31

وہ صرف جرنیل نہیں تھا

وہ صرف جرنیل نہیں تھا
مظہر برلاس
وہ صرف جرنیل ہوتا تو اسے دولت سے رغبت ہوتی، اسے محلات سے غرض ہوتی، وہ اپنے ملک سے دولت لے جاتا اور کہیں نہ کہیں کوئی جزیرہ خرید لیتا، بڑے بڑے فارم ہائوسز بناتا، اس کا رہن سہن شاہانہ ہوتا، اس کے ٹھاٹ باٹھ ہوتے، وہ بھی اپنی اولاد کیلئے ہیرے جواہرات اکٹھے کرتا، ان کیلئے دولت کے ڈھیر لگاتا، طاقت کے نشے میں ہر جائز و ناجائزکام کرتاچلا جاتا، وہ دنیا داری کیلئے نہ دولت بنا سکا، نہ اولاد کیلئےزر و سیم کے ڈھیر لگا سکا اور نہ ہی وسیع و عریض جائیدادیں اکٹھی کر سکا کیونکہ وہ صرف جرنیل نہیں تھا بلکہ وہ تو ایک حکمت ساز تھا، ایک انقلابی لیڈر، ایک بہادر مسلمان اور مظلوم کا ساتھی تھا، وہ مشرق وسطیٰ میں نوجوان مسلمانوں کا ہیرو تھا، ان کا آئیڈیل تھا، جو اس کے ہم عمر تھے اس پہ ناز کرتے تھے، جو بزرگ تھے وہ اسے دعائیں دیتے تھے، خطۂ عرب کی عورتیں اسے اپنے لئے سایہ تصور کرتی تھیں، اس نے زندگی میں سمجھوتے نہیں کئےوہ جب تک حکمت عملی ترتیب دیتا رہا، امریکی پریشان رہے، اسرائیلی خوف زدہ رہے کیونکہ اسرائیلی قدموں کے پھیلائو کو اس کی حکمت عملی نے روک رکھا تھا، اس نے آزادی پسند عرب نوجوانوں کی تنظیموں میں جان ڈال دی تھی، وہ صرف اپنے ملک کیلئےقابل فخر نہیں تھا بلکہ پورا خطہ اس پر نازاں تھا کیونکہ وہ عام مظلوم عربوں کے پاس جاتا، انہیں حوصلہ دیتا، انہیں حکمت عملی بنا کر دیتا، اس کی انہی تراکیب نے شام اور عراق میں داعش کا کام چلنے نہ دیا بلکہ اس کے بڑھتے ہوئے قدموں کو ایسے روکا کہ وہاں کے لوگ، وہاں کی دھرتی اسے دعائیں دینے لگی۔
وہ مشکل ترین حالات میں بھی لبنان، شام، عراق، یمن اور فلسطین کے ان نوجوانوں کے ہجوم میں چلا جاتا جو اپنی اپنی دھرتی کیلئے لڑ رہے ہیں جن کی زمینوں پر خون کا کھیل کھیلا جاتا ہے۔ جن کی آزادیاں سلب کی جاتی ہیں، جن کے مادرِوطن کو دشمن ہر حالت میں لوٹنا چاہتا ہے، استعماری طاقتوں نے خطۂ عرب سے بہت سے مفادات سمیٹے، دشمن یہ سب کام طاقت کے زور پر کرتا رہا مگر ایک جرنیل دشمنوں کے قدم جمنے نہیں دے رہا تھا، وہ ایسی ایسی حکمت عملیاں ترتیب دیتا کہ دشمن نہ صرف پریشان ہوتا بلکہ خوف میں مبتلا بھی ہو جاتا، وہ اس جرنیل سے بہت پریشان تھے، ان کے راستے میں یہی جرنیل رکاوٹیں کھڑی کرتا تھا، یہی جرنیل ان کے منصوبے ناکام بناتا تھا، یہ جرنیل مسلمانوں کو فرقوں سے نکل کر سوچنے کی دعوت دیتا تھا، آپس کے اختلافات کو بھلا کر دشمن سے لڑنے کی حکمت سازی کرتا تھا، ایسا حکمت کار تھا کہ دشمن کے خوابوں کو چکنا چور کردیتا تھا، پھر وہی ہوا جومسلمانوں کے بہادر سپوتوں کے ساتھ ہوتا ہے،مسلمانوں کے بہادر سپوت ہمیشہ اپنے ہی کسی وطن میں شہید کر دیئے جاتے ہیں۔
اگرچہ اس کی حکمت عملی سات سمندر پار ہی کیوں نہ ترتیب پائی ہو، سازش کرنے والے میلوں دور ہوتے ہیں مگر سازش کوعملی جامہ ہمیشہ اس مٹی پر پہنایا گیا جو دھرتی مسلمانوں کی ہو، ایسا ہی اس کے ساتھ ہوا، اسے عراق میں ایئر پورٹ کے باہر موت کی وادی میں دھکیل دیا گیا، دشمن کے پاس آخری ہتھیار یہی تھا، وہ یہی کرسکتا تھا مگر وہ عام مسلمانوں کے دلوں سے اسے نہیں نکال سکتا کیونکہ وہ زندگی بھر عام مسلمانوں کی خاطر، اپنے دین کی محبت میں لڑا، شہید ہوا تو امرہوگیا، وہ آج بھی ایران سےیمن تک فارسی، عربی بولنے والوں کا ہیرو ہے، وہ اردو اور ازبک بولنے والوں کا بھی ہیرو ہے، وہ ایسے عام لوگوں کا ہیرو ہے جو غلامی کی زنجیریں توڑنا چاہتے ہیں، وہ ایسے تمام انسانوں کا ہیرو ہے جو اپنی دھرتی پر دشمن کا وجود برداشت نہیں کرتے، وہ آزادی کیلئے لڑنے والوں کا ہیرو ہے۔ سادہ سی زندگی گزارنے والے اس ہیرو کا نام جنرل قاسم سلیمانی ہے۔ ایرانی رہبر سید علی خامنہ ای نے اسے ’’شہیدِ زندہ‘‘ کا خطاب دیا، ایرانیوں نے قاسم سلیمانی کی یاد میں کئی ڈاکو منٹریاں بنائیں، اردو اور انگریزی لکھنے والوں نے اس کی بہادری کے قصے لکھے، فارسی اور عربی والوں نے اس کی بہادری کی داستانوں پر شاعری کی، اسے خراج تحسین پیش کیا مگر یہ سب بھولے مسلمان انصاف کی توقع اقوام متحدہ سے لگا بیٹھے، انہیں کون سمجھائے کہ دنیا میں بنائی گئی عالمی تنظیمیں مسلمانوں کیلئے نہیں ہیں، یہ تنظیمیں صرف امریکیوں کے کہنے پر جاگتی ہیں، انہی کے کہنے پر عالمی انصاف کے دروازے کھلتے ہیں، جسے وہ جرم نہ کہیں، کوئی جنیوا کنونشن اسے جرم ثابت نہیں کرسکتا۔
وہ چاہیں تو کبھی عراق کو لوٹ لیں اور کبھی لیبیا کو، اس عمل پر عالمی عدالتیں چپ رہیں گی، انہیں فلسطین، شام، کشمیر اور افغانستان میں کہیں ظلم نظر نہیں آتا، عالمی عدالتوں کو کبھی عراق پر بمباری کرتے جہاز نظر نہیں آئے، افغانستان پر بمباری کرتے طیارے نظر نہیں آئے اور نہ ہی اسرائیلی فوجوں کی طرف سے کی جانے والی قتل و غارت نظر آتی ہے۔ میری ایرانیوں سمیت تمام مسلمانوں سے گزارش ہے کہ عالمی عدالتوں کی طرف مت دیکھیں، قاسم سلیمانی کی طرح لڑنا سیکھیں، اقبالؒ کے فلسفے پر چلنا سیکھیں، اقبالؒ تو کئی سال پہلے تہران کو مشرق کا جنیوا بنا گیا تھا، اس خواب کوشرمندۂ تعبیر کریں، عالمی استعماری طاقتوں سے آپ کو کچھ نہیں ملے گا، بقول اقبالؒ؎
عشق قاتل سے بھی، مقتول سے ہمدردی بھی
یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟
سجدہ خالق کو بھی، ابلیس سے یارانہ بھی
حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں