50

ٰآئی ایم ایف رقم بڑھانے پر تیار، فنڈ کا وفد اگلے ماہ پاکستان آئیگا، 2 ارب ڈالر اضافی ملنے اور توسیع فنڈ سہولت پروگرام کو ایک سال بڑھانے کا امکان

اسلا م آباد(نیوز رپوٹر)آئی ایم ایف رقم بڑھانے پر تیار،فنڈ کاوفد اگلے ماہ پاکستان آئیگا،2ارب ڈالراضافی ملنے اور توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کو ایک سال بڑھانے کا امکان،پاکستان اور IMF رواں ہفتےسے تکنیکی سطح کی بات چیت شروع کرینگے، 5اہم نکات پر پاکستان اور فنڈ میں اتفاق رائے ہوگیا، اگلی قسط بجٹ منظوری کے بعد جاری ہوگی ۔دی نیوز کو معلوم ہوا ہےکہ پاکستان نے آئی ایم ایف سے جاری توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام میں ایک سال کی توسیع کے ساتھ ساتھ رقم کے حجم میں اضافے کیلئے باضابطہ درخواست کی جس پر فنڈ نے اصولی طور پر رضامندی ظاہر کر دی ہے تاہم آئی ایم ایف اسٹاف مشن پاکستانی حکام کیساتھ مشاورت سے موجودہ توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کی توسیع اور اس کےحتمی طریقہ کار کو طے کریگا۔آئی ایم ایف پاکستان کواضافی 2ارب ڈالرز فراہم کر سکتا ہےلیکن اس کا تعین آئی ایم ایف کےپاس پاکستان کے لیے دستیاب کوٹے کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ آئی ایم ایف کی جانب سے ایک سال کیلئے فنانسنگ کی ضروریات کا تعین کیا جائے گا اور تین سے چار اضافی جائزوں کا ٹائم فریم تیار کرنا ہوگا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ شہباز شریف کی حکومت ایک سال تک کیلئے اقتدار میں رہے گی لہٰذا پروگرام میں توسیع کی درخواست اسلئے کی گئی ہے کہ ڈالرز کی ترسیل کا سلسلہ جاری رہے۔ ایک عہدیدار نے دی نیوز کو بتایا کہ آئی ایم ایف ساتویں جائزے پر دوبارہ کام کرے گا کیونکہ میکرو اکنامک محاذ پر تاخیر کی وجہ سے سب تبدیل ہو گیا ہے۔ غالب امکان ہے کہ زیر التوا ساتواں جائزہ ایسے ہی (اسٹینڈ الون) رہے گا۔ ای ایف ایف کے تحت اضافی رقم کے حجم کے سوال پر انہوں نے جواب دیا کہ اس کا فیصلہ مستقبل میں ہونے والے اجلاس میں ہوگا۔ وزیر خزانہ و ریونیو مفتاح اسماعیل کی زیر قیادت وفد واشنگٹن میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے عہدیداروں کے ساتھ ملاقات کر رہا ہے اور ساتھ ہی فنڈ کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر سے بھی مذاکرات میں مصروف ہے تاکہ 6 ارب ڈالرز کے زیر التوا پروگرام کو بحال کیا جا سکے۔ ایک عہدیدار نے دی نیوز کو بتایا کہ پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے وعدوں سے انحراف کی وجہ سے فروری 2022ء میں التوا کا شکار ہونے والے پروگرام کی بحالی کیلئے آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان پانچ نکات پر اتفاق ہوا ہے جن میں سے اول رواں ہفتے تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز ہے، عالمی ادارہ مئی کے وسط میں اس حوالے سے ایک وفد پاکستان بھیجے گا تاکہ ای ایف ایف پروگرام کیلئے اسٹاف سطح پر معاملات کو حتمی شکل دی جا سکے۔ دوم، عالمی ادارہ چاہتا ہے کہ ایندھن اور توانائی پر جتنا جلد ممکن ہو سکے سبسڈی ختم کی جائے۔ سوم، آئی ایم ایف مالی سال 2022ء کے اعداد و شمار دیکھنا چاہتا ہے تاکہ یہ معلوم کر سکے کہ دسمبر2021ء میں لیے گئے قرضوں کے عوض کیے گئے وعدوں سے کتنا انحراف ہوا ہے۔ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ وعدوں پر انحراف کی وجہ سے پیدا شدہ خلیج کو کم کیا جائے اور اصل اہداف پر برقرار رہا جائے۔ چہارم، آئی ایم ایف آئندہ مالی سال کے بجٹ کیلئے تیار کی جانے والی حکمت عملی کی اسکروٹنی چاہتا ہے۔ پنجم، آئی ایم ایف نے نہ صرف پروگرام کو توسیع دینے پر اتفاق کیا ہے بلکہ اضافی رقم بھی دی جائے گی لیکن اس کیلئےحتمی طریقہ کار طے کرنے ہونگے۔ماضی میں آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کرنے والےاعلیٰ حکام کے ساتھ رابطہ کرنے پر دی نیوز کو بتایا گیا ہے کہ عالمی ادارہ پاکستان کو ’’انتظار کرو اور دیکھو‘‘ کے عدسے سے دیکھ رہا ہے۔ اگرچہ عالمی ادارے نے وفد مئی میں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس سے ملک کے مالی منظر نامے کی غیر یقینی ختم نہیں ہوگی۔ پاکستان کیلئے بہتر یہ ہوگا کہ وہ ساتویں جائزے کے حوالے سے اسٹاف لیول مذاکرات میں اتفاق کرے اور فیول اور انرجی پر سبسڈیاں ختم کرے تاکہ 960 ملین ڈالرز کی قسط جاری ہو سکے۔ بجٹ خسارے اور جاری کھاتوں کے خسارے سے نمٹنے کیلئے بھی مالی اور مالیاتی محاذ پر نئے اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ ادائیگیوں کے توازن کو بگڑنے سے روکا جا سکے۔ پارلیمنٹ سے بجٹ کی منظوری کے بعد اگلی قسط جاری کی جائے گی اور آئی ایم ایف پروگرام کوواپسی ٹریک پر لایا جاسکےگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں