133

ٹرانسجینڈر قانون نامنظورتحریر میمونہ اسلم، منڈی بہاوالدین

ٹرانسجینڈر قانون نامنظور
محترمہ میمونہ اسلم پرنسپل جامعہ نقشبندیہ کنز الایمان منڈی بہاؤالدین

2018 کو اسمبلی سے پاس ہونےوالا Transgender Bill جو بظاہر خواجہ سرا کے Rights کے لیے پاس ہوا مگر دراصل اس کی آڑ میں ہم جنس پرستوں کو تحفظ حاصل ہوگیا، گویا کہ gender change کی آزادی مل گئ
یہ انتہائی سنگین نوعیت کا جرم ہے، شیطان کی کھلم کھلا اتباع ہے، اور قرآن کریم میں شیطان کے انسان کو بہکانے کے لیے جن ہتھکنڈوں کے استعمال کرنے کا ذکر کیا گیا ہے یہ اس میں سے ایک ہے جب شیطان آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنے پر راندہ درگاہ ہوا تو اس نے بارگاہ رب العزت میں جنت سے نکالے جانے پرکہا تھا، وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِؕ-
میں انہیں ضرور حکم دوں گا تویہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزیں بدل دیں گے.
ایک وقت تھا جب تغیر خلق کو صرف وضع قطع اور زنانہ اور مردانہ مشابہت کے مفہوم میں ہی لیا جاتا تھا،ابتدا اسکے مفہوم میں صرف بھنویں بنوانے، دانت گھسوانے، ناک کان منہ کی سرجری کروانے کو ہی لیا جاتا رہا
پھر بادشاہوں کے ہاں آغاؤں کا تصور آیا،
اور اب جس طرح سے Transgender کا فتنہ آیا تو فلیغیرن خلق اللہ کا مفہوم ظاہری طور پر سامنے آگیا
یہ بل اور اسکے نتائج بہت بھیانک ہیں یہ صرف خواجہ سرا تک محدود نہیں رہے گا،
اس سے آگہی، اور اسکی روک تھام بہت ضروری ہے یہ محض قانون نہیں بلکہ آگ ہے جو خدانخواستہ ہمارے معاشرے، ہمارے بچوں کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے،
ذرا تصور تو کریں جب gender change کی آزادی ہوگی تو کوئی بھی جنس تبدیل کروا کے مخالف جنس کے اداروں میں تعلیم، نوکری، سب کر سکے گا یہاں تک کہ قیدی ہے تو خواتین کے ساتھ ایک جیل میں بھی رہ سکے گا، ظاہری جنس بدلنے سے جذبات اور معاملات نہیں بدلے جا سکتے، سوچیے کیسے نتائج نکلیں گے؟.
یہ ہمارا کیا کچھ نہ جلا کرخاکستر کر دے گا.
اس اختلاط کے نقصانات کے پیش نظر اسلام نے مخنثوں کو دوسروں کے گھروں میں داخل ہونے سے روکا ہے،
لیکن جہاں تک خواجہ سرا کے حقوق کی بات ہے اور مغربی دنیا اب شور مچا رہی ہے وہ اسلام صدیوں پہلے متعین کر چکا، اور اسکا فیصلہ کن حل پیش کر چکا، کہ جس خنثی کی جنس مرد و زن میں سے جس کے قریب ہے اسکے مطابق میراث سے حصہ وغیرہ ملے گا اور اسی کے مطابق احکام ہونگے.
موجودہ بل مغرب کی تباہی ہے جو مشرق کے بھی گلے ڈالنا چاہتا ہے ، حالانکہ ابھی وہ خود بھی پورا طرح سے اس سے متفق نہیں ہوا وہاں مغرب میں بھی اس قبیح کام پر Debates ہو رہی ہیں؛ لیکن اسی اثنا میں یہ تباہی مشرق میں داخل ہوکر ہمارے معاشرتی اور خانگی سکون کو غارت کرنے آپہنچی ہے، اور اسکے پیچھے ہمارے خاندانی حسن اور نظام کو بگاڑنا اور تتر بتر کرنا ہے
ایسے قانون کی نہ ہمارے مذہب میں گنجائش اور ضرورت ہے، نہ ہمارے معاشرہ میں ،
لیکن اسلام دشمن عناصر اسے مسلط کرنے کے لیے کوشاں ہیں
اگرچہ ہمارا وطن اسلامیہ جمہوریہ ہے، اور یہاں اسلامی قوانین کی ہی بالادستی ہونی چاہیے لیکن بدقسمتی سے، ٹرانسجینڈر بل کا معاملہ ہو یا حقوق نسواں کی آڑ میں فحاشی و عریانی پھیلانے کا مشن، ختم نبوت کی شقوں پر ڈاکے ڈال کر قادیانیوں کو پر موٹ کرنا ہو،یا سود کا جواز فراہم کرکے خدا ورسول سے اعلان جنگ کرنا ہو،
ایسے سیاہ کارناموں کے لیے، کچھ بکاؤ مل جائے گا، جو اپنے ضمیر کا سودا کرکے اپنے مذہب کے امتیازات، اپنے وطن کے شعار اور اپنے معاشرے کے سکون کو داؤ پر لگانے کے لئے لمحوں میں تیار ہوجائیں گا
میدان سیاست ہو یا مذھب، ملک و ملت کےدشمن سیکولر اور لبرلز، سر عام اپنی بولیاں لگوا رہے ہوتے ہیں ، اور غداری کے مشن پر رواں دواں ہوتے ہیں
اور ان کی وفاداری نہ تو اللہ اور اسکے رسول سے ہوتی ہے ،نہ مذہب سے، نہ وطن سے نہ. قوم سے
اقتدار، نوٹ اور ووٹ ہی ان کا مطمح نظر ہوتا ہے
لیکن قوم کو ایسوں کو پہچاننے اور انکا بائیکاٹ کرنے کی ضرورت ہے
نوٹ : ٹرانسجینڈر ایکٹ میں جو حال ہی میں ترامیم پیش کی گئ ہیں، مخالف ووٹوں کے ذریعے اکتوبر تک اسے مسترد کیا جاسکتا ہے
اب نہیں آواز اٹھائیں گے تو کب اٹھائیں گے جب پانی سر سے گذر چکا ہوگا؟

میمونہ اسلم، منڈی بہاوالدین

اپنا تبصرہ بھیجیں