42

قومی اسمبلی نے مالی سال 2022-23 کیلئے وفاقی بجٹ کی کثرت رائے سے منظوری دیدی

قومی اسمبلی نے مالی سال 2022-23 کیلئے وفاقی بجٹ کی کثرت رائے سے منظوری دیدی
اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں) قومی اسمبلی نے مالی سال 2022-23 کیلئے وفاقی بجٹ ( فنانس بل) کی کثرت رائے سے منظوری دیدی ، شق وار منظوری کے دوران پیٹرولیم لیوی کی قیمت میں مرحلہ وار 50 روپے لیٹر اضافے،10فیصد سپر ٹیکس اور تنخواہ دارطبقے کیلئے ریلیف ختم کرکے نئی ٹیکس شرح کی ترامیم کی منظوری دی گئی ، موبائل فون کی درآمد پر 16ہزار تک لیوی عائد ہوگی،ایئر لائنز، آٹوموبیل، سیمنٹ، کیمیکل، سگریٹ، فرٹیلائزرز، اسٹیل، شوگرانڈسٹری، ٹیکسٹائل، بینکنگ اور دیگر سیکٹرز پر 10فیصد سپر ٹیکس عائد ہوگا، نان فائلرز کیلئے ٹیکس کی شرح 100 سے بڑھا کر 200فیصد کردی گئی، LPG کے فی میٹرک ٹن یونٹ پر 30 ہزار روپے لیوی عائد کرنیکی ترمیم بھی منظور کرلی گئی،وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات پر اس وقت لیوی صفر ہے،حکومت نے قومی اسمبلی کو اختیار دے رکھا ہے،50 فیصد پر لیوی یکمشت عائد نہیں کی جائیگی، ایم کیوایم نے قومی اسمبلی میں شدید احتجاج کیا ۔ صابر قائم خانی کا کہنا تھا کہ ہمارے علاقوں کے منصوبوں کو کوئی ترجیح نہیں دی گئی، حکومتی بینچوں سے دوسری جانب جانے میں ہمیں وقت نہیں لگے گا، انکا کہنا تھا کہ بات نہیں ماننی تو ہم ایسی وزارتوں پر تھو بھی نہیں کرتے، جی ڈی اے رہنما رکن غوث بخش مہر نے سندھ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے پر ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے تحریک پیش کی کہ یکم جولائی 2022ء سے شروع ہونے والے سال کے لئے وفاقی حکومت کی مالی تجاویز کو روبہ عمل لانے اور بعض قوانین میں ترمیم کرنے کا بل مالی بل 2022ء فی الفور زیر غور لایا جائے جس کی اپوزیشن کی طرف سے مخالفت کی گئی۔ اپوزیشن اراکین مولانا عبدالاکبر چترالی، ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، وجیہہ قمر، ڈاکٹر رمیش کمار اور جویریہ ظفر آہیر نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ وہ اس بل کو مسترد کرتی ہیں، اس میں بڑے تعداد میں ترامیم کی گئی ہیں جبکہ وزیر مملکت عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ مالی بل میں کی جانے والی ترامیم آئی ایم ایف کے ساتھ حکومت پاکستان کے معاہدے کے مطابق ہیں۔ اگر یہ ترامیم نہ کرتے تو اس سے حکومت پاکستان کی ساکھ متاثر ہوتی۔ بجٹ میں کم آمدنی والے طبقے کو ٹیکسوں میں ریلیف دیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت فی الحال پٹرولیم لیوی عائد کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ۔ مالی بل میں ترمیم کے بعد حکومت ایک روپے سے لے کر پچاس روپے فی لیٹر تک پٹرولیم لیوی عائد کر سکتی ہے۔ بعد ازاں اسپیکر نے یہ ترامیم ایوان میں پیش کیں۔ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی ترامیم کثرت رائے سے مسترد جبکہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور حکومتی اراکین کی جانب سے پیش کی گئی بعض ترامیم منظور کرلی گئیں، ان میں پٹرولیم مصنوعات پر 50 روپے تک لیوی عائد کرنے، بڑی صنعتوں اور کاروباری اداروں پر سپر ٹیکس کے نفاذ کی ترمیم بھی شامل ہے، 13 صنعتوں کو سپر ٹیکس کے اطلاق سے 465 ارب روپے کا ریونیو حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ بعد ازاں مالی بل 2022ء منظوری کیلئے ایوان میں پیش کیا گیا جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں