noor ul haq qadri 256

وزیر مذہبی امور کی بہترین حکمت عملی۔ تحریر مفتی گلزاراحمد نعیمی

وزیر مذہبی امور کی بہترین حکمت عملی۔
آج یکم رمضان المبارک ہے ،کل گزشتہ ہم نے اسلام آباد میں صدر پاکستان جناب ڈاکٹر عارف الرحمن علوی اور علمائے کرام کےمشترکہ طے شدہ ایس او پیز کے مطابق نماز جمعہ ادا کی، احتیاطی تدابیر کو اپناتے ہوئے ہم نے تین فٹ کے فاصلہ کےاصول پر مکمل طور پر عمل کیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جمعہ میں نمازیوں کی تعداد وہ نہیں تھی جو کرونا کی وباء پھوٹنے سے پہلے ہوا کرتی تھی۔کرونا کی وباء سے پہلے ہماری مسجد میں کم و بیش ایک ہزار کے لگ بھگ افراد نماز جمعہ ادا کرتے تھےمگر کل یہ تعداد بمشکل 150 کے قریب تھی۔ہم نے سوشل ڈسٹینس کے اصول پر نہایت سختی سے عمل کیا،مسجد کے برآمدہ سے قالین اٹھوا کر فرش پر نماز پڑھی۔پانی اور واش رومز مکمل طور پر بند کردیے تاکہ لوگ اپنے اپنے گھروں سے طھارت حاصل کرکے آئیں۔شام کو نماز تراویح میں بھی ہم نے انہیں اصولوں کو سختی سے اپنایا،ہمارے ہاں نماز تراویح کی ادائیگی کے لیے دوردراز سے لوگ تشریف لاتے تھے،تراویح میں ہرسال ہمارے شرکاء کی شروع کے دنوں میں آٹھ سے دس صفوف ہوتی تھیں۔لیکن شب گزشتہ میں یہ تعداد صرف پندرہ سے بیس افراد پر مشتمل تھی۔ہمیں تعدادکے کم ہونے کی کوئی فکر نہیں ہے ہم چاہتے ہیں کہ ہماری مسجد کھلی رہے اور اس میں پنج وقتہ نماٰزیں اور جمعہ و تراویح بلا تعطل جاری رہیں۔رات کو دوران تراویح جناب صدر پاکستان نے اسلام آباد کی مختلف مساجد کا دورہ کیا اور احتیاطی تدابیر پر عمل کا جائزہ لیا۔صدر محترم ہماری مسجد اور ادارہ میں بھی تشریف لائے۔للہ الحمد کہ اسلام آباد کی چند مساجد کا وزٹ کرنے کے بعد صدر محترم نےاحتیاطی تدابیر پر عمل کے حوالہ سے اطمینان کااظہار فرمایا۔مساجد کے وزٹ کے دوران وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی جناب پیرزادہ ڈاکٹر نور الحق قادری بھی صدر محترم کے ساتھ موجود تھے۔آج اسلام آباد پنجاب اور خیبر پختون خواہ کی مساجد کو ایس اوپیز کی شرط پر عمل کرتے ہوئے کھولنے کی اجازت ملی ہے اسکا مکمل سہرا پیرزادہ صاحب کے سر ہے۔آپکی انتھک کوششوں کے بعد علماء اور حکومت کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہوئی جس کے نتیجے میں بیس نکات پر اتفاق ہوا۔صاحبزادہ نورالحق قادری نے ایک سیاسی مدبر اور معتدل مذہبی رہنماء کی حیثیت سے مرکزی کردار ادا کیا۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سندھ کے علماء نے بہت سخت مزاجی کامظاہرہ کیا اور ذرا بھی لچک نہیں دکھائی۔صدر مملکت کے ساتھ پہلی میٹنگ صرف اس وجہ سے نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکی کہ اس میں کراچی کے علماء نے بہت غیر لچکدار رویہ اپنایا تھا۔صدر محترم کے ساتھ دوسری میٹنگ میں حکومت کی شاندار حکمت عملی اور صاحبزادہ صاحب کی فہم فراست کی وجہ علماء اور حکومت کے درمیان چند نقاط پر اتفاق ہوگیا۔اللہ کا فضل ہوا کہ آج مسجدیں نمازوں اور تراویح کے لیے کھلی ہیں۔
سندھ کے علماء نے وفاقی حکومت کے بجائے حکومت سندھ کے ساتھ مکمل تعاون کیا۔وزیر اعلی ہاؤس میں بیٹھ کر پریس کانفرنس کی،پھر 14 اپریل کو وفاقی حکومت کے مقابلہ میں غالبا پریس کلب میں پریس کانفرنس کے ذریعہ مساجد کو کھولنے کا اعلان کردیا۔میری دانست میں یہ ایک غلط فیصلہ تھا جسکا نتیجہ اب ہمارے علماء خطباء اور نائبین مساجد بھگت رہے ہیں۔علماءکے خلاف ایف آئی آرز کاٹی گئیں ،مساجد کی بے حرمتی کی گئی اور علماء کو بھی بے آبرو کیا گیا۔سندھ حکومت کی طرف رجحان رکھنے والے علماء کی وزیراعلی ہاؤس جاکر مراد علی شاہ سے ملاقات اور تعاون کی یقین دہانی بھی کام نہ آئی۔علماء کے خلاف کاٹی گئی ایف آئی آرز بھی ختم نہ ہوئیں اور مسجدوں کا لاک ڈاؤن بھی ختم نہ ہوا۔
اب ہمارے معزز علماء کرام کو فرق واضح نظر آجانا چاہیے کہ جن کو ہم نے بہت ٹف ٹائم دیا، جن کے سامنے ہم نے غیر لچکدار رویہ اپنائے رکھا انہوں نے تو چند نقاط پر عمل کرنے کی شرط کے ساتھ مساجد کو کھول دیا اور جن کے ساتھ انہوں نے تعاون کیا اور انکے اشاروں پر وفاقی حکومت پر شدید تنقید کی اور صاحبزادہ نورالحق قادری کے ساتھ تعاون نہ کیا۔ان لوگوں نے علماء کو جمعہ پڑھنے دیا اور نہ ہی تراویح۔
میں علماء کی خدمت میں عرض کروں گا کہ صاحبزادہ نورالحق قادری موجودہ حکومت میں تمام مسالک کی بہت دیانتداری سےنمائندگی کررہے ہیں۔یہ صاحبزادہ کی حکمت عملی تھی جس نے وزیراعظم پاکستان کو مساجد مکمل طور پر بند نہ کرنے پر رضامند کیے رکھا۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جناب وزیر اعظم خود بھی نہیں چاہ رہے تھے مگر کابینہ میں اگر پیرزادہ صاحب کی شخصیت نہ ہوتی تو آج سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک کی طرح ہماری مساجد بھی مکمل طور پر مقفل ہوتیں۔ہم سب جانتے ہیں کہ کابینہ میں ایک طبقہ موجود ہے جو لبرلز کی نمائندگی کرتا ہے اور لبرلز مسجدوں کی تالا بندی چاہتے ہیں۔کابینہ میں صاحبزادہ صاحب لبرلز کے مقابلہ میں مضبوط چٹان کی طرح کھڑے رہتے ہیں۔لیکن بدقسمتی ہے کہ انہیں لبرلز کے ساتھ بھی نبردآزما ہونا ہے اوراپنوں کی ضد اور ہٹ دھرمی کا بھی سامنا ہے۔علماء کو یہ زیب نہیں دیتا تھا کہ وہ چند ناکام سیاست دانوں کو ساتھ بٹھا کر حکومت کے خلاف پریس کانفرنس کرتے۔سیاستدانوں نے انہیں استعمال کیا۔سندھ میں اپوزیشن کے حلیفوں کی حکومت ہے۔علماء مولانا فضل الرحمن اور نوارنی صاحب اور شہباز شریف کو کہیں کہ وہ مساجد کا لاک ڈاؤن ختم کروائیں۔ایک طرف تو سندھ حکومت بڑی بڑی ٹکسٹائل ملوں کو کھول رہی ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ کام کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف مساجد پر پابندیاں مزید سخت کردی ہیں۔میری معلومات کے مطابق سندھ حکومت کو کرونا کا مسئلہ کم ہے”چندے” کا مسئلہ زیادہ ہے۔
ہم پہلے دن سے جناب پیرزادہ ڈاکٹر نورالحق قادری کے ساتھ ہیں اور پورے پاکستان میں ہماری جماعت جماعت اہل حرم کے رہنماء اور ہماری فکر کے لوگو صاحبزادہ صاحب کو سپورٹ کررہے ہیں اور ان شاء اللہ ہم صاحبزادہ صاحب کے دست وبازوبنے رہیں گے۔
ان شاء اللہ
طالب دعاء گلزار احمد نعیمی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں