irfan siddiqui articles in urdu 43

وزیر ہوں مگر دل سے خوش نہیں ہوں. عرفان صدیقی

میں آپ سب کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں ایک قابل وکیل ہوں اور قانون کی باریکیوں سےپوری طرح سے واقف ہوں، میں ایک بہترین مقرر بھی ہوں اورمجھ میں کسی بھی موضوع کی حمایت میں بہترین جبکہ مخالفت میں اس سے بھی بہترین دلائل دینے کی صلاحیت موجودہے، میں سیاست کی اونچ نیچ سے بھی واقف ہوں اور کئی سیاسی جماعتوں میں رہ کر ان کی اچھائیوں سے زیادہ ان کی برائیوں کو جان چکا ہوں اور سونے پہ سہاگہ میرا تعلق صحافت کے ایک قبیلہ اینکرنگ سے بھی رہ چکا ہے یہی وجہ ہے کہ لوگ مجھے سیاست کا منجھا ہوا کھلاڑی سمجھتے ہیں، اگر کرکٹ کی اصلاح استعمال کی جائےاور مجھے سیاست کا آل رائونڈر کہا جائے تو غلط نہ ہوگا، کئی سیاسی جماعتوں میں متحرک رہنے کے بعد میں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی جس نے اپنے بیانیے کی بدولت ہی عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی اور بیانیہ بھی ایسا انقلابی جسے غریب عوام کے لئے سبز باغ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔

اپنے کپتان کے ساتھ جہاں درجنوں پارٹی لیڈروں نے بیانیے کو پھیلایا وہیں میں نے بھی اس بیانیے کو عوام کے دل و دماغ تک پہنچانے میں بھرپور کردار ادا کیا، اس بیانیے کے ذریعے ہم نے پاکستان میں دو جماعتی نظام کا خاتمہ کیا، اور عوام کو بتایا گیا کہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں ن لیگ اور پیپلز پارٹی باری باری اقتدار میں آکر عوام کو لوٹتی ہیں، اوریہ بھی عوام کو بتایا گیا کہ ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے لیڈر بدعنوان ہیں، ان دونوں جماعتوں کے لیڈروں نے اپنی اپنی حکومتوں کے دوران ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے، ملک کا پیسہ حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے باہر بھجوایا گیا ہے، ملک میں لگنے والے ہر منصوبے میں اربوں روپے کا کک بیک لیا گیا ہے، اس بیانیے میں عوام کو بتایا گیا کہ ملک میں ہونے والی مہنگائی کے ذمہ دار اقتدار میں رہنے والی دونوں سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور ان کے خاندان ہیں، اسی بیانیے سے عوام کو یہ معلوم ہوا کہ ملک میں بجلی مہنگی ہونے کے ذمہ دار سابق حکمران ہیں، اس بیانیے نے عوام کو بتایا کہ جب ڈالر ایک روپیہ مہنگا ہو تو سمجھ لینا حکمران چور ہیں، اسی بیانیے میں عوام کو معلوم ہوا کہ کسی بھی حکمراں کے لئےکشکول لے کر بھیک مانگنے سے بہتر خود کشی کرلینا ہوتا ہے، غرض اس بیانیے سے ہی عوام کو معلوم ہوا کہ قطر سے کئے جانے والے ا یل این جی معاہدے میں تاریخ کی سب سے بڑی کرپشن ہوئی ہے اور پھر بالآخر عوام سمجھ ہی گئے کہ ان کے لیے چینی، آٹا، گھی، مٹی کا تیل، سبزیاں اورپیٹرول مہنگا کرنے والے حکمران قومی مجرم ہیں اور ان کا احتساب کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

غرض تحریک انصاف کی کوششوں اور بیانیے کی کامیابی سے عوام کو یہ معلوم ہوچکا ہے کہ ان کے غموں کا مداوا صرف حکومت کے خاتمے اور نئی حکومت کے قیام میں پنہاں ہے، جس کے بعد پہلے اس وقت کے منتخب وزیر اعظم میاں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کا خاتمہ ہوا ، پھر حکومت کا خاتمہ ہوا اور پھر ملک میں ایک نئی تازہ دم توانائی سے بھرپور تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی، عمران خان وزیر اعظم بنے، عوام کی امیدیں آسمان کو چھو رہی تھیں نعرہ تبدیلی کا تھا لہٰذا بے گناہ عوام سب جانتے بوجھتے ہوئے بھی تبدیلی کی آس لگائے ہوئے تھے، انتظار میں تھے کہ اب تبدیلی حکومت کے ساتھ ہی مہنگائی میں کمی آئے گی، دودھ، چینی، آٹا، مٹی کا تیل اور پیٹرول سستا ہوجائے گا، ڈالر کے مقابلے میں روپیہ نئی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی طاقتور ہوجائے گا، بقول مراد سعید عمران خان کے وزیر اعظم منتخب ہوتے ساتھ ہی بیرون ملک سے دو سوارب ڈالر پاکستان واپس آجائیں، نئی حکومت آچکی تھی اور مجھے اب اہم وزارت مل چکی تھی اور بطور وزیر اپنی حکومت کی کامیابیوں کا بیانیہ عوام تک پہنچانا اور ناکامی کا دفاع کرنا تھا، لیکن میرا کام بہت مشکل تھا کیونکہ حالات اب پہلے سے بھی بدتر ہوچکے ہیں، عوام کےلئے بنیادی ضروریات زندگی کی اشیاہ آٹا، چینی، مٹی کا تیل، گھی، پیٹرول اور بجلی سمیت دیگر اشیا کی قیمتیں سابقہ حکومت کے مقابلے میں تقریباََدگنی ہوچکی ہیں، ڈالر روپے کے مقابلے میں ایک سو اکہتر روپے کا ہوچکا ہے، عالمی برادری میں ہم تنہائی کا شکار ہیں، نو منتخب امریکی صدر نے فون کرنا مناسب نہیں سمجھا، سابقہ حکومت پر جس ایل این جی معاہدے پر کرپشن کا الزام عائد کیا تھا اسی ایل این جی کی وجہ سے ملک ایک بڑے توانائی بحران سے بچا ہوا ہے، جس احتساب کا نعرہ لگایا تھا اس احتساب کے قانون سے حکومت نے خود تمام زہر نکال دیا ہے، اداروں سے ہماری لڑائیاں شروع ہوچکی ہیں، بتانے کو اور بھی بہت کچھ ہے لیکن میں اپنی وزارتی ذمہ داری پوری تندہی سے ادا کررہا ہوں، حکومت کے دفاع میں زمیں سے آسماں ایک کررہا ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں وزیر ہوں مگردل سے خوش نہیں ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں