نیلسن منڈیلا کی زنگی کا مختصر خلاصہ 58

نیلسن منڈیلا کی زنگی کا مختصر خلاصہ

Nelson Mandela
نیلسن منڈیلا کی زنگی کا مختصر خلاصہ

ابتدا ئی زندگی :
دنیا میں ہر دور میں ظلم و استبداد کے خلاف جہاد کرنے کے لئے باہمت لوگ میدان میں کودے اور انہوں نے بھاری قیمت چکا کر ظالم کا سر جھکا دیا۔ کچھ ایسے ہی لوگوں میں ایک نام نیلسن منڈیلا کا بھی ہے جو 27سال تک قید بامشقت کاٹنے کے بعد جب رہا ہوئےتو اس کے استقبال کے لئے لاکھوں انسانوں کا ہجوم تیار کھڑا تھا۔
نسلی امتیاز کے خلاف تحریک کے علمبر دار اور جنو بی افریقہ کے پہلے سیا ہ فا م صدر نیلسن منڈیلا18جو لا ئی 1918 کو جنو بی افر یقہ کے علا قے ٹرا نسکئی میں پیدا ہو ئے ۔ وا لدین نے اُن کا نام رو لا لہ (Rolahla) رکھا جس کا مطلب مصیبت کو للکار نے والا ہے ۔اگر چہ نیلسن منڈیلا کے وا لدین تعلیم یا فتہ نہیں تھے مگر ان کی و الدہ نے سات سا ل کی عمر میں انہیں سکول بھیجا ۔ نیلسن منڈیلا اپنے قبیلے کا پہلا فرد تھاجس نے سکول میں دا خلہ لیا۔ نیلسن منڈ یلا خود کہتے تھے کہ

’’ سکول میں پہلے روز ہماری استانی نے تما م طلبہ کو انگریزی نا م دئیے یہ اُن دنوں جنوبی افر یقہ میں روا ج تھا اور اس میں کو ئی شک نہیں کہ سفید فام استانی کو ہمارے نام مشکل ہونے پر اعتراض تھا ۔ مجھے نیلسن کا نا م دیا گیا اور مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے میرے لئے اس نا م کا انتخا ب کیوں کیا ‘‘

منڈ یلا کی عمر جب 19 بر س کی ہو ئی تو فور ٹ ہیئر یو نیور سٹی (Fort Hair University) میں اُن کی ملا قا ت اولیور ٹیمبو( (Oliver Tambov سے ہو ئی اور پھر دونوں عمر بھر سا تھ ر ہے ۔ منڈ یلا نے اپنی زند گی کی پہلی بغا وت کا لج کے سال اول کے اختتا م پر یو نیورسٹی کی پالیسو ں کے خلاف کی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کالج انتظامیہ نے کہا یونیور سٹی کی نما ئندہ کو نسل کے انتخابات کو تسلیم کر و ،یا پھر کا لج چھو ڑ دو ۔ منڈ یلا نے کا لج چھو ڑ دیا مگر تعلیم کا شو ق اس کے دل کوبے قر ا ر کرتا رہا ۔اس نے جیل میں رہتے ہو ئے یو نیور سٹی آ ف لند ن سے پر ائیو یٹ طا لبعلم کے طور پر قا نو ن کی ڈگری حا صل کی۔
نیلسن منڈ یلا کے وا لد کا نام گاڈلا ہنری (Gadla Henry) اور وا لدہ کا نام نوقافی نوسکا نی (Noqaphi Nosakani) تھا ۔ جب نیلسن منڈ یلا کی والدہ نو سکا نی 1968میں فو ت ہو ئی تو اسو قت وہ روبن آ ئی لینڈ (Robben Island) میں قید کی زندگی گزا ر ر ہےتھے۔ اسی وجہ سے وہ اپنی والدہ کی تدفین میں شر کت نہ کر سکے۔ نیلسن کی وا لدہ نے اپنے آ با ی گا ؤ ں میں ایک چر چ بھی بنا یاہوا تھا اور وہ اکثر کہا کر تی تھی:’ میرا بیٹا ایک دن دنیا کا عظیم سیا ستدان بنے گا ‘‘۔ جب نیلسن منڈ یلا کی والدہ مر گئی تو نیلسن منڈیلا نے جیل کے کما نڈ نگ آ فیسر سے التجا کی کہ اُس کو وا لدہ کے جنا زہ میں شر کت کیلئے اجا زت دے دیں ۔ کما نڈ نگ آ فیسر نے جوا ب میں کہا:’’مجھے یقین ہے آ پ وعدہ کے سچے ہیں۔ آ پ ضرور وا پس آ ئیں گے لیکن مجھے ڈر اس بات کا ہے کہ آ پ کے اپنے بند ے آ پ کو اغوا کر لیں گے۔‘‘ منڈ یلا کہتے ہیں کہ آ فیسر کا جوا ب سن کر مجھے بے حد صد مہ ہوا کہ میں اپنی ما ں کو دفنا نہ سکا جو کہ بحیثیت بڑے بیٹے کے میری ذمہ داری تھی۔ نیلسن منڈیلا کے وا لد( Gadla Henry )کی و فا ت کے وقت اُس کی عمر 9 سا ل تھی۔ اس طرح بہت بچپن میں ہی باپ کا سا یہ سر سے اُٹھ گیا ۔
تعلیم :
نیلسن منڈ یلا سا ت سا ل کی عمر میں اپنے گا ؤ ں کے’’ و یسلیان سکول (Wesleyan School) میں دا خل ہوئے۔ وہا ں اس نے تین سا لہ کو رس 2 سا ل میں مکمل کیا ۔ دوران تعلیم وہ ایک بہترین اتھلیٹ اور باکسر تھے اور اکثر کھیلو ں میں حصہ لیتے تھے۔ کا لج سے فا رغ ہو کر وہ فور ٹ ہاؤیو نیو رسٹی ((Fort How University میں دا خل ہو گئے، لیکن و ہاں وہ بیچلر ڈگری مکمل نہ کر سکے کیو نکہ اس نے طلبہ کے نما ئند ہ کو نسل کے انتخا با ت کے بار ے میں یو نیور سٹی کی پا لیسیوں کے خلاف بغا وت کر کے یو نیور رسٹی چھو ڑ دی تھی ۔یو نیوررسٹی میں تعلیم کے دوران اُس کے دو ست Oliver Tambo اور Kaiser KD نے اس کی ما ں کے سامنے ہمیشہ اس کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا اور وہ دونوں آ خر دم تک اس کے ساتھ ر ہے ۔ نیلسن کی والدہ نے اُس کیلئے رشتہ تلا ش کیا لیکن نیلسن منڈ یلا Arrange Marriage کے خلاف تھا، اس لئے وہ اپنے گا ؤ ں سے بھا گ کر جوہا نز برگ Johannesburg چلا گیا ۔ جوہا نز بر گ میں بحیثیت ایک کلر ک کا م کرنے لگا اور سا تھ ہی تعلیم بھی جا ری رکھی۔ اس طرح اس نے جوہا نز بر گ میں بی اے کا امتحان پا س کیا۔ اُس کو مسا وات پر یقین تھا۔ اس لئے اس نے اپنی ذہا نت، قا بلیت اورتعلیم کو نہ صرف جنو بی افر یقہ میں مسا وا ت کا علمبر دار بن کر استعمال کیا بلکہ اس نے دنیا کے کو نے کونے میں نا انصا فی کے خلاف اپنی آ وا ز بلند کی۔
سیا سی زندگی :
نیلسن منڈ یلا جنو بی افریقہ کے سا بق اور پہلاجمہوری منتخب شدہ صدر تھا۔ جو 1994سے 1999تک صدر ر ہا ۔ صدر منتخب ہو نے سے پہلے نیلسن منڈیلا اپنے ملک میں نسلی امتیاز کے خلاف تمام تحر یکوں کا با نی ر ہا ۔ جنو بی افر یقہ میں سیاہ فا م لوگوں کو گو رے اپنا غلا م سمجھتے تھے۔ اُن کے سا تھ کھا نا پینا اور شا دی کر نا ناجائز سمجھتے تھے۔ یہا ں تک کہ کر ائے کی بسوں میں اگر کو ئی گورا چڑھ جا تا تو سیٹ نہ ملنے پر سیا ہ فام کو قا نو ناً سیٹ چھوڑ نا پڑ تی تھی۔ اس طرح ظا لما نہ سلو ک روا رکھا ہوا تھا۔ افر یقہ میں سیا ہ فا موں سے بر تے جا نے وا لے نسلی امتیاز کے خلاف انہوں نے تحریک میں بھر پور حصہ لیا اور جنو بی افر یقہ کی عد ا لتوں نے انہیں مختلف جر ائم کی پادا ش میں گر فتار کر کے قید کی سزا سنا دی ۔ نیلسن مندڈیلا نسلی امتیاز کے خلاف تحریک چلا نے کی پاداش میں تقر یباً 2سال قید ر ہے۔ اسے (Robben Island) میں قید ر کھا گیا۔ 11فر ری 1990کو جب وہ ر ہا ہو ئے تو اس نے پر تشد د تحر یک کو خیر آ باد کہہ کر مذا کرات کا را ستہ اپنا نے کا فیصلہ کیا ،جس کی بنیا د پر جنو بی افر یقہ میں نسلی امتیاز کو سمجھنے اور اس سے چھٹکارا حا صل کر نے میں مد د حا صل ہو ئی ۔ نسلی امتیاز کے خلاف تحریک کے خا تمہ کے بعد نیلسن منڈیلا کی تمام دنیا میں پز یرا ئی ہو ئی جس میں اُس کے مخا لف بھی شا مل تھے۔ نیلسن منڈ یلا نے لو گوں کی سو چ بد ل ڈا لی۔وہی لو گ جو نیلسن منڈ یلا کو سو ل نا فر مان ، با غی اور مجرم کہتے تھے بعد میں انسا نیت کا نجا ت دہندہ کہنے لگے ۔
نیلسن منڈ یلا کی چار دہا ئیوں پر مشتمل تحر یک اورخد مت کی وجہ سے اسے250 سے زا ئد انعا ما ت سے نوا زا گیا ۔ ان میں سب سے قا بل ذکر انعا م ’’ نو بل انعا م برا ئے امن ‘‘ ہے ۔ نومبر 2009 میں اقوا م متحد ہ کی جنر ل اسمبلی نے 18جو لا ئی کو نیلسن منڈ یلا کی تا ریخ پیدا ئش کو دنیا میں امن اور آ زا دی کے پر چار کے سلسلے میں ’’ یو م منڈ یلا ‘‘ یعنی منڈ یلا ڈے کے طور پر منا نے کا اعلا ن کیا ۔اس نے حکومت کے معا ملا ت اپنے نا ئب کو سو نپ رکھے تھے اور خود جنو بی افر یقہ کی نئی انٹر نیشنل سا کھ بنا نے میں مصر و ف کار تھے اور اس نے ملک میں مو جو دہ بین الاقوامی ادا روں کو اپنے ملک میں سر ما یہ کاری کرنے پر قا ئل کیا اور اپنی با قا عدہ ریٹا ئر منٹ کے بعد وہ زیا دہ تر عوا می اجتما عا ت میں اپنے فلا حی ا دا رے ’’ نیلسن فا ؤ نڈ یشن ‘‘ کیلئے کا م کر تےر ہے ۔ اس نے فٹ بال کے ور لڈ کپ کی میز انی جنو بی افر یقہ کو دلو ا نے میں بھی اہم کر د ر ادا کیا۔
نیلسن منڈ یلا نے عملی سیا ست کا آ غاز 1948میں اس وقت کیا جب نسلی امتیاز کی حا می جما عت ’’ افر یقن نیشنل پار ٹی ‘‘ بر سر اقتدار آ ئی ۔ اس کے بعد 1952 ء میں منڈ یلا نے افر یقن نیشنل کا نگر س (ANC) نا می پار ٹی کی دفا عی مہم اور 1955 کے کا نگر س آ ف پیپلز کی قیا دت کی جس کے چا ر ٹر آ ف فر یڈ م کی بد و لت نسلی امتیاز کی مخا لف مہم کو تقو یت ملی ۔ اس دوران منڈ یلا اور اُس کے سا تھی اولیو ر (Oliver) نے ایک قا نو نی تحریک چلا ئی ۔ یہ لو گ سیا ہ فا م با شندوں کو ارزاں قا نونی معا ونت فر اہم کر تے تھے۔ ان ہی بر سوں منڈ یلا نے ان قوا نین کی بھی سختی سے مخا لفت کی جن کے تحت جنو بی افر یقہ کے کچھ علا قے صرف سفید فا م باشندو ں کے لئے مخصو ص کئے گئے تھے ،جہا ں جا نے کیلئے سیا ہ فا م باشندوں کو دستا و یزا ت دکھا نے کی ضر ورت پڑتی تھی۔ اس نے پورے ملک کا دورہ کیا اور لوگوں کو ان نسلی امتیازی قوا نین کے خلاف متحر ک کر نے کی کو شش کی ۔ نسلی امتیاز کے خلاف جد و جہد نے نیلسن منڈ یلا کو حکمرانوں کا اہم ہد ف بنا دیا جس کے نتیجے میں 1956 میں ان پر پا بند یاں عا ئد کر دی گئیں ۔ اب نہ تو وہ سفر کر سکتا تھے اور نہ ہی کسی سے ملا قا ت کر سکتاتھے۔ نیلسن منڈ یلا کو تقر یر کر نے پر بھی پا بند ی تھی۔ اسے5دسمبر 1956کو اپنے 150سا تھیوں سمیت گر فتار کر لیاگیا اوراُس پر غداری کا الزا م عا ئد کیا گیا۔ یہ قا نون خصو صی طور پر نسلی امتیاز کے خلا ف متحر ک کا ر کنوں کوہرا سا ں کر نے کیلئے بنا یا گیا تھا۔ منڈ یلا پر مقد مہ چلتا ر ہا اور با لآ خر 1961میں اسے ر ہا کر د یا گیا۔ 1960ء میں پو لیس کی جا نب سے نہتے افر یقیوں کے قتل عا م اور اس کے بعد افریقن نیشنل کا نگرس (ANC) پر پا بند یوں کے بعد منڈ یلا نے اپنی غیر مسلح تحر یک کو خیر باد کہہ دیا۔ اب اس کی زند گی کا مقصد افر یقی حکو مت کا خا تمہ تھا۔ اس دوران وہ مسلسل روپو شی کی زند گی بسر کر تا ر ہا ۔ 1961میں نیلسن منڈ یلا ANC کے فو جی و نگ کا سر برا ہ بنایا گیا۔ 1962میں وہ الجیر یا چلا گیا جہاں اس نے گوریلا جنگ اور ہتھیاروں کی تر بیت حا صل کی ۔ اس کی افر یقہ وا پسی کے تھوڑے ہی عر صے بعد 5 اگست 1962کو اسے ٹر یفک جا م کے دوران گر فتار کر کے 5سا ل کیلئے جیل بھیج د یا گیا۔ اکتو بر 1963ء میں نیلسن منڈ یلا اور اُس کے دیگر سا تھیوں پر تخر یب کا ری اور غدا ری کا مقد مہ چلا یا گیا۔ مقد مے کے دوران اس کی ایک تقر یر جس کا عنوان تھا ’’ میں مر نے کو تیار ہو ں ‘‘ نے دنیا کو اپنے طرف متو جہ کیا ۔ اس تقر یر میں اس نے وا ضح کیا کہ آ خر وہ کیابا ت ہے جس کے با عث اُس کی جما عت پر امن جد و جہد تر ک کرکے ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو ئی۔ 12جو ن 1964 میں نیلسن منڈ یلا کی شہرت میں پھر پور اضا فہ ہوا۔
12جون 1964ء کو نیلسن منڈ یلا کا ایک کے سوا تمام سا تھیوں کو مجر م قرا ر دیا گیا لیکن وہ سزا ئے مو ت سے بچ گئے اور انہیں قید کی سزا سنا ئی ۔ 1964 سے 1982 تک 18برس منڈ یلا کیپ ٹا ؤ ن کے رو بن جز یرے میں قید کا ٹتے رہے۔ جز یرے میں اس نے دیگر سا تھیوں کے سا تھ انتہائی سخت تکا لیف برداشت کیں۔قید کے دوران منڈ یلا کی شہرت میں بھر پور اضافہ ہوا اور وہ سیاہ فاموں کا نجات دہندہ اور ہیرو بن کر ابھرا۔
وہ افر یقہ میں اہم تر ین سیا ہ فا م رہنما کے طور پر ابھر ا اور ما ر چ 1982ء میں منڈ یلا اور ANC کے دیگر رہنما ؤ ں کو جز یرہ روبن سے Pollsmoorجیل منتقل کیا گیا۔ منڈ یلا کی ر ہا ئی کیلئے شد ید عوا می د با ؤ کے با عث فر وری 1985 میں صدر PW B Otha نے منڈ یلا کو اس شر ط پر ر ہا ئی کی پیشکش کی کہ وہ وہ مسلح جد و جہد کو مکمل طور پر تر ک کر دے گا ۔ منڈ یلا نے یہ پیشکش مسترد کر دی اور اس کا کہنا تھاکہ اس طرح کے مذ ا کرا ت کیلئے انسان کا آ زا د ہو نا ضروری ہے ۔ 1989 میں ’’ منڈ یلا کو ر ہا کر و‘‘ کا نعرہ اس قدر مقبول عام ہوا تھاکہ افریقی حکو مت ایک منجھد ار میں پھنس کے رہ گئی ۔ اس دوران صدر بو تھا (Botha) پر فا لج کاحملہ ہوا اور اس کی جگہ F.W.D.klerk کو ملک کا نیا صدر منتخب کیا گیا۔ 1988 میں نیلسن منڈ یلا کو Victor Verster جیل منتقل کر دیا گیا۔ اس دوران منڈ یلا پر کئی پا بند یاں اٹھا لی گئیں ۔اور وہ لو گوں سے ملنے لگا ۔ نئے صدر نے فر وری 1990میں منڈ یلا کی ر ہا ئی کا اعلان کردیا ۔ ر ہا ئی کے فور اً بعد نیلسن منڈ یلا نے ANC کی قیادت سنبھا ل لی اور آ ئند ہ چاربر سوں میں پار ٹی کو عا م انتخابات کیلئے تیار کیا۔ 27اپریل1994 کو جنو بی افر یقہ میں انتخا بات منعقد ہو ئے ۔ ان انتخابات کی خا ص بات یہ تھی کہ پہلی مر تبہ اس میں ہر رنگ ونسل کے با شندو ں نے وو ٹ کا حق استعمال کیا۔ ان انتخابات میں افر یقین نیشنل کا نگریس (ANC) نے 62فیصد وو ٹ حا صل کئے اور نیلسن منڈ یلا 10مئی 1994کو ملک کاپہلا سیا ہ فا م صدر منتخب ہو ا۔ انپی مد ت صدارت کے دورن اس نے نسلی امتیاز اور اقلیتی حکمرانی کے خا تمے کو اپنا مقصد او لین بنا ئے رکھا۔ اُس کی سیا ہ اور سفید فا م با شندوں کے ما بین مفا ہمت کی پا لیسی کو عالمی سطح پر ز بر دست پز یرا ئی ملی ۔ منڈ یلا کے دور صدا رت میں بڑے پیما نے پر سما جی اور معا شی اصلا حا ت ہو ئیں ۔ نیلسن منڈ یلا نے 1995میں (Truth and Reconciliation Commission) بنا یا جس نے نسلی امتیاز کے تحت انسا نی حقوق کی خلاف ورزی کی تحقیق کر نی تھی۔ نیلسن منڈ یلا نے سیا ہ فا م برادری کا معیار زند گی بہتر بنا نے کیلئے رہائش، معاشی ، اور تعلیمی تر قی کیلئے مؤ ثر اقدا ما ت کئے ۔منڈ یلا کو جنو بی افر یقہ کا دوسری مرتبہ کیلئے صدر بننے کی خوا ہش نہیں تھی۔ نیلسن منڈ یلا کی جگہ 1999میںThabo Mbeki صدر بنا ۔ صدر کا عہد ہ چھو ڑ نے کے بعد نیلسن منڈ یلا نے سیا ست سے کنا رہ کشی اختیار کر لی لیکن امن ،مفا ہمت اور سما جی انصا ف کا پیا مبر بن کر دنیا میں اُس کی خدما ت جا ری ر ہیں ۔ منڈ یلا کا شمار ’’Elders‘‘ کے با نی ار کان میں بھی ہو تا ہے ۔ عا لمی رہنما ؤ ں پر مشتمل اس گروپ کا قیا م 2007 میں عمل میں آ یا جس کا مقصد دنیا بھر میں مسا ئل اور تنا ز عا ت کو حل کر ناتھا ۔ 2008منڈ یلا کی 90ویں سا لگرہ پر جنو بی افر یقہ بر طا نیہ ، اور دنیا کے دیگر مما لک میں منڈ یلا کی نسلی امتیاز کے خلا ف جد و جہد کو بھر پور خرا ج تحسین پیش کیا گیا۔ نیلسن منڈ یلا کو اُس کی خد مات پر 250سے زا ئد اعزازات سے نوا زا گیا۔ جن میں سب سے قا بل ذکر 1993کا نو بل پرا ئز برا ئے امن ہے ۔ نو مبر 2009میں اقوام متحد ہ کی جنر ل اسمبلی کی جا نب سے 18جو لا ئی کو نیلسن منڈ یلا کی تا ریخ پیدا ئش کے دن(Mandela Day) یو م منڈ یلا منا نے کا اعلان کیا۔
نیلسن منڈ یلا کے اقوال :
۱۔ ’’آزادی کیلئے ضروری نہیں کہ تم زمین وآ سمان خرید لو البتہ یہ ضرور کرو کہ صرف اور صرف خود کو مت بیچو‘‘۔
۲۔ ’’بہا در وہ نہیں ہو تا جسے خوف محسوس نہیں ہو تا بلکہ بہا در وہ ہو تا ہے جو خوف کوفتح کر تا ہے ‘‘۔
۳۔ تعلیم سب سے طا قتور ہتھیار ہے جس سے آ پ دنیا کو تبدیل کر نے کیلئے ا ستعمال کر سکتے ہیں۔
۴۔ خا مو ش لو گوں کا دما غ بہت با آ واز ہو تا ہے ۔
۵۔ غر بت خیرا ت سے نہیں انصاف سے ختم ہو تی ہے ۔
اعزازات و انعا مات :
۱۔ Nobel peace Prize 1993
۲۔ Bharat Ratna 1990
۳۔ Times person of the year 2002
۴۔ بیچلر آ ف آ رٹس ڈگر ی (یونیو ر سٹی آف جنو بی افریقہ ) (1942)
۵۔ یو نیور سٹی آ ف لیڈ ز کے اعزازی صدر برا ئے یونین (1964)
۶۔ لند ن یو نیور سٹی کے طلبہ یو نین کی ا عزازای رکنیت ۔ (1964)
۷۔ لیسیٹو (Lesotho) یو نیور سٹی کی طرف سے بیر سٹری کی ڈگری۔ (1979)
۸۔ جو ہر لا ل نہر و ایوار ڈ ۔ (1979)
۹۔ برو نو کر یشکی ایوار ڈ (Bruno Kirksey Award) (1981)
۱۰۔ لند سکول آ ف اکنا مکس اور پو لیٹیکل سا ئنس کا اعزازی صدر۔ (1982)
۱۱۔ روم کی طرف سے اعزازی شہریت۔ (1983)
۱۲۔ نیو یارک سٹی کا لج کی طرف سے اعزازی قانون کی ڈگر ی ۔ (1983)
۱۳۔ یونیسکو ایوارڈز ۔ (1983)
۱۴۔برطا نیہ کی طرف سے قا نون میں ڈا کٹر یٹ کی ڈگری۔ (1983)
۱۵۔ برسلز یونیورسٹی کیطرف سے اعزازی ڈگری۔ (1984)
۱۶۔ بر طانیہ کے (NALGO) ادارے کی طرف سے ممبر شپ۔ (1984)
۱۷۔ تھر ڈ ولڈ پرا ئز ۔ (1985)
۱۸۔ برازیل کی طرف سے اعزازی شہریت۔ (1985)
۱۹۔ سپین کی طرف سے امن ایوارڈ ۔ (1986)
۲۰۔ ڈا کٹر یٹ آف لا ء زمبا بوے یو نیورسٹی ۔ (1986)
۱۲۔ اعزازی ڈگری یونیورسٹی۔ (1986)
۲۲۔ اعزازی ڈاکٹر یٹ ڈگری بر ائے قانون کینڈ ا یو نیورسٹی۔ (1986)
۲۳۔ اقوا م متحد ہ کی طرف سے ’’انسنی ھقوق کا چو تھا انعا م ۔ (1987)
۲۴۔ یو نیور سٹی آف بولونگنا (bologna) کی طر سیا ست کی ڈگری۔ (1988)
۲۵۔ ائر لینڈ کی طرف امن ایوار ڈ ۔ (1989)
۲۶۔ لینن پیس پر ائز ۔ (1990)
۲۷۔ یو نیسکو کو امن انعام ۔ (1991)
۲۸۔ نشانِ پاکستان۔ (1992)
۲۹۔ نو بیل امن انعام ۔ (1993)
۳۰۔ شیخ یو سف امن ایوارڈ مسلم وومین فیئر رشن۔ (1994)
۳۱۔ افریقہ امن ایوارڈ ۔ (1995)
۳۲۔ اندرا گا ندھی ایوارڈ ۔ (1995)
۳۳۔ کیمبرج یو نیور سٹی کی طر ف سے اعزازی ڈگری۔ (1997)
۳۴۔ یو نیور سٹی آف فلیا ئن کیطرف سے اعزازی ڈگری ۔ (1997)
۳۵۔ جنو بی آسٹر یلیا یو نیور سٹی کی طرف سے ڈا کٹریٹ کی ڈگری ۔ (1998)
۳۶۔ گاندھی کنگ ایوارڈ ۔ (1999)
۳۷۔ آسٹر یلیاکی نیشنل یو نیور سٹی کی طرف سے ’’ڈاکٹر آف لینڈز‘‘۔ (2000)
۳۸۔ جنو بی افریقہ کے انسانی حقوق کمیشن کی طرف سے انسانی حقوق پرائز۔ (2001)
۳۹۔ یو نیور سٹی آف گا نا کی طرف سے اعزازی ڈا کٹر یٹ کی ڈگری۔ (2002)
۴۰۔ ائیر نیڈ نیشنل یو نور سٹی کی طرف سے اعزازی ڈا کٹر یٹ ڈگری (2003)
۴۱۔ افریقہ ایلی فنٹ (Elephant) ایوارڈ۔ (2004)
۴۲۔ Amherst کا لج کی طرف سے اعزازی ڈگری۔ (2005)
۴۳۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل ایمبیسیڈر آف سا ئنس ایوارڈ ۔ (2006)
۴۴۔ بلغراد، سر بیا کی طرف سے اعزازی شہریت ۔ (2007)
۴۵۔ کو پن ہیگن یو نیور سٹی کی جا نب سے اعزازی ڈا کٹر یٹ کی ڈگری ۔ (2008)
۴۶۔ اقوام متحد ہ کی طرف ’’یو م منڈیلا‘‘ کا اعلان۔ (2009)
۴۷۔ انٹر نیشنل یو نیور سٹی نیٹ ورک کی جا نب سے اعزازی ڈا کٹر یٹ کی ڈگری۔ (2010)
۴۸۔ کو پن الز بتھ II-ڈائمنڈ جو بلی ایوارڈ ۔ (2012)
۴۹۔ نا ئیجیر یا کی طرف سے ’’آرڈر آ ف فیڈ رل دی پبلک ۔
۵۰۔ ایسٹ جر منی کی جا نب سے فر ینڈ شپ ایوارڈ۔
نیلسن منڈیلا کی تصا نیف :
نیلسن منڈ یلا ایک بہترین منصف بھی تھے۔ انہوں نے بہت سی کتا بیں لکھی جن کی تفصیل یہ ہے:
۱۔ آزادی کاایک لمبا سفر۔ Long Walk to Freedom
۲۔ اپنے آ پ سے گفتگو ۔ Conversation with Myself
۳۔ نیلسن منڈ یلا کے الفاظ میں ۔ In the worlds of Nelson Mandela
۴۔ مد یبا کا جادو۔ Madiba Magic
۵۔ آزادی کی طرف مشکل سفر ۔ No Easy Walk to Freedom
۶۔ جہاد میری زند گی ہے ۔ The Struggle is My Life
۷۔ کتنے دور سے ہم غلام آ ئے ہیں؟ ۔ How far we slaves have come?
۸۔ نیلسن منڈ یلا کی باتیں ۔ Nelson Mandela speaks
۹۔ نیلسن منڈ یلا کی سوانح عمری۔ Autobiography of Nelson Mandela
۱۰۔ آزادی کو حکمرانی کی اجا زت دیں ۔ Let Freedom Reign
۱۱۔ جرات کو کا ہل ہونے کی اجازت نہ دیں ۔ Dare Not Linger
وفات:
جنو بی افر یقہ کا پہلا سیا ہ فا م صدر نسلی امتیاز کے خلاف تحریک کا علمبر دار اور عا لمی شہرت یا فتہ سیا ست دان 5دسمبر2013کو اس جہان فانی سے کو چ کر گیا۔ اسے اس کے آبا ئی گا ؤ ں ’’Qunu‘‘ میں سر کاری اعزاز کے سا تھ دفنا یا گیا ۔ پوری قوم نے نیلسن منڈ یلا کی یا د میں دس دن کا سر کا ری سو گ منا یا ۔ قومی سطح پر اس کی تد فین کی رسو ما ت 15دسمبر 2013 کو ادا کی گئیں ۔ 95000 لو گوں نے اُن کی نماز جنا زہ میں شر کت کی حالا نکہ مو سم کی خرا بی اور بارش کیو جہ سے کا فی لو گ مذہبی رسو ما ت میں شر کت کر نے سے قا صر ر ہے ۔ نیلسن منڈ یلا جیسے عا لمی شہرت یا فتہ سیا ستدان دنیا میں بہت کم پیدا ہو ئے ہیں، سفید فام اور سیاہ فا م میں فرق مٹا نے وا لا یہ نڈر لیڈ ر آج بھی کرو ڑوں لو گوں کے دلوں کی دھڑکن ہے اورآزادی کے لئے لڑنے والے اس سے روشنی حاصل کرتے رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں