطلاع دی جو اپنے شوہر کے ساتھ تھانے پہنچیں جس کے بعد خاتون ان کے ساتھ چلی گئیں۔
پاکستان ریلوے کی مطابق اس موقع پرخاتون نے کسی طرح کا کوئی واقعہ نہ تو رپورٹ کیا نہ ہی قانونی کارروائی کی درخواست کی۔
بعد ازاں ایک مقامی اخبار میں خبر شائع ہونے پر ڈویژنل سپرنٹینڈنٹ کراچی نے خاتون سے رابطہ کر کے انھیں معاملہ رپورٹ کرنے کی درخواست کی اور اس کے بعد خاتون نے بیان ریکارڈ کرایا گیا۔
پاکستان ریلوے کے مطابق عملے کے ارکان پرائیویٹ شعبے سے ہیں اور ریلوے پولیس نے ایکشن لے لیا ہے۔
سٹی ریلوے پولیس اسٹیشن کے تفتیشی افسیر انسپکٹر حبیب اللہ خٹک کے مطابق خاتون کا طبعی معائنہ کروا لیا گیا ہے جس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے اور ڈی این اے کے نمونے بھی حاصل کر لیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تفتیش میں واقعے کی تصدیق ہو چکی ہے جس کے بعد تفتیش کا دائرہ کار پھیلا دیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں