31

والدین تحفظ آرڈیننس کے تحت پہلا مقدمہ، ماں باپ کو گھر سے نکالنے والا بیٹا گرفتار

50 / 100

مظفر گڑھ میں والدین تحفظ آرڈیننس کے تحت پہلے مقدمہ درج کرلیا گیا اور والدین کو گھر سے نکالنے والے بیٹے کو ایک ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنا دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق والدین تحفظ آرڈیننس 2021 کے تحت مظفرگڑھ کے نواحی علاقہ موضع لٹکراں بستی چاہ بھکر والا کے رہائشی محمد اقبال اور غلام فاطمہ نے ڈپٹی کمشنر انجینئر امجد شعیب خان ترین کو درخواست دی کی ان کے بیٹے مختیار حسین کا رویہ ان کے ساتھ اچھا نہیں ہے وہ ان کے ساتھ مار پیٹ کرتا تھا، تشدد کرتا تھا اور ایک سال قبل ان کو گھر سے نکال دیا۔ غلام فاطمہ مختلف گھروں میں کام کر کے گزر بسر کرتی تھی اور محمد اقبال قوت سماعت سے محروم ہے۔ جس پر ڈپٹی کمشنر انجینئر امجد شعیب خان ترین نے محمد اقبال، غلام فاطمہ اور ان کے بیٹے مختیار حسین کو اپنے آفس میں طلب کیا اور فریقین سے ان کا موقف سنا اور فریقین کو آپس میں تصفیہ کرنے کا موقع دیا۔

مختیار حسین نے اپنے والدین سے معافی طلب کی اور ان کو اپنے ساتھ گھر لے جانے کا کہا لیکن والدین اپنے بیٹے کو معاف کرنے کیلئے تیار نہیں تھے۔ ڈپٹی کمشنر انجینئر امجد شعیب خان ترین نے آرڈیننس تحفظ والدین 2021 کے تحت مختیار حسین کو ایک ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کا فیصلہ سنایا ہے اور متعلقہ ایس ایچ او تھانہ سول لائن مظفرگڑھ کو محمد اقبال اور غلام فاطمہ کا گھر خالی کراکے ان کے حولے کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ واضع رہے کہ گزشتہ ماہ صدر پاکستان عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت تحفظ والدین آرڈی ننس 2021ء جاری کیا تھا جس کے تحت والدین کو گھروں سے نکالنا قابل سزا جرم قراردیا گیا ہے۔

اس آرڈیننس کا مقصد بچوں کی جانب سے والدین کو زبردستی گھروں سے نکالنے کے خلاف تحفظ فراہم کرنا ہے، نئے قانون کے تحت والدین کی جانب سے شکایت موصول ہونے پر پولیس کو بغیر وارنٹ بچوں کی گرفتاری کا اختیار دیا گیا ہے، ڈپٹی کمشنر والدین کی جانب سے شکایت پر کارروائی کا مجاز ہے۔ آرڈیننس کے تحت والدین اور بچوں دونوں کو اپیل کا حق حاصل ہے، بچوں کی جانب سے گھر نہ چھوڑنے کی صورت میں ڈپٹی کمشنر کو کارروائی کا اختیار ہوگا، وقت پر گھر خالی نہ کرنے کی صورت میں 30 دن تک جیل، جرمانہ یا دونوں سزاؤں کا اطلاق ہوسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں