225

ٹرمپ کا دورہ بھارت اور جلتا دلّی

آئین نو‘‘ کی یہ سطور تحریر ہو رہی ہیں تو پارلیمانی حجم کے زور پر بھارتی سیکولر آئین کو بلڈوز کر کے متصادم فلاسفی ’’ہندو توا‘‘ کی عملداری کے سخت متنازع حکومتی اقدامات کے ابتدائی نتائج نکلنے پر امریکی صدر ٹرمپ، بنیاد پرست وزیراعظم مودی کی میزبانی میں ہیں۔

حکمران جماعت کی بنیادی نیم مسلح تنظیم آر ایس ایس اور اس کی آلہ کار پولیس کے ایک بار پھر دہشت گردانہ اور پُرتشدد آپریشن سے کیپٹل دلّی جل رہا ہے۔

مقصد مہمانِ عظیم، جنہیں پہلے مودی کے ہم ٹائون میں لایا گیا، کی دہلی آمد سے قبل مذہبی منافرت پر مبنی شہریت کے نئے بل کے خلاف بلاامتیاز مذہب و سیاست، طویل دلّی دھرنا ختم کر کے دارالحکومت کے پُرامن اور معمول کے مطابق ہونے کی ضرورت پوری کی جائے جبکہ دلّی کے باشعور شہری، اسے مہمان صدر کی موجودگی میں جاری رکھنا چاہتے تھے تاکہ امریکی صدر کی موجودگی میں بھی ان کا متنازع بل کے خلاف احتجاجی دھرنا ریکارڈ ہو لیکن اسے اکھاڑنے کے لئے جس قدر تشدد کیا گیا اور جتنی اسے قائم رکھنے کے لئے احتجاجیوں نے مزاحمت کی اس نے پورے شمالی دلّی میں جیسے کوئی آگ لگا دی۔

آر ایس ایس اور اس کی آلہ کار پولیس نے مسلمانانِ دہلی کو سنگل آئوٹ کر کے ان پر شدید تشدد کیا، ان کی مارکیٹوں، انفرادی دکانوں کو نذر آتش کر دیا اور گھروں میں داخل ہو کر سخت تشدد اور گرفتاریاں کیں، جس سے مزاحمت اور آپریشن دونوں میں ہی شدت آئی۔ اس حد تک کہ آخری اطلاعات تک ایک پولیس افسر سمیت 7شہری ہلاک ہو گئے۔

یہ تو صدر ٹرمپ کے کیپٹل پہنچنے سے پہلے کی صورتحال بنی، ادھر مقبوضہ کشمیر میں وادی کو محصور کرنے کے 205روز مکمل ہو گئے اور وہاں بھی صدر ٹرمپ کی آمد سے کچھ روز قبل ہی کشمیری نوجوانوں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر کرفیو کی خلاف ورزی کر کے گھروں سے باہر نکل کر مظاہرے کئے جس میں شہادتوں، زخمی اور گرفتار ہونے کی اطلاعات بھی آرہی ہیں۔

معاملہ یہاں تک بھی نہیں ہے، دہلی سے دور شمال مشرقی بھارت کی علیحدگی پسند ریاستوں کا احتجاج اور سیاسی سماجی رویہ، انٹرنیشنل میڈیا کے نظروں سے اوجھل ہونے کے باوجود یہ نہیں کہ مکمل Unreportedہے،

بھاری نفری کی حامل مسلح افواج کے تسلط میں بھی ان ریاستوں میں جاری احتجاج اور اسے دبانے کے لئے ظلم و تشدد کی خبریں کچھ نہ کچھ سوشل میڈیا سے لیک ہو رہی ہیں۔

یہ تو بالکل واضح ہے کہ صدر ٹرمپ کے دورۂ بھارت کی باہمی سفارتی رضا مندی سے جو تیاری کی گئی، اس میں گمان غالب ہے کہ بنیاد پرست وزیراعظم اور ان کے کور گروپ نے دورے کا آغاز کیپٹل دہلی سے کرانے کے بجائے اپنی شدید خواہش پر احمد آباد سے آغاز منوا لیا۔ غالباً واشنگٹن کی جانب سے اسی کو متوازن کرنے کے لئے، احمد آباد پہنچ کر، صدر ٹرمپ کے آنجہانی مہاتما گاندھی کے گھر کا وزٹ بھی شامل کیا۔

وگرنہ ہندوتوا کے رنگ میں بھارتی تشخص کی تشکیل نو میں تو گاندھی کو بھارت کی تقسیم کا ذمہ دار قرار دے کر انہیں بھارت کا بھی غدار قرار دیا جا چکا ہے اور درجنوں کی تعداد میں ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ آر ایس ایس کے مسلح کارکنوں نے شہروں کے چوک میں گاندھی کی تصویر اور پتلے کی علامتی توہین کی۔
گلے میں پھندے ڈالے اور گولیاں برسائی گئیں اور ان کے قاتل نتھو رام کو بھارتی تاریخ کا نیا ہیرو بنایا جا رہا ہے۔

بھارت میں مذہبی آزادی کے خلاف جو کچھ ہو رہا ہے، بھارت کو عدم استحکام میں مبتلا کرنے والے ہر واقعہ کا ذمہ دار پاکستان اور اس کے خفیہ اداروں کو قرار دیا جا رہا ہے، وہ اتنا لغو ثابت ہو چکا ہے اور اتنا بھونڈا ہے کہ احمد آباد کے جلسہ عام میں صدر ٹرمپ کو پاکستان کے امن کے لئے اور دہشت گردی کے خلاف جاری حقیقی کردار کا اعتراف اور تعریف ببانگ دہل کرنی پڑی۔

وہ الگ ہے کہ انہیں اپنے آنے والے الیکشن میں بھارتی نژاد اور مودی نواز امریکی شہریوں کا لاکھوں کی تعداد میں ووٹ لینے کے لئے احمد آباد بھی جانا پڑا اور مودی کو مسلسل دوست بھی کہنا پڑ رہا ہے، لیکن ہر ایسے لمحے میں پاکستان کے لئے کلمہ خیز کہہ کر بھی انہیں اپنے متوازن ہونے کا تاثر جیسے کوئی لازمی دینا پڑ رہا ہے۔

اس سے کہیں بڑھ کر، وہ موقع بہ موقع مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے اپنی ثالثی کی بھی پیشکش کر رہے ہیں، گویا کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں بلکہ متنازع اور حل طلب مسئلہ ہے۔ جہاں تک بھارت کو بڑی منڈی سمجھ کر اس سے کھلی ڈیل کی بات ہے، وہ تو امریکہ اپنے سرمایہ دارانہ مزاج و تشخص کے مطابق بھارت کو اہمیت دے رہا ہے لیکن اتنی بھی نہیں جتنی مودی اور ان کی کور ٹیم، اندازے لگاتی اور قوم کو اسی پر بیوقوف بناتی رہی ہے اور بنا رہی ہے۔

لیکن یہ حقیقت اب امریکہ اور بھارت کے ساتھ پوری دنیا پر عیاں ہے کہ کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دے کر ہڑپ کرنے اور پاکستان کو بنگلا دیش اور نیپال کی سطح پر دبائو میں رکھنے، بعض صورتحال میں اس کی سلامتی و بقا کے درپے ہو کر اسلحے کی دوڑ میں پاکستان کو بہت پیچھے چھوڑنے کی جو خواہش دل تاریک میں بسائی ہوئی ہے۔

اس کے نتائج الٹ نکل رہے ہیں۔ امر واقعہ تو یہ ہی ہے کہ بھارت کی علاقائی بالادستی کی خواہش اور کشمیر کو ہمیشہ کے لئے بھارت میں شامل رکھنے کے لئے، اس نے اپنی 70فیصد بدترین غربت کو نظرانداز کر کے اسلحے کے ڈھیر لگانے کی پالیسی جاری رکھی ہوئی ہے۔

اسی کا تو نتیجہ ہے کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت اس کے مقابل معیار میں بلند تر ہوتی گئی حتیٰ کہ وہ بھارت سے زیادہ بہتر دینے والی ایٹمی طاقت بن گیا۔

بھارت یہ ہرگز نہ بھولے اور امریکہ بھی اسے کاروباری یا فطری یا تذویراتی پارٹنر سمجھ کر بھی سمجھا سکتا ہے تو سمجھا لے کہ وہ اب مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر اور اپنی مسلم دشمن قانون سازی کو واپس لئے بغیر سکون سے رہے گا نہ پاکستان کو اپنے خبث باطن کے مطابق زیر کر سکے گا۔ یہ کوئی ہمارا عزم ہی نہیں، تاریخ میں یہ ہی کچھ ہوا ہے۔

ہم ایٹمی طاقت تو بنے ہی ہیں ہمارا ڈلیوری سسٹم اور اسلحہ سازی کی صلاحیت شدید اقتصادی بحرانوں میں مبتلا رہ کر بھی اس سے برتر ہی رہی اور ہے۔ تاہم بھارت کے لئے افغانستان سے امریکہ اور نیٹو کے انخلا کے بعد اس کے لئے اپنے جائز تجارتی تعلقات بھی قائم رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔

جس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ لینڈ لاکٹ سنٹرل ایشین اسٹیٹس تک بھی رسائی حاصل نہ کر پائے گا اور اپنے اسلحے کے ڈھیروں کے ساتھ دنیا سے کٹ کر رہ جائے گا کہ اس کے لئے اسے آسان رسائی کبھی نہ ملے گی۔

مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر رضامندی کے بغیر بھارت خود کو سنبھالنے میں ہی لگا رہے گا اور پاکستان بھارتی ہمسایوں سے بھی بالآخر معمول کے تعلق قائم رکھنے اور جنوبی ایشیا کو بھارت کے ناقابلِ قبول اثر سے محفوظ رکھنے کی پوزیشن میں ہو گا۔

نہ جانے بھارت کی آنے والی نسلوں میں کونسی پیڑی اتنی خوش قسمت ہو گی کہ وہ اس کھلے راز کو سمجھ کر خود کو اس کے مطابق، بھارتی تشخص کو بحال کر کے، دنیا کے ساتھ انسانیت کے مانے گئے اصولوں کے مطابق چلنے کا اہل بن سکے۔ باقی امریکہ جمہوریت سے زیادہ جس طرح سرمایہ داری اور کاری میں پھنس گیا ہے، اس کے عوام کو بھی غور کرنا ہے کہ ابراہم کا امریکہ کدھر جا رہا ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں