68

وہ ایک یورپی لڑکی تھی، اس لیے اسکو بات سمجھانا مشکل ہو رہا تھا۔ ۔ ۔

7 / 100

وہ ایک یورپی لڑکی تھی، اس لیے اسکو بات سمجھانا مشکل ہو رہا تھا۔ ۔ ۔
وہ پوچھ رہی تھی، تم پاکستانی مرد ایک ہی بیوی کے ساتھ عمر کیوں گزار دیتے ہو؟
اچھا ۔ ۔ ۔ بیوی اچھی ہے تو ٹھیک ہے، مگر اگر ٹھیک نہیں ہے تب بھی؟ ۔ ۔ ۔ میں نہیں مان سکتی کہ سب بیویاں ہی اچھی ہوتی ہونگی۔ ۔ وہ شائد مجھے اکسا رہی تھی کہ میں بات کہہ دوں۔
اور میں نے کہہ دی بات ، بی بی مسئلہ یہ ہے کہ ہم پاکستانی مرد مجبور ہوتے ہیں، اس لیے زندگی بھر نبھا جاتے ہیں۔ ۔
مجبور؟ وہ۔حیرت سے چلائی،
ہاں ہاں مجبور۔ اپنے سماجی دباؤ سے مجبور۔ ہمارے یہاں بریک اپ۔کا رواج نہیں ہے۔ ہمارے گھر والے ہماری بیویوں کی لاکھ برائی کریں، مگر بات جب علیحدگی کی آتی ہے تو انکا آخری جملہ یہی ہوتا ہے، پت، اک واری فیر سوچ لے۔
محلے کی ۔سجد کا مولوی طلاق پر کانوں کو ہاتھ لگاتا ہے۔ وکیل کہتا ہے ایک بار صلح کی کوشش کریں پھر دیکھتے ہیں۔ برادری، دوست اور کولیگز بھی کہتے ہیں، شادی کی ہے تو نبھانا پڑیگی۔
عجیب بات ہے، وہ بڑبڑائی۔ ۔ ۔ تمہیں اندازہ نہیں کہ یورپین مرد کس قدر ناقابل بھروسہ ہوتے ہیں، ہمیں تو اپنی فگر کا اس قدر خیال رکھنا پڑتا ہے۔ ۔ ۔ اور ایک اچھے مرد کو قابو میں رکھنے کے لیے ہمیں مسلسل محنت کرنا پڑتی ہے۔ ۔ ۔ ہم صبح جاب پر ملازمہ ہوتی ہیں، سہ پہر میں جم جاتی ہیں، شام میں گرل فرینڈ بن جاتی ہیں، رات میں بیوی ۔ ۔ ۔ تاکہ ہمارا بندہ کسی اور طرف نہ جا ئے۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ تمہاری پاکستانی بیویاں میں دیکھتی ہوں کہ شادی کے بعد موٹی ہو۔جاتی ہیں، فگر کا خیال نہیں رکھتیں، ۔ ۔ ۔ باہر جاب بھی نہیں کرتیں، ۔ ۔۔ تم۔پھر بھی انکو نہیں چھوڑتے۔ ۔ ۔
ہممم، میں مسکرایا، ۔ ۔ ۔ نہیں ہم تو نہیں چھوڑتے ۔ ۔ ۔ مگر اب تم لوگوں کے پیچھے چلتے ہوئے وہ ہم لوگوں کو چھوڑنا چاہتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ ہمیں آزادی چاہیے ۔ ۔ ۔ تاکہ ہم اپنی مرضی کی زندگی گزاریں۔ ۔ کوئی روک ٹوک نہ ہو ۔ ۔
اسکی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں، آزادی؟
وہ۔جانتی ہیں اس آزادی کی قیمت؟ وہ چلائی۔ ۔ ۔ اس آزادی کی قیمت ہے ہر روز کا عذاب۔ ۔ ۔ آپ کے ساتھ چلتا ساتھی آپکا نہیں رہتا ۔ ۔ ۔ بازار میں جیسے ہی آپ سے اچھا ماڈل۔اسکو دکھائی دیا وہ رخ بدل لیتا ہے۔ ۔ ۔ آزادی صرف ایک لڑکی کو تو نہیں ملتی نا؟ ۔ ۔ آزادی تو پھر سب کو ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ آپکا گھر توڑ دینے کی آزادی بھی ۔ ۔ ہم یورپی عورتوں نے تو وقت یا شائد زندگی بھر کی تربیت سے اس سخت مقابلے میں رہنا سیکھ لیا ہے، ۔ ۔ ۔ تمہاری عورتیں یہ نہیں کر پائیں گی۔ ۔ ۔ ہر روز گرل فرینڈ بننا آسان نہیں ہوتا، ۔ ۔ ۔ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ پاکستانی عورتوں کی طرح ہم بس صرف ایک بار شادی کریں اور بے فکر ہو۔جائیں کہ ہمارا بندہ کہیں بھی جائے، واپس ہمارے پاس ہی آئیگا۔ ۔ ۔ مگر یہاں اب ایسا نہیں ہوتا۔ ۔ ۔
تم۔تم ۔ ۔ ۔ پلیز اپنی عورتوں کو سمجھانا ۔ ۔ ۔ یہ عورت کی آزادی نہیں ہے، ایک ٹریپ ہے ۔ ۔ اس نے شدید ہمدردی کے انداز میں کہا۔
میں نے ہاں میں سر ہلایا ، ۔ ۔ اور سوچنے لگا ۔ ۔ ۔ پاکستانی مردوں کو کب تک یورپی مرد بننے سے روکا جا سکے گا؟ خصوصاً جب پاکستانی عورت رشک سے گرل فرینڈ بنتی یورپی عورت کو دیکھ رہی ہو۔
محمودفیاض

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں