24

وزیراعلیٰ پنجاب کا الیکشن جلد کرائیں، مل بیٹھ کر مسئلہ کا حل نکالا جائے، تماشا نہ لگائیں، لاہور ہائیکورٹ

لاہور(نمائندہ نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس امیر بھٹی نے وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب کرانے کیلئے حمزہ شہباز و دیگر کی متفرق درخواستوں پر فریقین کومعاملہ افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ہدایت کر دی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا الیکشن جلد از جلد کرائیں، تماشا نہ لگائیں، بیٹھ کر مسئلہ حل کریں،عدالت نے دیکھنا ہے کیا پنجاب اسمبلی کا اجلاس اس طرح ملتوی کیا جاسکتا ہے، باربار پوچھ رہے ہیں الیکشن میں تاخیر کیوں کی گئی،الیکشن پراسیس شروع ہو جائے تو اجلاس ملتوی نہیں ہو سکتا،اسمبلی میں توڑ پھوڑ کی مرمت کراکر خوش اسلوبی سےالیکشن کرائے جائیں ،پرویز الٰہی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے جواب جمع کرانے کیلئے مہلت مانگ لی،کامل علی آغا کی طرف سے فریق بننے کی استدعا کردی گئی۔ چیف جسٹس امیر بھٹی عدالت کے روبرو درخواست میں فریق بننے کے لیے ق لیگ کے وکیل عامر سعید راںنے مؤقف اختیار کیا کہ ہمارے اراکین کو محبوس رکھا ہوا ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آپ کے امیدوار چوہدری پرویز الٰہی فریق ہیں، اجلاس بلائیں اور وہاں یہ معاملہ دیکھیں،حمزہ شہباز کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہم بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ اجلاس بلائیں، جسٹس امیر بھٹی نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں متعلقہ اتھارٹی سے پوچھنا ہے کہ الیکشن کیسے کرانا ہے؟ سب جواب دیں الیکشن کیسے ہو گا اور اس کا طریقہ کار کیا ہے؟سرکاری وکیل نے کہا کہ حمزہ شہباز کی درخواست میں کئی حقائق چھپائے گئے ہیں جبکہ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے استعفے کے بعد اب یہ عہدہ خالی ہے،عدالت نے سیکرٹری پنجاب اسمبلی سے پوچھا کہ آپ کے پاس ریکارڈ ہے؟ جس پر انہوں نے بتایا کہ یکم اپریل کو استعفیٰ منظور اور 2 اپریل کو الیکشن شیڈول کا اعلان ہوا، ہمیں کاغذات نامزدگی موصول ہوئے جن کی جانچ پڑتال بھی ہو گئی، کاغذات نامزدگی منظور ہوئے، ووٹنگ کے لیے اجلاس 3 اپریل کو طلب کر لیا گیا،سیکرٹری اسمبلی نے کہا کہ اجلاس کے پریزائڈنگ افسر ڈپٹی اسپیکر تھے، ہنگامہ آرائی ہونے پر اجلاس ڈپٹی اسپیکر نے ملتوی کر دیا، اپوزیشن نے ہاؤس میں توڑ پھوڑ کی، یہ رات 8 بجے تک لابی میں رہے، ہمارے پاس ساری ویڈیوز موجود ہیں، میں نے رپورٹ کیا کہ کیا کیا نقصان ہوا،سیکرٹری اسمبلی نے مزید بتایا کہ سوشل میڈیا سے پتہ چلا کہ 6 اپریل کو ایک کاغذ پر لکھا تھا کہ اجلاس کرائیں، یہ کاغذ کسی کو مارک نہیں ہوا، ہم نے انٹرنیٹ سے نکالا، ہم نے اس کا 6 اپریل کو معائنہ کیا، اس کاغذ پر 5 تاریخ لکھی ہے، ہم نے ڈپٹی اسپیکر کو کئی فون کیے لیکن انہوں نے فون نہیں اٹھایا، ہم نے چیک کیا کہ یہ لیٹر کہیں اسمبلی میں جمع نہ ہوا، ہم نے یہ سب اسپیکر کو بتایا، اسپیکر نے ڈپٹی اسپیکر سے اسپیکر کے اختیارات واپس لے لیے، عدالت نے استفسار کیا کہ اختیارات واپس لینے کی وجہ کیا بنی؟ جب آپ کو یہ لیٹر ملا ہی نہیں تو آپ نے عمل کہاں کرانا تھا؟سیکرٹری اسمبلی نے بتایا بعد میں تحریک عدم اعتماد آگئی اسکے بعد ڈپٹی اسپیکر اجلاس نہیں بلا سکتا تھا، جس پر چیف جسٹس نے پوچھا یہ کہاں لکھا ہے؟ میں ڈپٹی اسپیکر سے اسپیکر کے اختیارات واپس لینےکا پوچھ رہا ہوں کہ یہ کیوں کیا؟ عدالت کے پاس صرف سوال یہ ہے کہ الیکشن ملتوی کس قانون کے تحت کیا؟ بظاہر اجلاس ملتوی نہیں ہو سکتا تھا، مجھے یہ لگتا ہے الیکشن کا وقت بدل سکتا ہے لیکن دن نہیں بدل سکتا، یہ پارلیمنٹ کے کام میں مداخلت نہیں ہے، اسپیکر تو خود امیدوار ہیں انہوں نے ڈپٹی اسپیکر کے اختیارات واپس لے لیے،وکیل چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ اسمبلی رول 25 کی حد تک اختیارات واپس لیے گئے، جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ جس نے بھی الیکشن کی تاریخ بدلی وہ کس قانون کے تحت کیا، کوئی بھی الیکشن شیڈول سے ہٹ کر کیسے تاریخ بدل سکتا ہے؟وکیل اسپیکر پنجاب اسمبلی علی ظفر نے کہا کہ پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کے کام میں عدالت مداخلت نہیں کر سکتی، سپریم کورٹ میں یہ معاملہ آیا تھا لیکن اس پر کوئی حکم نہیں آیا،چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے سنا تھا ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے اس پر سپریم کورٹ میں کوئی بیان دیا تھا۔ عدالت میں اسپیکر اسمبلی کے وکیل علی ظفر اور حمزہ شہباز کے وکیل اعظم نذیر تارڑ کے مابین سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ آپس میں جھگڑا نہ کریں، آخری اطلاعات آنے تک چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی ہدایت پر وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے ایڈووکیٹ جنرل آفس میں اجلاس ہو رہا تھا، اجلاس میں اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر ، سیکرٹری پنجاب اسمبلی، وزیر اعلیٰ کے امیدواران کے وکلا بھی موجود ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ رولز کے مطابق جو میں سمجھ سکتا ہوں کہ الیکشن کی تاریخ تبدیل نہیں ہو سکتی، وزیراعلیٰ کا انتخاب خوش اسلوبی سے کرائیں، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور امیدوار مل کر حل نکالیں، جو بھی فیصلہ کریں عدالت کو آگاہ کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں