dr mujahid mansoori 101

وزیر اعظم کا کثیر جہتی دورۂ سعودی عرب.ڈاکٹر مجاہدمنصور

8 / 100

ان سطور کی اشاعت پر وزیر اعظم عمران خان سعودی عرب میں ہوں گے۔ ان کا یہ دورہ اس لحاظ سے بہت ہی اہمیت کا حامل ہے کہ دوطرفہ پاک سعودی تاریخی اور گہرے تعلقات میں گزشتہ کچھ عرصے سے جو عارضی لیکن حساس نوعیت کا اضطراب پیدا ہوا ہے، وہ ختم ہوگا اور دونوں ملکوں میں نتیجہ خیز تعلقات کا ایک نیا دور شروع ہونے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ شاید وہ ہونے جا رہا ہے، جو مطلوب بھی تھا اور بالآخر ہونا ہی تھا۔ اب یہ جلد ہوکر بھی بہت خوب ہوتا نظر آ رہا ہے۔ دورے کی ابتدائی نوعت کی اطلاعات سے ہی یہ اندازہ ہوگیا کہ وزیر اعظم عمران خان کا یہ دورہ پاک سعودی تعلقات کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ پورے خطے اور وسیع تر ہمسائیگی کی تیزی سے تبدیل ہوتی صورتحال میں دوطرفہ ہی نہیں کثیر جہتی ہوگا جس کے اثرات اتنے مثبت اور دوررس ہوں گے کہ پاکستان اور سعودی عرب کا نیا دور شدت سے مطلوب انٹرریجنل کوآپریشن کا نقطۂ آغاز ہوگا۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ کے 4 سالہ دور میں سائوتھ چائنہ کا تنازع گھڑنے کے بعد فلسطین جیسے عشروں سے سلگتے جلتے مسئلے کو اسرائیل کی مرضی کے مطابق وائٹ ہائوس میں بٹھائے گئے داماد کی تیار کردہ ’’ڈیل آف سینچری‘‘کے ناروا دبائو سے حل کرانے کے لئے عربوں پر آئوٹ آف دی وے دبائو ڈالا گیا ۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے اور مقبوضہ علاقوں کو ضم کرناجائز قرار دے دیا گیا۔ امریکی مفادات سے ماورا مودی کی دیدہ دلیری کی بلواسطہ اتنی مہلک حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ اپنا ہی آئین بلڈوز کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کو (اپنے تئیں) ہڑپ کرنے کا مرتکب ہوا۔ جب سب کچھ ہو گیا تو ثالثی کے پردے ڈالتا رہا۔ ایران سے اوباما انتظامیہ کا محدود ایٹمی پروگرام کا معاہدہ ختم کرکے تہران، ریاض کشیدگی بڑھا کر اسرائیل کو ایران کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کرنے کی کھلی شہ دی گئی۔ بحر ہند سے بحرالکاہل تک جنگی ماحول بنانے کیلئے اسرائیل، بھارت اور جاپان کا اتحاد مشترکہ مفادات کی بجائے اپنے دبدبے سے تشکیل دیا۔ گزشتہ دو اڑھائی سال میں اس کرافٹڈ صورتحال نے جنوبی کوریا اور جاپان سے لے کر سعودی عرب اور لبنان تک پورے ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کوکسی بڑی جنگ کے واضح امکانات و خطرات سے دو چار رکھا جبکہ یمن اور شام پہلے ہی جنگ زدہ اور عراق و افغانستان غیر ملکی عسکری بوجھ تلے دبے ہوئے تھے، اتنا کہ خود بوجھ ڈالنے والے بھی تھک کر چور ہوگئے۔ ٹرمپ کے ذاتی دوست بن جانے والے مودی نے ’’آزاد کشمیر‘‘ فتح کرنے کے جنون میں فضائی حملے میں جس طرح پاکستان سے زخم کھایا وہ دونوں ملکوں میں مسلسل کشیدگی اور جنگ کے منڈلاتے خطرات کی وجہ بنا۔ مختصر عرصے میں پورے براعظم ایشیا اور چین کے سمندروں سے قریب تر،اس جنگی سے ماحول میں چین کی شہرہ آفاق ’’بے قابو‘‘ ترقی کا رخ جنگی تیاریوں کی طرف موڑا گیا۔ سات عشروں پر محیط پاکستانی خارجہ تعلقات کا تلاطم خطے اور بین الاقوامی کتنے ہی اہم ملکوں کی خارجی امور کی پالیسی سازی اور حکومتی اقدامات میں ایک بڑا حوالہ رہا۔ ہمارا سیاسی طبعی جغرافیائی، نظریاتی تشخص، علاقائی و عالمی سیاست میں اتحادی سیاست میں سرگرم ہونے، مسلسل سلامتی کے خطرے سے دو چار رہنے، بحیثیت مجموعی ملک میں سیاسی و اقتصادی عدم استحکام کے غلبے، پاکستان کی داخلی کیفیت اور خارجی امور میں جتنا گہرا تعلق پیدا کیا، ایسا دنیا میں کم ہی ہوتا ہے۔ لیکن بحیثیت قوم اس کو پورا سمجھ نہ پائے اور بڑے بڑے نتیجہ خیز درست اور بڑے خسارے کے فیصلے کرتے رہے۔ اپنی خارجہ پالیسی کی اس سرگرم تاریخ میں پاکستان نے عملی سفارت کاری کی بڑی مثالیں قائم کیں۔ یورپی یونین اورآسیان کے حوالے سے علاقائی بندوبستکی کامیاب مثالیںسامنے آنے کے باوجود جنوبی ایشیا بھارتی علاقائی بالادستی کی ہوس کے باعث پہلے سے ہی فریقین امن عالم کو خطرات سے سے دو چار کردینے والے ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ (مغربی ایشیا) متذکرہ سیاسی ، عسکری ماحول میں دو تین بڑے بڑے سوال پیدا ہوئے ہیںکہ کیا گزشتہ چار پانچ سال میں ’’ٹریڈ وار‘‘ اور اپنی سلامتی کے بےدلیل قومی مفادات کی آڑ میں پہلے سے پرآشوب مشرقِ وسطیٰ کو مزید جلانے، بھڑکانے اور جزواً مکمل معتوب کرنے کے بعد، مشرقی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا، جنوبی مغربی ایشیا اور پورے مغربی ایشیا (بشمول ایران وترکی) کو سلامتی کے نئے چیلنجز اور خطرات سے دو چار نہیں کیا گیا؟ کیا عالمی امن سے متصادم اور قابل قبول کسی بڑی طاقت یا عسکری اتحاد کو ایشیا کو میدانِ جنگ میں تبدیل کرنے سے روکنے کی اس کے سوا بھی کوئی صورت ہے کہ متذکرہ خطرناک عزائم کو کافور کرنے کے لئے اپنا اپنا دفاع کرنے یا انفرادی لاتعلقی اختیار کرنے کی بجائے مشترکہ دفاع کی حکمت عملی اختیار کی جائے۔ کافی حد تک امریکہ میں ٹرمپ کی ہار، نومنتخب بائیڈن انتظامیہ کے بھی افغانستان سے نیٹو کے انخلا کے فیصلے اور اس پر عملدرآمد کے آغاز، صدر بائیڈن کے چین و روس سے متصادم ہونے سے گریز کے اعلان، پھر ایشیا و مشرق وسطیٰ کی حکومتوں سے اپنے اختلاف ختم اور خطرات کا مل کر مقابلہ کرنے کی ظاہر ہوتی سوچ، مودی اور نیتن یاہو کے تیزی سے غیر مقبول ہونے کی نئی صورت نے مسلسل فکرِ امن عامہ کو فکرِامن عالم میں تبدیل کرنے کے امکانات تو پیدا کئے ہیں لیکن اس کے متوازی پورے عالمی معاشرے کو کوویڈ کے خطرات و احتیاطوں کے ساتھ ہی زندگی گزارنے کے لئے تیار ہونے سے مشکوک عالمی بیانیے کو نئے اور آسانی سے قابو میں نہ آنے والے تاویلی حربوں اور خطرناک ہتھکنڈوں کے طور پر نہیں لیا جارہا؟ اس کا تقاضا یہ نہیں کہ اقوام متحدہ کے کردار و مقاصد کے ازسر نو جائزے، عالمی امن اور غالب غربت جیسے عالمی المیے پر عالمی مکالمے کو ممکن بنانے کے لئے ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی اجتماعی قیادت، مجموعی عالمی قیادت کو ایڈریس اور انگیج کرے۔ WMDS کے فقط استعمال کے خدشات ہی ان کے انسداد کو یقینی بنانے کے نام پر جو ہلاکت خیز جارحانہ اقدامات کئے گئےنتائج کو زیر بحث لانے، پھر اقوام متحدہ میں زیر التوا فیصلوں پر عمل درآمد کے لئے ایک عالمی تحریک چلائیں’’قومی مفادات‘‘ کی مفصل تشریح کی جائے۔دہشت گردی کی تعریف کے ساتھ اس کی جملہ اقسام خصوصاً ریاستی دہشت گردی کی واضح نشاندہی کرکے انسداد دہشت گردی کے ایجنڈے کو موثر اور مکمل کیا جائے۔ کیا پاکستان اور بھارت چین و روس، ترکی و سعودی عرب، ایران و افغانستان ، انڈونیشیا وملائشیا، جاپان اور کوریا کی قابل قبول حجم کی قیادت کا کوئی پلیٹ فارم بنانے یا بنے کو سنوارنے کے لئے امریکہ، یورپ اور لاطینی امریکہ کو انگیج کرنے کی کوئی عالمگیر سعی کرکے اداس، مخدوش، خوفزدہ، ابتلا وابتری سے جکڑی دنیا کو محفوظ اور انسانیت کے لئے پرسکون اور انسانی زندگی کو متوازن و مستحکم بنانے کے لئے عالمی تنظیموں اور حکومتوں میں ہلچل پیدا کرنے کی کوئی راہ ہے؟ کوویڈ ۔19اور آج دنیا خصوصاً گنجان آباد بھارت کی بدتر انسانی حالت و کیفیت ہم سے کتنے اور کیا کیا سوال کر رہی ہے؟۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں