60

وزیر اعظم عمران خان نے 120 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کا اعلان کر دیا

وزیر اعظم عمران خان نے ایک سو بیس ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان کردیا، گھی، آٹا، دال اگلے چھ ماہ تک سستی ملے گی، حکومت 30فیصد سبسڈی دے گی۔

قوم سے خطاب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ریلیف پیکج سے دو کروڑ خاندانوں کو فائدہ ہو گا، کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت 40 لاکھ خاندان بلاسود قرض لے سکیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ شہروں میں کاروبار کے لیے اور دیہات میں کسان 5 لاکھ روپے بلا سود قرضے دیئے جائیں گے، خاندان کے ایک فرد کو ہنر سکھایا جائے گا،، ملکی تاریخ میں سب سے بڑا اسکالر شپ پیکج لا رہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ خاندانوں کا ڈیٹا نہ ہونے کی وجہ سے سبسڈی دینا مشکل تھا، پاکستان میں کبھی بھی معاشی حالات اتنے برے نہیں تھے جو ہمیں ملے، قرضہ زیادہ، تاریخی خسارہ تھا، زرمبادلہ ذخائر نہ ہونے کے برابر تھے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، امارات اور چین کے شکر گزار ہیں ان کی وجہ سے دیوالیہ نہیں ہوئے، ڈالر کی کمی کی وجہ سے آئی ایم ایف جانا پڑا، ایک سال ملک کو مستحکم کرتے رہے، پھر کورونا آگیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سوسال میں کورونا جیسا بحران دنیا میں نہیں آیا، کورونا سے صرف پاکستان ہی نہیں ساری دنیا متاثر ہوئی ہے۔

بھارت میں لاک ڈاؤن کے بعد مجھ پر بہت دباؤڈالا گیا، کورونا سے بہترین طریقے سے نکلنے پر پاکستان کی تعریف ہوئی ، کورونا سے بھارت میں معیشت منفی سات تک پہنچ گئی۔

عمران خان نے کہا کہ سب سے بڑا خوف یہ تھا کہ لوگ بے روزگار ہوں گے، لاک ڈاؤن سے بچ کر اسمارٹ لاک ڈاؤن لگائے، معیشت بند نہیں کی۔ زراعت، درآمدات اور تعمیرات کو ہم نے لاک ڈاؤن سے بچایا۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے فلاحی پروگرام کا اعلان کررہا ہوں۔

عمران خان نے کہا کہ 40 ہزارخاندانوں کے لیے سود کے بغیر قرضوں کا پروگرام لارہے ہیں، سود کے بغیر قرضوں سے گھر بنائے جاسکتےہیں،شہروں میں بھی سود کے بغیر 5 لاکھ روپے کا قرضہ دیا جائےگا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کامیاب جوان پروگرام کےتحت 22 ہزار بزنسز کےلیے قرضے دیئے، پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اسکالر شپ پروگرام دے رہے ہیں،60 لاکھ اسکالر شپس پر47 ارب روپے خرچ کررہےہیں، اس میں صوبے بھی شامل ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ دو کروڑ خاندانوں کےلیے پیکج لارہےہیں، 13کروڑ پاکستانیوں کو فائدہ ہوگا، گھی، آٹا اور دال پر 30فیصد سبسڈی ملےگی،

120 ارب روپے کا پیکج لارہے ہیں،کامیاب پاکستان کےلیے 1400ارب روپے کی فنڈنگ رکھی ہے، 40لاکھ خاندانوں کےلیے سود کے بغیرقرض پروگرام لارہے ہیں،کسان کو 5لاکھ روپے بغیر سود قرض ملے گا،شہروں میں کاروبار کے لیے 5لاکھ قرض ملےگا،خاندان کے ایک فرد کو ہنر سکھایا جائےگا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ مہنگائی کا واقعی مسئلہ ہے،اپوزیشن کا کام ہی تنقید کرنا ہے، مثبت تنقید سے معاشرے کا فائدہ ہوتا ہے،لوگوں پر بوجھ ہماری وجہ سے پڑا یا دنیا کے حالات سے، پاکستان میں مہنگائی 9فیصد، دنیا میں 50فیصد ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جرمنی میں 50سال بعد سب سے زیادہ مہنگائی ہوئی،امریکا میں 116فیصد تک قدرتی گیس کی قیمتیں بڑھیں، یورپ میں 300فیصد تک گیس کی قیمتیں بڑھیں، پاکستان میں گھروں کو دی جانے والی گیس کی کوئی قیمت نہیں بڑھی۔

عمران خان نے کہا کہ سب چیزیں ملک میں پیدا ہوں تو قیمت نہ بڑھنے دیں،سامان لانے والے جہازوں کے کرائے بڑھ گئے ہیں۔

حزب اختلاف پر تنقید

حزب اختلاف پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن مہنگائی کیخلاف سڑکوں پر نکلی ہوئی ہے، میں پاکستان کے دو بڑے خاندانوں سے کہتا ہوں کہ لوٹی ہوئی دولت پاکستان واپس لائیں، میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں آدھی کردوں گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں