46

وزیر خزانہ نے قومی اسمبلی میں مالی سال 2021-22 کا بجٹ پیش کردیا

6 / 100

زیرخزانہ نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا، بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، ہمیں مشکل حالات میں حکومت ملی، ریزرو کی صورتحال کے پیش نظر ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔

انہوں نے کہا، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20ارب ڈالر تھا، وزیراعظم کی سربراہی میں معیشت کو بڑے بحرانوں سے نکال کر لائے ہیں۔ بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 6.6فیصد تھا جو گزشتہ پانچ سال میں سب سے زیادہ تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ، ماضی کا حقیقی منظر آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں، ہم نے معاشی استحکام کا مقصد حاصل کیا، وزیراعظم عمران خان کی حکومت مشکل فیصلے کرنے سے نہیں ہچکچاتی۔ ہمارا بڑا چیلنج ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا تھا۔

وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا، پرائمری ڈیفیسٹ کو ایک فیصد تک لایا گیا، اخراجات میں کمی اور آمدن میں خاطرخواہ اضافہ کی پالیسی اپنائی گئی۔ احساس پروگرام کے تحت فنڈز میں بھی مزید اضافہ کیا۔ پاکستان کو کورونا کی دو اضافی لہروں کا سامنا کرنا پڑا، ہم کورونا کے بھیانک نتائج سے محفوظ رہے۔

اُنہوں نے کہا، گزشتہ حکومت نے بیرونی قرضوں سے معیشت کو مصنوعی سہارا دیا، اللہ تعالیٰ کے فرض سے ملک بھیانک وبا کی تباہ کاریوں سے بچ گیا۔ معاشی ترقی کی شرح تقریباً ہر شعبے میں ریکارڈ کی گئی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ، معاشی ترقی کے ہر شعبے میں دیکھی جارہی ہے، زراعت کے شعبے میں ٹڈی دل کے باجود اضافہ دیکھا گیا۔ زراعت اور صنعتوں کے شعبوں میں ترقی کے بعد سروسز کے شعبوں نے ترقی دکھائی۔ زراعت اور صنعتوں کے شعبوں میں ترقی کے بعد سروسز کے شعبوں نے ترقی دکھائی۔

شوکت ترین نے کہا کہ، ہم نے پسے ہوئے طبقات کو امداد فراہم کی، کورونا کے دوران ہم نے بڑے پیمانے پر کاروبارکی بندش پر اعتراض کیا، احساس پروگرام کے تحت 12ملین گھرانوں کی مدد کی گئی، عمران خان کی حکومت مشکل فیصلے نہ لیتی تو ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا مشکل تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ، ترسیلات زر زیادہ آنے کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید میں اضافہ ہوا، ہماری پالیسیوں کے باعث کسانوں کو301ارب روپے کا منافع ہوا، کوویڈ کے باوجود فی کس آمدنی میں 15 فیصد اضافہ ہوا۔ احساس پروگرام کے تحت مسلسل دوسرے سال 40 فیصد آبادی کو نقد امداد دی گئی۔

اُن کا کہنا تھا کہ، ملک میں ٹیکس وصولی 4 ہزار ارب کی نفسیاتی حد عبور کرچکی ہے، برآمدات اب ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں، برآمدات میں اس بار 14 فیصد اضافہ ہوا، اس سال ایکسپورٹ میں 14 فیصد اضافہ ہوا، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پر ہم نے قابو پالیا ہے۔

وفاقی وزیرخزانہ نے کہا، سمندر پار پاکستانیوں نے پاکستان کے زر مبادلہ بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ روپے کی قدر میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ ہمیں مہنگائی کے دباؤ کا سامنا ہے۔ مہنگائی کی اہم وجہ اشیائے ضررویہ کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ پچھلے سال ہمیں گندم کی کم پیداوار کے باعث درآمد کرنا پڑی۔

انہوں نے کہا کہ، عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں 180فیصد اضافہ ہوا، ہم نے ملکی سطح پر گھی کی قیمت میں 45 فیصد اضافے کی اجازت دی۔ عالمی سطح پر چینی کی قیمت میں 56 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ملکی سطح پر 18 فیصد اضافہ کیا گیا۔ ہمیں چاہئے کہ فوڈ امپورٹ نہ کریں، سرکاری قرضے میں اب کمی آنا شروع ہوگئی ہے، ہمیں زراعت پر توجہ دے کر زرعی اجناس میں خودکفیل ہونا پڑے گا، سرکاری قرضے میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے۔

شوکت ترین بولے کہ، معیشت کی بحالی کا مرحلہ بہت حد تک مکمل ہوگیا ہے، اگلے سال کے لیے ہم نے معاشی ترقی کا ہدف 4.8رکھا ہے، بجٹ میں رکھے گئے اقدامات کی وجہ سے معاشی ترقی کا ہدف اس سے بڑھ بھی سکتا ہے، 74 سالوں سے معاشی طور پر کمزور طبقہ پستا رہا ہے۔ ہماری غریب قوم کے خواب ادھورے کے ادھورے رہ گئے۔

انہوں نے کہا کہ، وزیراعظم عمران خان تاریخ کا رخ موڑنا چاہتے ہیں، نچلے طبقے کو چار سے چھ ملین گھرانوں کو کاروبار کے لیے آسان قرضے دیں گے، غریب گھرانوں کو کاروبار کیلئے 5لاکھ تک فری انٹرسٹ لون دیں گے۔ غریب گھرانوں کو کاروبار کیلئے 5لاکھ تک فری انٹرسٹ لون دیں گے۔ ہر گھرانے کو ہیلتھ کارڈ دیا جائے گا۔ ہر گھرانے کو ہیلتھ کارڈ دیا جائے گا۔ ہم غریب گھرانوں کو ہر سہولت دیں گے۔ ہماری آبادی کا بیشتر حصہ 30سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ، صوبوں کے تعاون سے زراعی پیداوار میں اضافہ کریں گے، روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے،برآمدات میں اضافہ کیاجائے گا۔ پاکستان میں ایک کروڑ گھروں کی کمی ہے۔ پاکستان میں ایک کروڑ گھروں کی کمی ہے، ہم بجٹ میں تمام سیکٹرز کے لیے مراعات کا اعلان کررہے ہیں۔

وفاقی وزیرخزانہ نے کہا، وزیراعظم کے کنسٹرکشن کے لیے پیکیج سے تعمیراتی شعبے کو فروغ ملا ہے، کم آمدن والے خاندانوں کو گھرکی خریداری یا تعمیر کے لیے 3لاکھ روپے سبسڈی دے رہے ہیں۔ احساس پروگرام کے تحت ایک درجن کے قریب پروگراموں کا آغاز کیا گیا، گردشی قرضے کم اور اسے ختم کرنے کے لیے منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ گردشی قرضے کو کم کرنے اور پھر ختم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ سستی بجلی کی پیداوار کا حصول ممکن بنارہے ہیں۔

انہوں نے کہا، یکم جولائی سے وفاقی سرکاری ملازمین کو دس فیصد ایڈہاک ریلیف دیا جائے گا، یکم جولائی سے تمام پینشنرز کی پینشن میں دس فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ کم سے کم اجرت 20 ہزار روپے کی جا رہی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ، یہ بجٹ ترقیاتی بجٹ ہے، اگلے دوسال میں پاورسیکٹر کے لیے مزید ریفارمز لائیں گے، ہم بجٹ کو 630 ارب سے بڑھا کر 900 ارب روپے کررہے ہیں، ترقیاتی بجٹ میں 40 فیصد بڑھارہے ہیں۔ ہم زیادہ منافع بخش کاروبار کو فروغ دیں گے۔ ہم زیادہ منافع بخش پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کریں گے۔ ان منصوبوں کو بدعنوانی سے پاک ماحول میں پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔

شوکت ترین نے کہا، پاکستان تیزی سے پانی کی کمی کا شکار ہورہا ہے، وزیراعظم ملک میں چھوٹے بڑے ڈیمز کی تعمیر کے لیے کوشاں ہیں جس سے ملک میں پانی کی کمی دور ہوسکے گی۔ اس بجٹ میں دیامیر، بھاشا اور مہمند ڈیم ہماری ترجیح ہوگی۔ تین بڑے ڈیمز داسو،دیامیر اور مہمند ڈیم تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا، حکومت سی پیک منصوبوں پر تیز رفتاری سے عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے، ایم ایل ون نہایت اہمیت کا حامل منصوبہ ہے جس کی مالیت 9.3 ارب ڈالرہے۔ ایم ایل ون کو تین مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا۔ پہلے سے جاری پاورمنصوبوں کے لیے بھی فنڈز مہیا کرتے رہیں گے۔ کوئلے سے جام شورومیں ایک سو میگاواٹ بجلی کی پیداوار کیلئے بھی بجٹ مختص کیاگیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ، مختلف علاقوں میں ترقی کے فرق کو دور کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، ملک کے پسماندہ علاقوں کے لیے ترقیاتی پیکیج شروع کیے گئے ہیں، پسماندہ علاقوں کو اوپر لانے کیلئے 100 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کیلئے وفاقی حکومت 98 ارب روپے دے رہی ہے۔ حکومت خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کو خاص اہمیت دیتی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ، آبی وسائل کے لیے ساڑھے 19 ارب روپے رکھے گئے ہیں، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت 50 منصوبے تکمیل کی جانب گامزن ہیں، ان منصوبوں پر 200 ارب ڈالر لاگت آرہی ہے۔ داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کے پہلے مرحلے کیلئے 57 ارب روپے، دیامر بھاشا ڈیم کے لیے 23 ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا، سیالکوٹ تا کھاریاں اور سکھر سے حیدر آباد موٹروے جلد شروع کردیا گیا ہے، پاکستان میں کاربن کا اخراج کم ہے، اس کے باوجود پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے دس ممالک میں شامل ہے، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے بجٹ میں 14ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ، وزیراعظم عمران خان سماجی شعبے کی ترقی کو بہت ترجیح دیتے ہیں، سماجی شعبے کی ترقی کیلئے 118 ارب روپے کے فنڈز مختص کررہے ہیں۔ ایف بی آر محاصل میں 24فیصد اضافے سے ہدف 5ہزار829ارب رہنے کی توقع ہے۔ ٹیکس محاصل کا تخمینہ 4ہزار497ارب روپے ہے۔ سبسڈیز کا تخمینہ 682 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ رواں مالی سال میں بجٹ خسارہ 6.3فیصد رہنے کی توقع ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ، حکومت تین سالوں میں پرائمری ڈیفیسیٹ میں 3.3فیصد کمی لانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ اگلے مالی سال میں 1.8 بلین ڈالر کورونا ویکسین پر خرچ کیے جائیں گے، یونیورسل ہیلتھ اسکیموں میں صوبوں کے تعاون سے مزید وسعت لائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ، ہمارا ہدف جون 2022 تک 10 کروڑ افراد کو ویکسینیٹ کرنا ہے، کامیاب پاکستان پروگرام میں 10ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ ایس ایم ایز کو بلاضمانت قرضوں کے لیے اسکیمیں تجویز کی گئی ہیں، ان قرضوں کی اسکیموں کے لیے 12 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

شوکت ترین بولے کہ، بجٹ تقریر مقامی طور پر بنائی جانے والی 850سی سی تک کی گاڑیوں پر ایکسائز ڈیوٹی چھوٹ اور سیلز ٹیکس میں کمی کی جا رہی ہے چھوٹی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے کم کرکے 12.5 کی جارہی ہے۔ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے لیے ایک سال تک کسٹم ڈیوٹی کم کی جارہی ہے مقامی سطح پر تیار ہونے والے ہیوی موٹرسائیکل ، ٹرک اور ٹریکٹر کی مخصوص اقسام پر ٹیکسوں کی کمی کی جارہی ہے۔

وزیرخزانہ نے کہا، سندھ کو 12ارب روپے کی خصوصی گرانٹ فراہم کی جائے گی، بلوچستان کو این ایف سی کے علاوہ مزید 10 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔ نئی مردم شماری کے لیے 5 ارب روپے کی رقم تجویز کی گئی ہے۔ نیلم جہلم پروجیکٹ کیلئے 14ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

ہم ٹیکس گزاروں کا تحفظ کریں گے، ٹیکسٹائل ہماری معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہر شخص اپنی ٹیکس ریٹرن خود بنا کر بھیجے گا۔ ٹیکس گزاروں کو ہراساں کرنے والے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ہم ٹیکس نیٹ میں شامل نہ ہونے والوں کے خلاف متحرک رہیں گے۔ امیروں کو کہا جائے گا اپنے حصے کا واجب الادا ٹیکس ادا کریں، تنخواہ دار طبقے پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا۔ ہم انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کو بڑھائیں گے تاکہ ٹیکس کلیکشن میں انسانی عمل کم سے کم ہو۔ تاجروں کو ایف بی آر کے ٹیکس نظام سے منسلک ہونے میں مدد کریں گے، کسمٹرز کے لیے سیلزٹیکس پر ہر ماہ انعامات تقسیم کریں گے۔

تنخوادار طبقہ کیلئے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگائیں گے۔ پبلک سیکٹر پروگرام ترقی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا، ترقیاتی بجٹ کو 630 ارب سے بڑھا کر 900 ارب روپے کررہے ہیں، ترقیاتی بجٹ میں تقریباً 40 فیصد سے زیادہ کا اضافہ کیا گیا، اگلے سال خوراک و ادویات کی دستیابی یقینی بنائیں گے۔ اگلے سال زرعی شعبے کیلئے 12 ارب روپے مختص کیے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں