معاشی ریلیف پیکیج 28

وزیر اعظم کے قابل تحسین اقدامات مگر ….مشتاق احمد قریشی

وز یر اعظم عمران خان نے وفاقی اور صوبائی حکومت کی باہمی شراکت داری سے اٹک میں دو سوبستروں پر مشتمل مدر اینڈ چائلڈ ہاسپٹل کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت پر تنقید کرنے والوں کو پانچ سال بعد جواب دیں گے۔ سابقہ حکومتیں حکمرانی کے دوران آئندہ الیکشن کا سوچتی تھیں جبکہ ہم غریب عوام کا سوچ رہے ہیں۔ تین سو تیس ارب روپے کی لاگت سے پنجاب کے ہر خاندان کو دس لاکھ روپے تک کی مفت ہیلتھ انشورنس کے تحت صحت کارڈ کی فراہمی کا عمل اگلے سال مارچ تک مکمل کر لیا جائے گا۔اس پروگرام سے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں پرائیویٹ اسپتال قائم کرنے کا رجحان بڑھے گا جنہیں ہم سستی زمینیں فراہم کریں گے اور مشینری پر کسٹم ڈیوٹی میں چھوٹ دینگے۔ہم پانچ سالوں میں ملک کو خوشحال کر کے آئندہ انتخابات میں کامیابی سمیٹیں گے۔ تین بڑے ڈیم بنا رہے ہیں جبکہ دس سال میں دس بڑے ڈیم بنائیں گے جس سے مستقبل قریب میں پانی کے عالمی بحران کا سامنا کرنے کی مکمل تیاری کر لیں گے۔ زچگی کے دوران ماں اور بچے کی ہلاکتوںکی تعداد میں پاکستان سب سے آگے ہے جو ہمارے لئےمقامِ شرمندگی ہے۔

ہر سابق حکمراں کی طرح وزیراعظم نے بھی اب اضلاع کی سطح پر تعمیر و ترقی کے کاموں کا آغاز کردیا ہے اور دیہی علاقوں کے عوام کو صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے لئے اسپتالوں کی تعمیر با لخصوص ماں، بچے کی صحت کی طرف بھر پور توجہ ینے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ خوش آئند ہے ہر سال ملک میں خواتین کی ایک بڑی تعداد زچگی کے دوران اپنی جان کی بازی ہار جاتی ہے جس سے گھرانوں کا سارا نظام بگڑ جاتا ہے۔ اس طرف توجہ دینا ایک احسن اقدام ہے۔صحت کی بنیادی سہولتوں پر نہ صرف بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے بلکہ اسپتالوں سے نومولودبچوں کے اغواکی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر بھی قابو پانا ضروری ہے اور ایسے عناصر کیخلاف قوانین کو سخت بنایا جانا چاہئے،اسی طرح پنجاب بشمول راولپنڈی اسلام آباد میں سفید پوش گھرانوں کو ہیلتھ کارڈ کی بھی میرٹ پر فراہمی کو یقینی بنایاجائے اس میں تیزی لائی جائے، جہاں تک وزیراعظم کا یہ کہناہے کہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں پرائیویٹ اسپتالوں کا رجحان بڑھے گا جنہیں ہم سستی زمینیں فراہم کریں گے اورانہیں مشینری پرکسٹم ڈیوٹی میں چھوٹ دیں گے یہ شاید بلکہ یقیناًظلم ہوگا کیونکہ نجی اسپتالوں نے صحت کی سہولتوں کی فراہمی کو ایک نہایت منفعت بخش کاروبار بنالیا ہے۔

عام بیماری کے علاج کیلئے جانے والا بھی ہزاروں لاکھوں روپے ادا کرکے جان چھڑاتا ہے ٹیسٹ کے نام پر ایک سیریز چلائی جاتی ہے ہزاروں روپے کے عوض ٹیسٹوں کے بعد مہنگی ادویات سے علاج و معالجے کے نام پر تجربات کئے جاتے ہیں جو عموماً قطع زیست پر منتج ہوتے ہیں، بہتر ہے کہ حکومت سرکاری اسپتالوں میں ایسی بہترین صحت کی سہولتیں فراہم کرے کہ عام اور خاص ہر شخص علاج کراکے صحت حاصل کرسکے۔ اب کچھ ذکر ِخیر چینی بحران کا بھی کہ وزیر اعظم عوام کو اس قدر تڑپانے کے بعد کیافرمارہے ہیں۔ چینی کے بحران پر وزیراعظم نے دلچسپ لیکن حقیقت پسندانہ موقف اپنایا کہ جب معلومات لیں تو پتہ چلا کہ سندھ کی تین شوگر ملز بند پڑی ہیں جس کی وجہ سے پنجاب اور دیگر علاقوں میں شوگر مافیا نے ذخیرہ اندوزی شروع کر دی، پھر جب ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کے احکامات جاری کئے تو پتہ چلا کہ انہوں نے تو رواں سال جولائی سے اپنے خلاف کارروائی کے سلسلے میں اسٹے آرڈر لیا ہوا ہے۔شوگر کمیشن رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کو شوگر ملوں سے پانچ سوارب روپے ٹیکس وصول کرنا ہے اور کمپیٹیشن کمیشن نے شوگر ملز پر چالیس ارب روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہوا ہے لیکن یہ دونوں معاملات ابھی ا سٹے آرڈر کی وجہ سے التوا کا شکار ہیں۔ انہوں نے یہ عقدہ کھولنے کے بعدوزیراعلیٰ پنجاب المعروف وسیم اکرم پلس سے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل کو حکم دیں کر یہ ا سٹے آرڈر جلد ختم کروائیں تا کہ شوگر مافیا کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔اب دیکھیں کہ وہ کبُ حکم دیتے ہیں اور کب شوگر مافیا جرمانہ ادا کرتا ہے اور پانچ سو ارب ٹیکس بھی،پھربھی اگر چینی سستی نہ ہوئی تو کیا ہوگا گڑ اور شکر کی بھی قیمتیں اوپرچلی گئی ہیں ،گڑشکر سے بھی مہنگا ہے،کھانڈ تو قصہ پارینہ کب کی بن چکی ہے۔ شاید حکیم ادویات میں استعمال کرتے ہونگے۔ کئی ایک علاقوں میں مافیا کی زبردستی پر گڑ بنانے پرپابندی بھی ہے کیونکہ اگر عوام نے اس کو متبادل بنالیا تو شوگر ملز مالکان کے گلشن کا کاروبار کیسے چلے گا ایک دل جلے نے کہاہے کہ ترین کی سستی چینی پھیکی تھی یہ ایک سو ساٹھ میں بکنے والی چینی میٹھی ہے۔

اب دل تھامئے کہ تین برس میں خوردنی تیل کی قیمت میں 130فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ 160 روپے سے 369روپے کلو ہو گیا مینوفیکچررز، ہول سیلرز اور مڈل مین نے 170سے 190رب روپے اضافی منافع کمایا 300بااثر افراد 15سو ارب روپے کی مجموعی خوردنی تیل کی مارکیٹ پر قابض ہیں۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، خوردنی تیل کی قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے سے مینوفیکچررز، ہول سیلرز اور مڈل مین کو مجموعی طور پر اگست 2018 سے ستمبر، 2021تک 170ارب روپے سے 190 ارب روپے تک اضافی منافع حاصل ہوا ہے۔ جہاںتک وزیراعظم کے اس بیان کا تعلق ہےکہ ہم حکومت پر تنقید کرنے والوں کو پانچ سال بعد جواب دیں گے۔ سابقہ حکومتیں حکمرانی کے دوران آئندہ الیکشن کا سوچتی تھیں اور ہم غریب عوام کا سوچ رہے ہیں۔بات ایسی بھی سیدھی نہیں ہے کہ صرف تعمیر و ترقی کے کام ہی انہیں عام انتخابات میں کامیابی دلائیں گے اس شدید مہنگائی کے بعدعوام ہی فیصلہ کریں گے کہ اگلے پانچ سال بھی انہیں چیخیں مارنی ہیں یا کسی متبادل کو منتخب کرنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں