dr mujahid mansoori 47

نیویارک میں عالمی سیاست کا بازار گرم. ڈاکٹرمجاہد منصوری

قارئین کرام! یہ خبر بہت توجہ طلب ہے کہ عالمی سیاست کے مرکز و محور نیو یارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 76واں سالانہ اجلاس عالمی سیاست کے تیز تر تغیر پذیر ماحول میں بلند درجے پر گرم ہو گیا ہے۔

اِس سے قبل کہ عالمی سیاست کے بڑے بڑے کھلاڑی جنرل اسمبلی کے فورم پر بنفس نفیس یا آن لائن عالمی معاشرے سے مخاطب ہو کر اپنا اپنا مدعا بیان کرتے، روایت کے برعکس اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل جناب اینٹونیو گوئتریس نے اپنا مقدمہ پیش کردیا۔

خبردار کیا کہ ’’چین اور امریکہ کے درمیان امکانی نئی سرد جنگ پہلے کے مقابلے میں زیادہ تباہ کن ہو سکتی ہے۔ پہلی سرد جنگ میں دونوں فریقوں کو ایٹمی تباہ کاری کے خطرات کا ادراک تھا جبکہ فی الوقت بحران سے نمٹنے کا کسی کے پاس کوئی تجربہ نہیں۔

ہر قیمت پر سرد جنگ سے بچنا ہوگا کیونکہ یہ ماضی سے مختلف ہوگی اور غالباً زیادہ ہی خطرناک ہوگی، جسے سنبھالنا بہت مشکل ہوگا‘‘۔

اقوامِ متحدہ ہیڈ کوارٹر کے ابلاغی نظام کے طریق کار اور روایات کے برعکس سیکرٹری جنرل کی امریکہ اور چین کو یہ وارننگ بہت غیر معمولی اور دنیا بھر کی حکومتوں، سفارتی دنیا اور عالمی امن واستحکام پر علمی و تحقیقی کاوشیں کرنے والے تھنک ٹینکس کے لئے بہت توجہ طلب ہے۔

انہوں نے یہ انتباہ امریکن نیوز ایجنسی اے پی کو انٹرویو دیتے ہوئے دیا ہے۔گمان غالب ہے کہ یہ انٹرویو عالمی قیادت کو متنبہ کرنے کا خصوصی اہتمام تھا۔ دو روز بعد سیکرٹری جنرل گوئتریس کے انتباہ پر امریکی صدر جوبائیڈن کا فیڈ بیک عالمی فورم پر آیا۔

اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرد جنگ نہیں چاہتے، جاری عشرہ دنیا کے مستقبل کا تعین کرے گا، انہوں نے موجودہ عشرے کو دنیا کے لئے تباہ کن قرار دیتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی اور کورونا وبا کو اہم چیلنجز قرار دیا اور کہا کہ ہم ان کا مقابلہ گولی اور بم سے نہیں کرسکتے، تاہم فوجی طاقت کا استعمال آخری آپشن ہونا چاہئے۔

گویا جنگ خارج از امکان نہیں۔ صدر بائیڈن کی تقریر کا اہم پہلو یہ تھا کہ انہوں نے خارجہ پالیسی کی پریکٹس کے چار میں سے دو انسٹرومنٹس ’’ڈپلومیسی‘‘ اور ’’جنگ‘‘ کوزیر بحث لاتے ہوئے عسکری طاقت کو زیادہ سے زیادہ نظر انداز کرنے اور مذاکراتی (ڈپلومیسی) سرگرمیوں کو جارحانہ انداز میں بڑھانے پر زور دیا۔

یقیناً عالمی امن کا تقاضا تو یہ ہی ہے لیکن اس کےبرعکس ہوتا آیا ہے اور اب بھی نظر آ رہا ہے۔

جنرل اسمبلی میں امریکی صدر نے اپنے مسلمہ سفارتی بیانیہ ’’پہلی ترجیح ڈپلومیسی (مذاکرات) اور چارو ناچار آخری جنگ ‘‘ کو بنانے سے پہلے سائوتھ چائنہ سی کی چنگاری کو فلیش پوائنٹ میں تبدیل کرنے کا اہتمام کرنے کے لئے AUKUS کا جو ’’دفاعی‘‘ بحری اتحاد بنایا ہے اس کا علاقائی امن و استحکام سے متصادم شاخسانہ فوراً نکل آیا۔

امریکہ اور فرانس، آسٹریلیا اور فرانس، برطانیہ اور فرانس اور کسی حد تک امریکہ و یورپی یونین میں بھی ٹھن گئی ہے۔ برطانیہ اور آسٹریلیا جن کا تشخص عرصے سے یورپی یونین کے بڑے، مستحکم اور پرامن ملکوں کا رہا ہے۔

ٹرمپ دور میں چین کی عالمی تجارت میں حاصل کامیابیوں سے پیدا ہونے والے حسد سے سائوتھ چائنہ سی کو جو نیا بحری تنازعہ بنا دیا گیا اس کے بعد ہر دو انگلش اسپیکنگ پرامن ملکوں کا تشخص اب ’’سرگرم عسکری اتحادی‘‘ کے طور بڑھ رہا ہے۔

صدر بائیڈن نے اپنے خطاب میں سوائے مسئلہ کشمیر کے فلسطین سمیت کئی دیرینہ اور افریقہ کے متعدد چند برسوں سے پیدا ہوئے متنازعات کے حل کو مذاکرات سے ہی حل کرنے پر زور دیا تاہم واضح ہوگیا کہ انتخابی مہم میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی موجود طویل ترین محبوس و مقہور حیثیت پر جو زور دار پرو کشمیری بیانیہ بنا کر مسلم خصوصاً پاکستانی ووٹرز کو اپنی حمایت میں کیا تھا وہ سب اب بھارت سے دفاعی اتحاد کی نذر ہوگیا۔

تاہم ترکی کے صدر طیب ایردوان نے پاکستان اور کشمیر سے اپنی قلبی محبت کا حق ادا کرتے ہوئے ٹھوس اصولوں پر ایک بار پھر جنرل اسمبلی میں تنازع کشمیر پر پاکستانی اور کشمیرکے تاریخی موقف کی زور دار اور بار بار وکالت کی جو وزیراعظم عمران خان کے گزشتہ سال کے اجلاس کا موثر فالو اپ ثابت ہوا۔

اس پر بھارت کا تلملانا بنتا تھا، سو اس نے قبرص کے مسئلے کو کھڑا کرکے جوابی وار کیا، لیکن مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا ثابت شدہ کردار اور بنیادی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں، بھارت کو بغیر کسی رسمی مقدمے کے ہی مکمل مجرم بنا چکی ہیں۔

اس کے دستاویزی ثبوت بشمول پاکستان کے خلاف بھارتی دہشت گردی کی جملہ کارروائیوں کے ثبوت کا ڈوزیئر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی ہم منصب بلنکن کو ملاقات میں دیا۔ ایسے میں بھارت کا قبرص کے مسئلے کو اٹھانا ایک بوگس جواب رہا۔

اس سارے تناظر میں بڑا سوال یہ ہے کہ سیکرٹری جنرل گوئتریس کا امریکہ اور چین کو سرد جنگ سے باز رہنے کا انتباہ واقعی ’’انتباہ‘‘ ہی ہے یا انہوں نے (یقیناً پہلی سے زیادہ خطرناک) شروع ہو چکی سرد جنگ کی بڑھتی شدت کو انتہائی محتاط انداز سے کم کرنے کی کوشش کی ہے؟ جوان کی عظیم ذمہ داری کا تقاضا ہے۔

پہلی سرد جنگ کتنی ہی دو طرفہ اور علاقائی سطح کی جنگوں کا باعث بنی۔ پاک بھارت جنگیں، عرب اسرائیل جنگ، دو خلیجی جنگیں، افغان جہاد، پھر سرد جنگ کے خاتمے کے بعد بھی یہاں 20 سالہ جنگ نیٹو بمقابلہ طالبان، آذربائیجان آرمینیا جنگ ، اسرائیل اور فلسطینیوں کی کتنی ہی چھوٹی بڑی جھڑپیں، آذربائیجان نے زور بازو سے اپنا مقبوضہ علاقہ اور طالبان نے 20 برس پر محیط طویل ترین گوریلا جنگ اور مذاکرات (دونوں سے ہی) سے اپنا ملک نیٹوسے بازیاب کرایا۔

صدر بائیڈن مسئلہ فلسطین دو ریاستی قیام سے حل کرنے کی بات تو کر گئے ، غنیمت ہے۔

دیکھنا ہے اسے ڈپلومیسی سے حل کرنے کے لئے کیا کرتے ہیں۔ شام، عراق اور یمن کا کیس کیا ہے؟ بات چیت (ڈپلومیسی) کو سارے عالمی و سیاسی کھیل سے خارج تو نہیں کیا جاسکے گا۔

لیکن اس پر ایک پرائیویٹ عالمی کمیشن کا قیام نہیں بنتا؟ کہ جو اس امر کا تعین کرے کہ پہلی سرد جنگ (91-1951) کے فقط تیس سال بعد ہی اب جو سرد جنگ شروع ہوگئی یا بقول سیکرٹری جنرل شروع ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے، اس کا انتہائی آغاز (GENESIS) کہاں سے ہوا؟

پاک بھارت تعلقات اور کشمیر کی گھمبیر صورت حال کیا پیغام دے رہی ہے شروع ہوئی سرد جنگ یا جس کا خطرہ بقول یو این سیکرٹری جنرل منڈلا رہا ہے، امریکہ اور چین کی بڑھتی مخاصمت سے شروع نہیں ہوئی؟ یا ہو سکتی ہے۔

بڑا زور دار واضح مختصر ترین وقت میں ہی بار بار ثابت شدہ کیس یہ نہیں بن گیا کہ ہر دو بڑی عالمی اقتصادی طاقتوں میں کاروباری نوعیت کی مخاصمت کا آغاز کھلی مارکیٹ میں ٹرمپ کے امریکہ اور مودی کے بھارت کے اس حسد سے شروع ہوا جس کا عملی اظہار سائوتھ چائنہ سی کا خطرناک شوشہ چھوڑنے اور سی پیک پر مشترکہ حسد اور شدت سے اس کی مخالفت سے ہوا اور اس میں جوبائیڈن انتظامیہ بھی سابقہ ٹرمپ والے کھیل کی تقلید کرتے ہوئے واضح نہیں ہوتی جارہی ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں