34

وفاقی کابینہ شہزاد اکبر سمیت 10 نام ECL میں شامل22 نکالنے کی منظوری

وفاقی کابینہ شہزاد اکبر سمیت 10 نام ECL میں شامل22 نکالنے کی منظوری
اسلام آباد(ایجنسیاں)وفاقی کابینہ نے 35 ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کی سمری کو متفقہ طور پر مسترد کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں وفاقی کابینہ کی منظور ی کے بغیر کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا جائے گا‘ وفاقی کابینہ نے سابق وزیراعظم عمران خان کے سابق مشیرشہزاداکبر سمیت 10افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لِسٹ (ای سی ایل)پر ڈالنے، 22 لوگوں کے نام ای سی ایل سے نکالنے جبکہ3 لوگوں کوایک مرتبہ بیرون ملک جانے کی اجازت (او ٹی پی ) کی منظوری دی۔ کابینہ نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچاؤ کیلئے وفاقی وزیر شیری رحمن کی سربراہی میں کابینہ کمیٹی بنانے اوردیت کی کم ازکم حد 43لاکھ روپے مقررکرنے کی منظوری دیدی ۔کابینہ نے شہباز گل کے ریمارکس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عمران خان کی زبان قرار دے دیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں تحریک انصاف پر پابندی کا ڈکلیئریشن پیش نہیں ہوسکاجبکہ نیشنل یونیورسٹی آف پاکستان کے قیام کا معاملہ بھی مؤخر کردیا گیا ۔ منگل کو جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوا۔نیب کی درخواست پر سابق مشیر شہزاد اکبرکا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) پر ڈال دیا گیا۔ذرائع وزارت داخلہ کے مطابق بیرسٹر ضیاء المصطفیٰ نسیم کا نام بھی ای سی ایل پر ڈال دیا گیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ای سی ایل پرزیادہ تر نام سکیورٹی اداروں کی سفارش پر ڈالے گئے۔دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ سینیٹرگلزار کے بیٹے عمارخان کو ایک مرتبہ بیرون ملک جانےکی اجازت مل گئی، ان کے خلاف بھی نیب میں بدعنوانی کا کیس ہے۔ کابینہ کووفاقی وزیر شیری رحمان نے موسمیاتی تبدیلیوں اور آبی صورت حال پر بریفنگ دی، انہوں نے کہا کہ ہمارے سسٹم میں پانی کم ہو گیا ہے، پاکستان 2025 تک خشک سالی کا شکار ہو جائے گا۔ موسمیاتی تبدیلیاں پاکستان کے وسائل کو بری طرح متاثر کررہی ہیں اور آبادی میں مسلسل اضافہ بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہے۔ کابینہ میں جنگی بنیادوں پر رین ہارویسٹنگ کی منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس حوالے سے اسلام آباد میں اس منصوبے کو پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر اجراء کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور آئی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، واٹر اور فوڈ سکیورٹی تینوں ایک دوسرے سے منسلک چیلنجز ہیں اورہمیں ان سے نبرد آزما ہونے کے لئے اور اپنی آنے والی نسلوں کو ان کے اثرات سے بچانے کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ وفاقی کابینہ نے مالی سال 2022-23 کے لئے دِیت کی کم از کم حد 30 ہزار 630گرام چاندی کے برابر جس کی مالیت تقریباً43 لاکھ روپے سے اوپر بنتی ہے، مقرر کرنے کی منظوری دی۔ وفاقی کابینہ نے ای سی سی کے 11 اگست 2022 کے اجلاس میں 142 ملین ڈالر (ایوی ایشن) کی فنانسنگ کی سہولت کیلئے نیشنل بینک آف پاکستان کے حق میں حکومت پاکستان کی گارنٹی کے اجرا کے فیصلہ کی توثیق کی۔ وفاقی کابینہ نے سی سی ایل سی کے 15 اگست 2022 کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی جن میں ڈیفنس سکیورٹی فورس (ڈی ایس ایف) کےگورنمنٹ میریڈ اکاموڈیشن کی اتھارائزیشن :آرمی ریگولیشنز (رولز )۔1998، راشنز اینڈ سپلائز (ریگولیشنز) 2015 کے قاعدہ 11 کے انیکس ون میں ترمیم ، نیشنل سکلز یونیورسٹی ایکٹ 2018 میں ترمیم، 2015 کے صدارتی آرڈر 1 میں ترمیم کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل آئی سی ٹی اسلام آباد کے دفتر میں لا آفیسرز کی تقرری، پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل (پی وی ایم سی) ایمپلائز سروس ریگولیشنز 2022 شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں