53

وفاقی کابینہ: مردم شماری پر تجاویز جزوی منظور، چیئرمین نیب سے متعلق آرڈیننس آج

وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیاہے کہ عید میلاد النبیﷺ کو انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جائے گا جبکہ عید میلاد النبیﷺپر قیدیوں کی سزاؤں میں کمی کی منظوری دی گئی ،وفاقی کابینہ نے ساتویں مردم شماری کرانے سے متعلق تجاویز جزوی طور پر منظور کرلیں،آئندہ انتخابات نئی مردم شماری کے تحت کرانے کا فیصلہ کر لیا،گھریلو صارفین کیلئے موسم سرمامیں گیس نرخوں پر نظر ثانی کیلئے کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دی گئی۔وزیراطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب سے متعلق آرڈیننس کے بارے میں کابینہ میں بات نہیں ہوئی،البتہ چیئرمین نیب سے متعلق آرڈیننس آج آئے گا،نئی مردم شماری میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیر اعظم عمران خان کے زیرصدارت ہوا ۔پنڈورا پیپرز کے انکشافات کے حوالے سے کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ پنڈورا انکشافات کے حوالے سے ابتدائی طور پروزیر اعظم انسپکشن سیل ان تمام پاکستانیوں کے ریکارڈ کا جائزہ لے گا جن کے نام پنڈورا پیپرز میں ہیں اور طے کرے گی کہ کن افراد کے خلاف کس قسم کی قانونی کارروائی شروع کی جائے ۔وزیراعظم نے کہا کہ جن کے نام پیپرز میں آئے ، وہ کلیئر ہوگئے تو کارروائی نہیں ہوگی۔کابینہ نے ہدایت کی کہ عید میلاد النبی ﷺ کو شایان شان طریقے سے منایا جائے ،اس موقع پر فیصلہ کیاگیا کہ 3 تا 13 ربیع الاول کا عشرہ رحمت للعالمین ﷺ کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔ گھریلو صارفین کے لئے موسم سرما میں ریلیف فراہم کرنے اور گیس کی کمی کے پیش نظر کابینہ نے گیس کی بجائے بجلی استعمال کرنے کے حوالے سے کابینہ کی کمیٹی برائے توانائی کی سفارشات منظور کیں، اس کے علاوہ گھریلو بجلی صارفین کے لئے یہ سہولت بھی موجود ہوگی کہ اگر انہوں نے پچھلے سال کی نسبت یونٹس اس موسم سرما میں زیادہ استعمال کیے تو ان کو اضافی یونٹس رعایتی قیمت پر چارج ہوں گے ۔کابینہ نے 3 رکنی کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کی جو کہ پچھلے ادوار میں ہونے والے بجلی اور کنسٹرکشن بالخصوص سڑکوں کے منصوبوں کے ٹھیکوں کا جائزہ لے گی اور کابینہ کو رپورٹ پیش کرے گی،اس کمیٹی میں وفاقی وزراء فواد چودھری، حماد اظہر شامل ہوں گے ۔اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہامو سمِ سرما میں اضافی بجلی کے استعمال پر7 روپے فی یونٹ تک رعایت دی جائے گی۔انہوں نے کہا چیئرمین نیب سے متعلق آرڈیننس کے بارے کابینہ میں بات نہیں ہوئی،البتہ چیئرمین نیب سے متعلق آرڈیننس آج آئے گا۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا شہباز شریف خود نیب کے ملزم ہیں،شہباز شریف سے پوچھ کر چیئرمین لگانا ایسا ہے کہ چور سے پوچھا جائے کہ اس کا تفتیشی کون ہو گا۔ اسلام آباد (خبرنگار؍ این این آئی؍92 نیوز رپورٹ)حکومت نے موجودہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو توسیع دینے کا فیصلہ کرلیا۔ذرائع کے مطابق ترامیم مشیرپارلیمانی امور بابر اعوان، وزیرقانون فروغ نسیم اور شہزاد اکبر نے تیار کی ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے حکومتی کمیٹی کی جانب سے نیب آرڈیننس کے ترمیمی مسودے کی منظوری دے دی۔92 نیوز کے مطابق چیئرمین نیب کی تقرری کیلئے اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کافیصلہ کیا گیا ہے ۔مجوزہ آرڈیننس کے بنیادی خدوخال کے مطابق نئی تقرری تک موجودہ چیئرمین نیب ذمہ داریاں نبھائیں گے ،نیب آرڈیننس مسودہ کی کابینہ سے سرکولیشن کے ذریعے منظوری لی جائے گی۔وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان مشاورت کی موجودہ شق برقرار رہے گی،وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر میں اتفاق نہ ہوا تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جائے گا،چیئرمین نیب کو ہٹانے کیلئے سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرنا ہوگا،نئے چیئرمین نیب کیلئے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے نام پر بھی غور ہوسکے گا۔وزیرقانون فروغ نسیم نے بتایا کہ ٹیکس کیسزکو نیب ڈیل نہیں کرے گا، جب تک نئے چیئرمین نیب کا انتخاب نہیں ہوگا، اس وقت تک پرانے چیئرمین کو کام کرنا ہوگا، چیئرمین نیب کی تعیناتی کیلئے اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کی جائے گی اور اگر مشاورت نہ ہوسکی تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جائے گا اور اگر وہاں بھی اتفاق نہ ہوا تو موجودہ چیئرمین کام جاری رکھیں گے ۔انہوں نے بتایا چیئرمین نیب اور ترمیمی آرڈیننس کے حوالے سے شہباز شریف سے قانون کے مطابق مشاورت کا فیصلہ کیا ہے ۔فروغ نسیم نے بتایا کہ نئے ڈرافٹ کے مطابق ضمانت کا اختیار ٹرائل کورٹ کو دیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں