imran khan1 61

وزیر اعظم کی دور اندیشانہ تجاویز

59 / 100

وزیر اعظم عمران خان نے کورونا وائرس سے دنیا بھر میں چالیس لاکھ انسانی جانوں کے اتلاف اورکھربوں ڈالر کے مالی نقصانات سے پیدا ہونے والے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے عالمی برادری کے سامنے جو دوراندیشانہ تجاویز پیش کی ہیں وہ اس وبا سے پہلے والی صورتحال کی بحالی، ترقیاتی مقاصد پر عملدرآمد اور ماحولیاتی اہداف کے حصول میں بے حد کارآمد ہو سکتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مستقل سیاسی فورم برائے پائیدار ترقی کے اجلاس سے ورچوئل خطاب میں انہوں نے درست کہا کہ عالمی معیشت اس وقت تک بحال نہیں ہو سکتی جب تک امیر ممالک ترقی پذیر ملکوں میں ترقیاتی مقاصد اور ماحولیاتی اہداف کے حصول کے لئے فنڈز اور سرمایہ کاری میں اضافہ نہیں کرتے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے 4300ارب ڈالرکی فراہمی پر زور دیا اور کہا کہ بدقسمتی سے ترقی پذیر ممالک اب تک اس رقم کے 5فیصد سے بھی کم فنڈز تک رسائی حاصل کر سکے ہیں۔ ان کی یہ تجاویز بھی فوری توجہ کی متقاضی ہیں کہ ترقی پذیر ممالک سے سرمائے کی غیر قانونی منتقلی روکی جائے اور ان کے چوری شدہ اثاثہ جات واپس کئے جائیں۔ انہوں نے زیادہ مساویانہ، مستحکم اور خوشحال دنیا کی تشکیل کیلئے تنازعات کے پرامن و منصفانہ حل اور عالمی تعاون کو فروغ دینے پر بھی زور دیا ۔ اس کے علاوہ کورونا ویکسین کی تیاری میں تیزی لانے اور اس کی جلد تقسیم یقینی بنانے کیلئے بھی کہا۔ پاکستان میں کورونا وبا کاذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس پر قابو پانے کیلئے کامیاب اقدامات کئے۔ خصوصاً سمارٹ لاک ڈائون سے لوگوں کی قیمتی جانیں اور ان کا روزگار بچایا۔ کورونا کی مختلف اقسام سے دنیا میں بہت تباہی پھیلی ہے اس کا زور اب تک نہیں ٹوٹا۔ اور جانی و مالی نقصانات کا سلسلہ تسلسل سے جاری ہے۔ ایسی صورتحال سے دنیا متحد ہو کر اور باہمی تعاون سے ہی نمٹ سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے فورم پر پیش کی جانے والی وزیر اعظم کی تجاویز پر عملدرآمد عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں